Islam Times:
2026-06-03@08:30:10 GMT

کچورا کے بزرگ عالم کی رخصتی اور ایک تعزیتی روداد

اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT

کچورا کے بزرگ عالم کی رخصتی اور ایک تعزیتی روداد

اسلام ٹائمز: شیخ حسین نجفی کی پوری زندگی دینِ مبین کی خدمت مکتبِ اہلِبیت (ع) کی تبلیغ اور ملتِ تشیع کی رہنمائی میں گزری۔ انکا مزاج نرم اور عمل متقیانہ تھا۔ علمائے کرام نے انکی علمی، دینی اور ملی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ انکی سادگی، اخلاص اور دین سے محبت نے انہیں لوگوں کے دلوں میں زندہ کر دیا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کچورا کی فضا میں خاموشی کی چادر تان دی گئی ہو، لیکن اس خاموشی میں بھی ایک پیغام گونج رہا تھا، وہ چراغ جو بجھا ہے، اسکی لو اب سینکڑوں دلوں میں جلتی رہے گی۔ اللہ تعالیٰ شیخ حسین نجفی مرحوم کو جوارِ معصومین علیہم السلام میں بلند مقام عطا فرمائے اور انکے اہلِخانہ بالخصوص علامہ شیخ اعجاز حسین بہشتی اور انکے برادران کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ تحریر: آغا زمانی

کچورا وہ وادی ہے، جو اپنے سکون و اخلاص کے مرکز ہونے پر فخر کرتی ہے، ایک بڑے صدمے سے دوچار ہوئی۔ 31 مئی 2025ء کا دن نہ صرف ایک گھرانے بلکہ پوری ملت کے لیے سوگ کا پیغام لایا۔ علامہ شیخ اعجاز حسین بہشتی جو انجمن امامیہ کچورا کے صدر اور راہیانِ نور کچورا کے سرپرست اعلیٰ ہیں، ان کے والد بزرگوار، عالمِ باعمل شیخ حسین نجفی اس دارِ فانی کو چھوڑ کر ابدی سفر پر روانہ ہوگئے۔ یکم جون اتوار کی صبح سورج آہستگی سے پہاڑوں کے پیچھے سے جھانک رہا تھا، لیکن امام بارگاہ کچورا کے صحن میں چہرے غم سے جھکے ہوئے تھے۔ ہر آنکھ اشکبار، ہر دل افسردہ تھا۔ جنازہ اٹھایا گیا تو وہ فقط ایک پیکر نہیں ایک کردار، ایک علمی و دینی روایت کو کاندھوں پر لیے جا رہا تھا۔ شیخ حسین نجفی کی نماز جنازہ میں شرکت کرنے والوں کا جمِ غفیر بتا رہا تھا کہ یہ شخصیت صرف گھرانے کی نہیں ایک ملت کی تھی۔

گورنر گلگت بلتستان سید مہدی شاہ، ایم ڈبلیو ایم کے چیئرمین سینیٹر علامہ راجہ ناصر عباس جعفری اور دیگر اعلیٰ شخصیات نے تعزیتی پیغامات ارسال کیے۔ وزیراعلیٰ گلگت بلتستان کی جانب سے مبشر علی خان نے تعزیتی پیغام پہنچایا۔ انجمن امامیہ بلتستان کے نائب صدر شیخ زاہد حسین زاہدی، سابق چیف جسٹس اپیلیٹ کورٹ جی بی وزیر شکیل، ممبر جی بی اسمبلی وزیر سلیم، سابق اسپیکر فدا محمد ناشاد، مجلس وحدت مسلمین گلگت بلتستان کے صدر مجاہد ملت آغا علی رضوی، سیاسی شخصیت عمران ندیم، ڈی آئی جی رسول صاحب، کراچی سے علامہ شیخ ایوب صابری، علامہ سید صادق شاہ رضوی، وزیر تعلیم گلگت بلتستان غلام شہزاد آغا، شیخ فدا حسین عابدی و علمائے شگر کا وفد۔

تحریک انصاف کے متحرک رہنماء تقی اخونزادہ، سینیئر صحافی نثار عباس کے ہمراہ حسین آباد و سدپارہ سے وفد، بشو سے شیخ شمشیر مبلغی، پنجاب دینہ سے سید حسنین نقوی اپنے وفد کے ہمراہ، ایس پی حسن صاحب، میرواعظ وادئ گول جناب سید محمد علی شاہ، جامعہ العباس کے پرنسپل شیخ محمد طہٰ وفد کے ہمراہ، چیف انجینئر وزیر رسول، معروف بلڈر یعقوب شہباز، معروف ثناء خوان احمد رضا ناصری، معروف کاروباری شخصیت وزیر عابد، بلتی کے معروف شاعر اخوند محمد حسین حکیم، مرکزی علمائے کریس و امام جمعہ کریس، گلگت سے تشریف لائے ہوئے مجلس وحدت مسلمین کے صوبائی رہنماء الیاس صدیقی، غلام عباس، عارف قنبری، عمران حسین، ساجد حسین اور وفد کے معززین۔

ایم ڈبلیو ایم کے رہنماء اور ممبر جی بی اسمبلی شیخ اکبر رجائی، ڈی ایس پی سٹی غلام نبی، سابق اسپیکر و قائم مقام گورنر و وزیر تعمیرات سید امجد علی زیدی، علامہ ڈاکٹر یونس، فرزند قائد بلتستان (علامہ شیخ غلام محمد الغروی) علامہ مرزا یوسف حسین امام جمعہ مسجد نور ایمان کراچی، علامہ آغا سید طہٰ شگر، آغا سید مظاہر امام جمعہ حسین آباد سکردو و نوربخشیہ امامیہ کے رہنماء و دیگر معززین، مرکز اہلحدیث سکردو کے سربراہ ڈاکٹر محمد علی جوہر اور دیگر معززین کی موجودگی بتا رہی تھی کہ مرحوم فقط ایک فرد نہیں، ایک روشن قندیل تھے۔

داعی اتحاد بین المسلمین حضرت علامہ شیخ محمد حسن جعفری دام ظلہ کی قیادت میں علماء کا قافلہ فاتحہ خوانی کے لیے پہنچا۔ ان کے ساتھ شیخ جواد حافظی، شیخ اکمل طاہری، آغا سید احمد حسینی، سید قمر عباس، شیخ ذوالفقار انصاری، ماسٹر حاجی مسلم حسین اور دیگر علمائے کرام موجود تھے۔ اس قافلے کی موجودگی علم، تقویٰ، اخلاص اور تعلق کی گواہی دے رہی تھی۔ اس موقع پر علامہ شیخ حسن جعفری نے اپنے تاثرات میں فرمایا:،"شیخ حسین نجفی صرف میرے دوست یا ہم سفر نہ تھے، وہ ایک روحانی رفیق تھے۔ ان کے ساتھ علمی سفر اور دینی خدمات کی یادیں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں۔ ان کی رحلت میرے لیے ذاتی اور ملی نقصان ہے۔"

گذشتہ روز راقم نے بھی کچورا میں علامہ شیخ اعجاز حسین بہشتی اور ان کے برادران سے تعزیت کی۔ انجمن راہیانِ نور کے نوجوان بالخصوص جناب امجد عزادار اپنے ساتھیوں کے ساتھ کچورا آنے والے مہمانوں کی خدمت میں پیش پیش تھے۔ کوئی پیدل آ رہا تھا تو کوئی لفٹ لے کر۔ یہ جذبہ بتا رہا تھا کہ ایک مردِ مومن کا رخصت ہونا ایک عہد کی روانگی ہوتی ہے اور اسے رخصت کرنے والے فقط سوگوار نہیں محافظِ میراث بھی ہوتے ہیں۔ شیخ حسین نجفی کی پوری زندگی دینِ مبین کی خدمت مکتبِ اہلِ بیت (ع) کی تبلیغ اور ملتِ تشیع کی رہنمائی میں گزری۔ ان کا مزاج نرم اور عمل متقیانہ تھا۔

علمائے کرام نے ان کی علمی، دینی اور ملی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ان کی سادگی، اخلاص اور دین سے محبت نے انہیں لوگوں کے دلوں میں زندہ کر دیا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کچورا کی فضا میں خاموشی کی چادر تان دی گئی ہو، لیکن اس خاموشی میں بھی ایک پیغام گونج رہا تھا، وہ چراغ جو بجھا ہے، اس کی لو اب سینکڑوں دلوں میں جلتی رہے گی۔ اللہ تعالیٰ شیخ حسین نجفی مرحوم کو جوارِ معصومین علیہم السلام میں بلند مقام عطا فرمائے اور ان کے اہلِ خانہ بالخصوص علامہ شیخ اعجاز حسین بہشتی اور ان کے برادران کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ آمین (جمعۃ المبارک: 13جون 2025ء/16ذی الحجہ 1446ھ)

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: علامہ شیخ اعجاز حسین بہشتی شیخ حسین نجفی گلگت بلتستان دلوں میں رہا تھا اور ان

پڑھیں:

وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا

پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔ 

دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔

@timesofkarachi

Why didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq

♬ original sound - Times of Karachi

حالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔

انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔

وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔

مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔

        View this post on Instagram                      

وسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔

مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔

متعلقہ مضامین

  • وسیم، مصباح اور فخرِ عالم نے حج کرکے بال کیوں نہیں منڈوائے؟
  • حج تھا یا پکنک؟ شدید تنقید کے بعد وسیم اکرم، مصباح الحق اور فخر عالم نے خاموشی توڑ دی
  • وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان