وفاقی بجٹ عوام دشمن ‘ اعدادوشمار کی ہیر پھیر ہے‘معراج الہدیٰ
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کنری(جسارت نیوز) سابق امیر جماعت اسلامی سندھ ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے کہاکہ وفاقی بجٹ عوام دشمن جو اعدادوشمار کی ہیرا پھیری کے ساتھ، سودی لعنت، عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار و آئی ایم ایف کی مکمل غلامی کا بجٹ ہے۔ شہید خلیل احمد کھوکھرایک مردمجاہد اوردعوت دین کے داعی تھے ان کا نظریہ و دعوت زندہ اور مشن جاری رہے گا۔ان خیالات کا اظہار انہوں کنری میں گزشتہ روزٹریفک حادثے میں شہید ہونے والے جماعت اسلامی ضلع عمرکوٹ کے امیرخلیل احمد کھوکھر کے لواحقین سے تعزیت کے بعد میڈیا سے بات چیت کے دوران کیا۔ان کا مزید کہنا تھاکہ وہ حیدرآباد میں ہونے والے غزہ مارچ میں شرکت کے بعد واپسی پرایک ٹریفک حادثے کا شکار اورعیدوالے دن اپنے رب کے پاس چلے گئے اس حوالے سے وہ شہید غزہ ہیں۔ضلع عمرکوٹ میں کسی بھی جگہ کوئی مسئلہ یاکوئی قدرتی آفت آتی تو سب سے پہلے وہاں عوام کی دادرسی کے لیے پہنچتے تھے،لوگوں کی سیرت وکردارسازی میں اہم کرادارادا کیا ۔دین کا کام کرتے ہوئے انسانوں سے محبت کرتے تھے۔انسانوں کی دنیاوی واخروی فلاح کے لیے اپنی زندگیوں کو تبدیل کرنے کی دعوت دیتے تھے۔ڈاکٹر معراج الہدیٰ صدیقی نے مرحوم کے زخمی بیٹے حسین فاروق اور نبی سرتھر پہنچ کر حادثے میںشدید زخمی ضلعی جنرل سیکرٹری قربان علی گشکوری کی بھی عیادت اوران کی جلدصحت یابی کی دعا کی۔اس موقع پر مرحوم کے بھائی ماسٹرجمیل احمد کھوکھر، چھوٹے بھائی کامران احمد، بیٹے عمر فاروق ، بھتیجے یوتھ کونسلر محمد طلحہ، آفاق احمد کھوکھر ، مقامی امیر جاوید احمد بھٹی، صوبائی سیکرٹری اطلاعات سندھ مجاہدچنابھی موجود تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا
انہدامی کارروائی محض 22 منٹ میں 5 بلڈوزرز کے ذریعہ انجام دی گئی، یہ مسجد تقریباً 42 فیٹ اونچی تھی، جسکو مسمار کئے جانے کے بعد ملبہ راتوں رات ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹادیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر وارانسی میں گزشتہ شب مودی حکومت نے 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مسمار کر دیا اور ساتھ ہی وہاں موجود مزار اور قبرستان کے کچھ حصہ کو بھی منہدم کر دیا گیا۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ مسجد کو منہدم کرنے کی کارروائی محض 22 منٹ میں 5 بلڈوزرز کے ذریعہ انجام دی گئی۔ یہ مسجد تقریباً 42 فیٹ اونچی تھی، جس کو مسمار کئے جانے کے بعد ملبہ راتوں رات ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ یعنی بدھ کی صبح جب لوگ اس جگہ سے گزرے تو مسجد اور مزار کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔
ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ کل دیر شب تقریباً 12 بجے انتظامیہ کے اعلیٰ افسران 1000 سے زائد جوانوں کے ساتھ "از غیب شہید مسجد" کے پاس پہنچے اور علاقہ کا معائنہ کیا۔ ڈی سی پی کاشی گورو بنسوال اور اے ڈی سی پی ویبھو بانگر نے مسجد کے چاروں طرف بیریکیڈنگ کروائی اور لوگوں کی آمد و رفت پر روک لگا دی گئی۔ حتیٰ کہ میڈیا اہلکاروں کو بھی اس جگہ پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ رات کی تاریکی میں خاموشی کے ساتھ یہ کام ہوا اور جب تک مسجد منہدم ہونے کی خبر لوگوں تک پہنچی، ملبہ بھی وہاں سے ہٹایا جا چکا تھا۔
انتظامیہ نے مسجد منہدم کرنے کے لئے رات کی تاریکی کا انتخاب کرنے کی کوئی آفیشیل وجہ نہیں بتائی۔ پولیس اہلکاروں نے یہ ضرور کہا کہ ٹریفک سے بچنے کے لئے رات میں کارروائی کی گئی۔ راج گھاٹ واقع کاشی ریلوے اسٹیشن کے احاطہ میں موجود اس مسجد کو منہدم کرنے سے پہلے اے سی پی شیوہری مینا نے افسروں کے ساتھ پہنچ کر جائزہ لیا تھا۔ بعد ازاں سخت سیکورٹی میں مزار اور اس کے قریب بنی مسجد کو مسمار کر دیا گیا۔ موصولہ اطلاع کے مطابق بھدؤ چنگی واقع قلعہ کوہنا علاقہ میں "از غیب شہید کی مسجد اور قبرستان کئی سالوں سے تنازعہ کا شکار رہا۔
مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ مسجد 200 سال قدیم تھی۔ مسجد کے متولی شمیم استاد تھے، جن کا 2 ماہ قبل انتقال ہو چکا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ ریلوے کی پرانی زمین ہے، جس پر کچھ لوگوں نے ناجائز قبضہ کر پہلے مزار بنائی، اور بعد میں مسجد و قبرستان کی تعمیر کی گئی۔ 2024ء میں کاشی ماڈل ریلوے اسٹیشن کا منصوبہ سامنے آیا، جس کے بعد زمین کی پیمائش کرائی گئی اور مسجد کی تعمیر ناجائز قبضہ والی زمین پر ہونے کا پتہ چلا۔ از غیب شہید مسجد کی انہدامی کارروائی سے متعلق رپورٹ "این ڈی ٹی وی" پر بھی شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس جگہ ایک ہنومان مندر بھی تھا، اسے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔