بجٹ میں حکومت کا دہرا معیار
اشاعت کی تاریخ: 12th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگ زیب نے منگل کے روز مجلس شوریٰ کے ایوان زیریں، قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2025-26ء کا میزانیہ پیش کیا جس کی مجموعی مالیت 17 ہزار 573 ارب روپے ہے اور 6501 ارب روپے کا خسارہ بتایا گیا ہے، میزانیہ میں چھے سو اسی ارب روپے کے اضافی ٹیکس عائد کیے گئے ہیں۔ بھارت کی جانب سے گزشتہ ماہ پاکستان پر مسلط کی گئی جنگ اور بھارت کے جارحانہ عزائم کے پیش نظر آئندہ برس کے دفاعی بجٹ میں بیس فی صد کا اضافہ ناگزیر سمجھا گیا ہے تاہم قومی خزانے پر اندرونی و بیرونی قرضوں کا بوجھ تشویش ناک حدوں کو چھو رہا ہے وزیر خزانہ کے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کے دوران 6.
حکومتی اخراجات میں کمی کے دعوے وزیر اعظم بھی اپنی اکثر تقریروں میں کرتے رہتے ہیں اور وزیر خزانہ نے اپنی بجٹ سے متعلق وضاحتی پریس کانفرنس میں بھی دعویٰ کیا ہے کہ حکومتی اخراجات میں جتنی کمی کر سکتے تھے ہم نے کی ہے مگر اس دعوے سے متعلق زمینی حقائق خاصے مختلف ہیں اور جو میزانیہ برائے 2025-26ء وفاقی وزیر خزانہ نے قومی اسمبلی میں پیش کیا ہے اس کے مطابق حکومتی اخراجات میں کمی کے بجائے نمایاں اضافہ دیکھا جا سکتا ہے اور کابینہ کے جاری اخراجات میں موجودہ سال کے مقابلے میں اگلے برس دو گنا اضافہ کیا گیا ہے تنخواہوں اور مراعات کے لیے کابینہ کا بجٹ 35 کروڑ 18 لاکھ سے بڑھا کر 68 کروڑ 87 لاکھ روپے، وفاقی وزرا اور وزرائے مملکت کی تنخواہوں اور مراعات کے لیے مختص رقم 27 کروڑ سے بڑھا کر 50 کروڑ 54 لاکھ روپے، وزیر اعظم کے مشیروں کی تنخواہوں اور مراعات کے لیے تین کروڑ 61 لاکھ روپے سے بڑھا کر 6 کروڑ 31 لاکھ روپے اور وزیر اعظم کے معاونین خصوصی کی خدمات کے صلہ میں تین کروڑ 70 لاکھ روپے کے بجائے گیارہ کروڑ 34 لاکھ روپے ادا کرنے کا ارادہ ظاہر کیا گیا ہے اشرافیہ کے دیگر طبقات کے اخراجات میں بھی اسی تناسب سے اضافہ کیا گیا ہے۔ آئندہ برس کے میزانیہ میں اشرافیہ کے لیے بے دریغ نوازشات کی بارش اور عام سرکاری ملازمین اور غربت و مہنگائی کے مارے ہوئے نچلے طبقات کے لیے وسائل کی عدم دستیابی کا جو ڈھنڈورا وزیر خزانہ پیٹ رہے ہیں یہ حکومت کے دہرے معیار کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر خزانہ پریس کانفرنس میں کی تنخواہوں اور اخراجات میں قومی اسمبلی ارب روپے کا اور مراعات لاکھ روپے کیا گیا گیا ہے کے لیے
پڑھیں:
سونے کی قیمت میں اضافہ، فی تولہ سونا 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے ہوگیا
کراچی: پاکستان میں سونے کی قیمت میں اضافہ مسلسل دوسرے روز بھی جاری رہا، جس کے بعد مقامی صرافہ بازاروں میں فی تولہ سونا 4 ہزار 600 روپے مہنگا ہو گیا۔
آل پاکستان صرافہ جیمز اینڈ جیولرز ایسوسی ایشن کے مطابق اضافے کے بعد 24 قیراط فی تولہ سونے کی نئی قیمت 4 لاکھ 33 ہزار 836 روپے مقرر کی گئی ہے۔
ایسوسی ایشن کے مطابق 10 گرام سونے کی قیمت میں بھی 3 ہزار 944 روپے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کے بعد نئی قیمت 3 لاکھ 71 ہزار 944 روپے ہو گئی۔
دوسری جانب چاندی کی قیمت میں بھی معمولی اضافہ دیکھا گیا۔ فی تولہ چاندی 7 روپے اضافے کے بعد 6 ہزار 403 روپے جبکہ 10 گرام چاندی 6 روپے مہنگی ہو کر 5 ہزار 489 روپے کی سطح پر پہنچ گئی۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی سونے کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا تھا، جب فی تولہ سونا 4 ہزار 700 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 29 ہزار 236 روپے تک پہنچ گیا تھا، جبکہ 10 گرام سونے کی قیمت 4 ہزار 29 روپے اضافے کے بعد 3 لاکھ 68 ہزار روپے ہوگئی تھی۔
عالمی مارکیٹ میں بھی قیمتی دھاتوں کے نرخ بڑھنے کا رجحان برقرار ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 46 ڈالر اضافے کے بعد 4 ہزار 114 ڈالر ریکارڈ کی گئی، جبکہ چاندی کی عالمی قیمت 0.07 ڈالر اضافے سے 59.24 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں سونے کی قیمتوں میں اضافے، امریکی ڈالر کی نقل و حرکت، شرح سود اور جغرافیائی کشیدگی جیسے عوامل مقامی مارکیٹ پر بھی براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں، جس کے باعث پاکستان میں سونے کی قیمتوں میں مسلسل اتار چڑھاؤ دیکھا جا رہا ہے۔