اسرائیل کی جانب سے ایران پر کیے گئے حملوں نے نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ جہاں تہران میں جوہری تنصیبات اور اعلیٰ فوجی حکام کو نشانہ بنایا گیا، وہیں عالمی برادری نے اسرائیلی کارروائی کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل دیا ہے۔

سعودی عرب کا سخت بیان: “یہ کھلی جارحیت ہے”

سعودی وزارت خارجہ نے ایک شدید الفاظ پر مبنی بیان میں کہا ہے: “سعودی عرب، برادر اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف صریح اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتا ہے، جو اس کی خودمختاری اور سلامتی کے خلاف ہے۔ یہ بین الاقوامی قوانین کی واضح خلاف ورزی ہے۔”

یاد رہے کہ سعودی عرب اور ایران نے دو سال قبل سفارتی تعلقات بحال کیے تھے، اور اب ایک بار پھر دونوں ممالک ہم آہنگی کے ساتھ اسرائیلی جارحیت کی مخالفت میں یک زبان نظر آ رہے ہیں۔

عمان: “خطرناک اور ناقابل قبول قدم”

سلطنت عمان نے اپنے بیان میں کہا کہ اسرائیلی حملہ “خطرناک غفلت پر مبنی شدت پسندی” ہے، جو اقوام متحدہ کے چارٹر اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔

انہوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو روکے اور خطے کے امن کے تحفظ کے لیے واضح مؤقف اختیار کرے۔

اقوام متحدہ: “کشیدگی ناقابل برداشت حد تک پہنچ رہی ہے”

سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ، انتونیو گوتریس کے ترجمان نے کہا: “ہم اسرائیلی حملوں پر گہری تشویش رکھتے ہیں، خاص طور پر جب ایران اور امریکا کے درمیان جوہری مذاکرات جاری ہیں۔ دونوں فریقین کو تحمل سے کام لینا چاہیے۔”

آسٹریلیا: “بات چیت کا راستہ اختیار کریں” 

آسٹریلیا کی وزیر خارجہ پینی وونگ نے کہا: “ایران کا میزائل اور جوہری پروگرام عالمی امن کے لیے خطرہ ضرور ہے، لیکن ہم اسرائیل اور ایران دونوں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ سفارتی حل کو ترجیح دیں۔”

نیوزی لینڈ: “یہ ایک خطرناک موڑ ہے” 

وزیر اعظم نیوزی لینڈ کرسٹوفر لکسن نے کہا: “مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی افسوسناک ہے، اس سے مزید فوجی تصادم کا خطرہ بڑھ رہا ہے، جو دنیا افورڈ نہیں کر سکتی۔”

Post Views: 5.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اقوام متحدہ

پڑھیں:

ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی

ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ ایران پر حملوں کے لیے برطانوی فوجی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ برطانوی حکومت جارحیت کی مذمت کرنے کے بجائے حملہ آوروں کا ساتھ دے رہی ہے، جبکہ حملوں میں کسی بھی قسم کی معاونت جارحیت اور جنگی جرائم میں شراکت داری کے مترادف ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ایسے اقدامات ایران کے خلاف براہِ راست جارحیت میں شرکت تصور کیے جا سکتے ہیں، جس کے سنگین نتائج برآمد ہوں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ نے واضح کیا کہ ایران اپنی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے دفاع کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ وزارت خارجہ نے خبردار کیا کہ جو بھی ملک ایران پر حملوں میں مدد فراہم کرے گا، اسے اپنے اقدامات کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔

متعلقہ مضامین

  • نام نہاد جنگ بندی بے اثر، غزہ میں شہریوں کی ہلاکتیں جاری: انتونیو گوتریس
  • اقوام متحدہ میں پاکستان کا امن اور مذاکرات پر زور، بھارت پر عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا الزام
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • بلوچستان، جج کے قتل کے بعد کالعدم بی ایل اے اور داعش کا گٹھ جوڑ سامنے آگیا، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • فیلڈ مارشل، میں اور قوم سعودیہ کیساتھ ہیں، وزیراعظم کا ولی عہد سے رابطہ، آئل ٹینکرز پر حملے کی مذمت
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم