ایران پراسرائیلی حملے، پی آئی اے نے گلف ممالک سمیت دیگر پروازوں کا فلائٹ پلان تبدیل کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
کراچی(اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔13جون 2025)ایران پراسرائیلی حملے کے بعد قومی ائیرلائن (پی آئی اے)نے گلف ممالک سمیت دیگر پروازوں کا فلائٹ پلان تبدیل کر دیا،ایران پر اسرائیلی حملوں کے بعد ایرانی ایئر اسپیس کی بندش کے باعث پی آئی اے نے گلف ممالک سمیت ٹورنٹو اور پیرس جانے والی پروازوں کا فلائٹ پلان تبدیل کیا ہے۔ترجمان پی آئی اے کے مطابق گلف جانے والی پروازیں عمان کی فضائی حدود استعمال کررہی ہیں، سعودی عرب، بحرین اور یو اے ای کی پروازیں مسقط فلائٹ انفارمیشن ریجن سے ہوتی ہوئی جارہی ہیں، ٹورنٹو اور پیرس جانے والی پروازیں عمان کی فضائی حدود استعمال کررہی ہیں۔
پاکستان ایئرپورٹس اتھارٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ خطے میں سکیورٹی صورتحال کے باوجود پاکستان کی فضائی حدود مؤثر طور پر استعمال ہو رہی ہے۔(جاری ہے)
اضافی فضائی ٹریفک کو معمول کے مطابق پیشہ ورانہ انداز میں سنبھالا جا رہا ہے۔پاکستان ائیرپورٹس اتھارٹی نے کہا ہے کہ بین الاقوامی پروازوں کو پاکستان کی فضائی حدود سے گزرنے میں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں۔
موثر ایئر سپیس مینجمنٹ کے ذریعے اضافی فضائی نقل و حرکت سے بخوبی نمٹا جا رہا ہے۔خیال رہے کہ اس سے قبل اسرائیلی حملے کے بعد ایران، عراق،شام اور اردن کی فضائی حدود بند کردیں اور ہوائی اڈوں پر فضائی آپریشن معطل کردیاگیاتھا۔خبر ایجنسی کے مطابق تہران کے امام خمینی ہوائی اڈے پر تمام پروازیں معطل کردی گئی ہیں اور پروازوں کا رخ دوسری جانب موڑ دیا گیا تھا۔عراقی نیوز ایجنسی کا کہنا تھا کہ عراقی فضائی حدود بند کرکے تمام ہوائی اڈوں پر فضائی آپریشن معطل کردیا گیا ہے۔دوسری جانب اردن کی وزارت خارجہ کابھی کہنا تھا کہ فضائی حدود بند کر چکے تھے۔ اپنی فضائی حدود کونہ میدان جنگ بننے دیں گے اور نہ ہی اس کی خلاف ورزی برداشت کریں گے۔مشرقی عراق جو ایران کی سرحد کے قریب واقع تھا۔ دنیا کے مصروف ترین فضائی راستوں میں شمار ہوتا تھا۔ جہاں سے ہر وقت درجنوں پروازیں یورپ، خلیجی ممالک اور ایشیا کی طرف جاتی ہیں تاہم پروازوں کا رخ آہستہ آہستہ وسطی ایشیا یا سعودی عرب کی طرف موڑ دیا گیا تھا۔.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے کی فضائی حدود پروازوں کا پی آئی اے
پڑھیں:
امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.
U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.
Command centers.
Drone storage.
Communication networks.
Coastal surveillance.
Maritime capabilities.
AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6
— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔
???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT
The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.
CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE
— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ