سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ اور اپنی تنخواہوں میں 700 فیصد تک اضافہ کر لیا
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2025ء) "سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ اور اپنی تنخواہوں میں 700 فیصد تک اضافہ کر لیا"۔ تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی محمد مالک نے بجٹ کے حوالے سے وفاقی حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ محمد مالک کا کہنا ہے کہ "عوام کو کہتے ہیں کہ پیٹ کاٹو، خرچے کم کرو اور خود حکومت نے اپنے اخراجات 18 فیصد بڑھا دیے۔
حکومت نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ اور اپنی تنخواہوں میں 700 فیصد تک اضافہ کرلیا، انہیں عادت پڑگئی ہے کہ پیسے کہاں سے اکٹھے کرنے ہیں۔ جبکہ سینئر صحافی ثناء اللہ خان کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ وزیر خزانہ سے سوال پوچھا گیا کہ مزدور کی کم سے کم اجرت کیوں نہیں بڑھائی گئی تو انہوں نے جواب دیا کہ صنعتکار اور سرمایہ دار نہیں مان رہے۔(جاری ہے)
جبکہ گزشتہ روز پریس کانفرس کرتے ہوئے وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ حکومت بجٹ میں جو کچھ ریلیف دے رہی ہے وہ قرضے لے کر دے رہی ہے، مالی گنجائش کے مطابق ہی ریلیف دے سکتے ہیں، مالی خسارے کی وجہ سے ہر چیز قرضہ لے کر کر رہے ہیں، ہمیں اپنی چادر کے مطابق آگے چلنا ہے۔ جبکہ جمعرات کے روز وفاقی وزیر خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کے اجلاس میں مالی سال 2026 کے بجٹ میں ڈھانچہ جاتی اصلاحات، مستقبل کی سمت، ٹیکسوں کی تعمیل اور انہیں یکساں بنانے کے اقدامات اور معیشت کے سدھار، معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری اور عالمی اداروں کے پاکستانی معیشت پر بڑھتے ہوئے اعتماد پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہاکہ حکو مت نے پچھلے سال افراط زر کو 23.4 فیصد سے 4.6 فیصد تک کم کیاہے،شرح سود 22 فیصد کی ریکارڈ بلند سطح سے 11 فیصد کی سطح پر آ گئی، ملکی معیشت کا حجم تاریخ میں پہلی دفعہ 400 ارب ڈالر کی حد کو عبور کر لیا گیا ہے،پچھلے سال کی نسبت جی ڈی میں 10.5 فیصد اضافہ ہوا، ایف بی آر کے محصولات میں 26 فیصد اضافہ ہوا۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ معیشت کے اعتبار سے ملکی قرضوں میں کمی اور پہلی دفعہ نہ صرف بروقت قرض ادائیگی کی گئی بلکہ ایک ٹریلین روپے قرض مدت سے قبل ادا کیا گیا، ترسیلات زر اس سال 38 ارب ڈالر تک ہوں گی، پچھلے دو سالوں میں ترسیلات زر میں 10 ارب ڈالر کا ریکارڈ اضافہ ہوا۔ انہوں نے کہاکہ ملکی ایکسچینج ریٹ سال بھر مستحکم رہا، زرمبادلہ کے ذخائر 9.4 ارب ڈالر سے بڑھ کر 11.5 ارب ڈالر ہو گئے، پرائمری سرپلس معیشت کے تین فیصد کر برابر ہو گیا جو پچھلے 20 سالوں کی بلند ترین سطح ہے، پچھلے سال کے 1.3 ارب ڈالر کرنٹ اکا ئونٹ خسارہ کی نسبت اس سال کرنٹ اکا ئونٹ 1.9 ارب ڈالر سرپلس ہے، ملکی برآمدات میں تقریباً 7 فیصد اور بالخصوص آئی ٹی برآمدات میں 21 فیصد کا ریکارڈ اضافہ ہوا۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ ان تمام معاشی کا میابیوں اور حاصل شدہ اہداف کو عالمی مالیاتی اداروں، سروے کمپنیوں اور ریٹنگ ایجنسیوں نے تسلیم کیا، فچ اور دیگر ریٹنگ ایجنسیوں نے پاکستان کی ریٹنگ کو اپ گریڈ کیا، محض معیشت میں بہتری منزل نہیں، بلکہ یہ ایک بڑی منزل کے حصول کا راستہ ہے،ہم اس راستے پر عزم اور یقین سے جمے رہیں گے اور ایک دیرپا اور پائیدار معاشی خوشحالی کا خواب پورا کریں گے۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ حکو مت نے ٹیرف، ٹیکس نظام، توانائی، پنشن اور نجکاری شعبے میں بنیادی اور کلیدی اصلاحات کیں، اپوزیشن کے ڈھنڈورے کے باوجود سال بھر میں کوئی منی بجٹ نہیں آیا، ہم نے ٹیکس بنیادوں کو وسعت دی، انفورسمنٹ اور کمپلائنس سے ٹیکس لیکجز کو کم کیا۔ وزیر خزانہ نے کہاکہ بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دیا گیاہے جبکہ کا رپوریٹ سیکٹر کے لیے ٹیکس میں کمی گئی،تعمیراتی شعبے کو فروغ دیا گیا، متوسط طبقے کو گھروں کی تعمیر کے لیے سستے قرضے دیں گے۔ انہوں نے کہاکہ زراعت پر کوئی نیا ٹیکس نہیں لگایا گیا،چھوٹے کاروباروں کو مالیاتی معاونت فراہم کی جارہی ہے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں 700 ارب سے زائد اضافہ کیا گیاجس سے ایک کروڑ سے زائد گھرانے مستفید ہوں گے۔انہوں نے کہاکہ ٹیرف اور خام مال کی ڈیوٹیوں میں کمی کے ذریعے ایکسپورٹرز کو فائدہ پہنچا کربرآمدات بڑھائی جائیں گی۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے وزیر خزانہ نے کہاکہ انہوں نے کہاکہ تنخواہوں میں فیصد اضافہ اضافہ ہوا ارب ڈالر فیصد تک
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔