data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

سائنس اور فلکیات کی دنیا میں ایک نئی تاریخ رقم ہو چکی ہے۔ سورج، جو اربوں برس سے زمین اور ہمارے نظامِ شمسی کو توانائی فراہم کر رہا ہے، اب اپنے پوشیدہ ترین پہلو کو بھی انسان کے سامنے بے نقاب کرنے لگا ہے۔

ناسا اور یورپین اسپیس ایجنسی کے مشترکہ خلائی مشن نے پہلی بار سورج کے جنوبی قطب کی واضح اور ہائی ریزولوشن تصویر زمین پر منتقل کر دی ہے، جو نہ صرف سائنسی حلقوں میں سنسنی خیز دریافت سمجھی جا رہی ہے بلکہ کائناتی مشاہدات کے ایک نئے دور کا آغاز بھی ہے۔

یہ شاندار کارنامہ سولر آربٹر نامی روبوٹک خلائی گاڑی نے انجام دیا ہے، جسے 2020 میں امریکی ریاست فلوریڈا سے خلا کی وسعتوں میں روانہ کیا گیا تھا۔ اس مشن کا بنیادی مقصد سورج کے گرد چکر لگا کر اس کے قطبین، خصوصاً کم مشاہدہ شدہ جنوبی اور شمالی خطوں کا باریکی سے جائزہ لینا تھا۔

گزشتہ کئی مہینوں کی مسلسل محنت اور خلائی ٹیکنالوجی کی اعلیٰ صلاحیتوں کا نتیجہ ہے کہ مارچ 2025 میں جب سورج اپنی فلکیاتی فعالیت کے عروج پر تھا، آربٹر نے تقریباً 6 کروڑ 43 لاکھ کلومیٹر کے فاصلے سے سورج کے جنوبی قطب کی حیران کن تصویریں لیں۔

یورپین اسپیس ایجنسی نے گزشتہ دنوں ان تصاویر کو باضابطہ طور پر جاری کیا، جن میں سورج کے جنوبی قطب پر موجود میگنیٹک میدان، شمسی طوفانوں کے ابتدائی آثار، اور درجہ حرارت کی تبدیلیوں جیسے اہم مشاہدات کو محفوظ کیا گیا ہے۔ ان تصاویر کو خلائی گاڑی پر نصب تین انتہائی حساس سائنسی آلات کے ذریعے عکس بند کیا گیا، جو سورج کی شعاعوں اور مقناطیسی لہروں کا اعلیٰ ترین تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

یہ دریافت اس لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ اب تک سورج کے قطبین کا مطالعہ بہت ہی محدود انداز میں کیا گیا تھا۔ زمین سے بھیجے جانے والے مشاہداتی آلات سورج کے مرکزی خطِ استوا کے قریب کی سرگرمیوں پر تو نگاہ رکھ سکتے تھے، مگر قطبین کی مخصوص ساخت اور شمسی مظاہر کی جھلک حاصل کرنا تقریباً ناممکن سمجھا جاتا تھا۔ اب جب کہ سولر آربٹر نے یہ رکاوٹ عبور کر لی ہے، تو سائنسدانوں کو سورج کے اندرونی نظام، اس کی مقناطیسی فعالیت اور سورج کی 11 سالہ سائیکل کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد ملے گی۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ تصاویر اس وقت لی گئیں جب سورج شمسی سائیکل کے سب سے سرگرم مرحلے میں داخل ہو رہا تھا، یعنی اس وقت جب شمسی طوفان، دھماکے، اور مقناطیسی تبدیلیاں اپنے عروج پر ہوتی ہیں۔ ان لمحات کی تصویری دستاویز نہ صرف شمسی فزکس کی تفہیم میں انقلاب لا سکتی ہے بلکہ زمین پر پڑنے والے اثرات ، جیسے کہ سیٹلائٹ نیویگیشن، پاور گرڈز اور مواصلاتی نظام پر شمسی طوفانوں کے اثر کو بھی مزید بہتر انداز میں سمجھنے اور محفوظ بنانے میں مدد دے گی۔

یورپین اسپیس ایجنسی کے حکام کے مطابق شمالی قطب سے حاصل شدہ ڈیٹا تاحال خلائی گاڑی سے زمین پر منتقل کیا جا رہا ہے اور توقع ہے کہ آنے والے مہینوں میں اس ڈیٹا کا تجزیہ بھی مکمل ہو جائے گا۔

یہ مرحلہ سائنسدانوں کے لیے نہایت اہم ہو گا کیونکہ دونوں قطبین کا موازنہ کر کے سورج کی مکمل میگنیٹک ساخت، اس کے اندرونی ڈائنامکس اور اس کے توانائی خارج کرنے کے طریقہ کار کو بہتر انداز میں سمجھا جا سکے گا۔

یہ خلائی مشن صرف سائنسی حد تک محدود نہیں بلکہ تکنیکی مہارت کا اعلیٰ نمونہ بھی ہے۔ سولر آربٹر نہ صرف سورج کے قریب ترین فاصلے پر کام کرنے والا خلائی جہاز ہے بلکہ یہ سورج سے مسلسل براہِ راست ڈیٹا زمین تک پہنچانے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔

اس مشن کی کامیابی مستقبل کے ایسے مزید مشنز کی راہ ہموار کرے گی جن کا مقصد نہ صرف سورج بلکہ دیگر ستاروں، کہکشاؤں اور یہاں تک کہ بلیک ہولز کے اسرار کو بھی کھولنا ہے۔

یاد رہے کہ سولر آربٹر ایک مشترکہ یورپی و امریکی منصوبہ ہے جس کا مقصد انسانی مشاہدے کو سورج کی سطح سے قطبین تک توسیع دینا ہے۔ اس مشن پر کام کرنے والے ماہرین کو امید ہے کہ ان مشاہدات سے دنیا کو موسمیاتی تبدیلیوں اور خلا میں پیدا ہونے والے جغرافیائی خطرات سے بچاؤ کی بہتر تدابیر بھی حاصل ہوں گی۔

یہ تصاویر اس بات کا مظہر ہیں کہ انسان اب صرف زمین یا چاند تک محدود نہیں رہا، بلکہ وہ کائنات کے سب سے طاقتور ستارے سورج کی نبض کو بھی اپنی انگلیوں پر محسوس کرنے لگا ہے اور یہ سب ممکن ہوا ہے جدید ٹیکنالوجی، عالمی تعاون اور سائنسی تجسس کے امتزاج سے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سولر آربٹر کیا گیا سورج کے سورج کی کو بھی

پڑھیں:

ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس نے صارفین کے لیے نیا ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا ہے جس کے ذریعے صارفین کسی بھی پوسٹ پر براہِ راست ویڈیو ردِعمل ریکارڈ کر سکیں گے۔

یہ بھی پڑھیں: ایکس نے ایڈیٹ شدہ تصاویر کے لیے نیا لیبل متعارف کروانے کا اعلان کردیا

نئے فیچر کو انسٹاگرام اور ٹک ٹاک پر مقبول ری ایکشن ویڈیوز کے تصور سے مشابہ قرار دیا جا رہا ہے جس کا مقصد صارفین کو اپنے خیالات اور تبصروں کے اظہار کے لیے مزید تخلیقی اور بصری طریقہ فراہم کرنا ہے۔

ایکس کے ہیڈ آف پروڈکٹ نکیتا بیئر نے فیچر کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ تبصرہ اور رائے کا اظہار ایکس کی بنیادی خصوصیات میں شامل ہے اور بعض اوقات خیالات کے اظہار کا بہترین طریقہ ویڈیو ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اب صارفین ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ کے ذریعے کسی بھی پوسٹ پر فوری ویڈیو ردعمل دے سکیں گے۔

فیچر کیسے کام کرتا ہے؟

صارفین کو کسی پوسٹ کے نیچے موجود ری پوسٹ بٹن پر کلک کرنا ہوگا جہاں انہیں ویڈیو ری ایکشن ریکارڈ کرنے کا آپشن ملے گا۔

مزید پڑھیے: سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کو ایک ہفتے میں دوسری بار عالمی سطح پر تکنیکی خرابی کا سامنا

ابتدائی مرحلے میں یہ سہولت صرف آئی او ایس صارفین کے لیے دستیاب کی گئی ہے۔

ویڈیو ریکارڈنگ کے دوران اصل پوسٹ پس منظر میں نظر آتی ہے جبکہ صارف اپنی رائے یا ردعمل ویڈیو کی صورت میں ریکارڈ کر سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کے دوران ویڈیو کو عارضی طور پر روکنے اور دوبارہ شروع کرنے کی سہولت بھی فراہم کی گئی ہے۔

ویڈیو مکمل ہونے کے بعد صارف اسے پوسٹ کرنے سے قبل دیکھ اور جانچ بھی سکتا ہے۔

مختلف ڈسپلے موڈز

نئے فیچر میں متعدد ویژول آپشنز شامل کیے گئے ہیں۔

پکچر اِن پکچر: ویڈیو اصل پوسٹ کے اوپر نظر آتی ہے۔

اسپلٹ اسکرین : اسکرین 2 حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے، ایک جانب صارف اور دوسری جانب اصل پوسٹ۔

مزید پڑھیں: انسٹاگرام کا نیا فیچر ’انسٹاگرام میپ‘، اسنیپ چیٹ کو ٹکر دینے کی کوشش

فل اسکرین میڈیا: اصل پوسٹ کے متن کو چھپا کر صرف تصویر یا ویڈیو پر توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔

گرین اسکرین: پس منظر تبدیل یا ہٹانے کی سہولت۔

صارفین ویڈیو کے سائز اور اس کی پوزیشن کو بھی اپنی مرضی کے مطابق تبدیل کر سکتے ہیں۔

بیرونی ایڈیٹنگ ٹولز کی ضرورت ختم

ایکس کے مطابق اس فیچر کی بدولت صارفین کو ویڈیوز ڈاؤن لوڈ کرنے، الگ سے ایڈیٹنگ کرنے یا پیچیدہ ورک فلو اختیار کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ بیشتر بنیادی ایڈیٹنگ سہولیات ایپ کے اندر ہی دستیاب ہوں گی۔

صارفین کا ردعمل

فیچر کے اعلان کے بعد سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے۔

کئی صارفین نے اسے ایکس کے لیے مثبت پیشرفت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ویڈیو ری ایکشنز پلیٹ فارم پر گفتگو کو زیادہ مؤثر اور دلچسپ بنائیں گے۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’یہ شاندار فیچر ہے، ایکس پر تبصرے اور اظہارِ خیال کے لیے یہی چیز درکار تھی‘۔

تاہم بعض صارفین نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس سے ایکس بھی دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی طرح ہو جائے گا۔

ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’ فیچر دلچسپ تو ہے لیکن امید ہے کہ ایکس فیس بک یا یوٹیوب جیسا پلیٹ فارم نہیں بن جائے گا۔

یہ بھی پڑھیے: انسٹاگرام کا نیا فیچر ‘انسٹنٹس’ متعارف: غیر فلٹر شدہ اور عارضی تصاویر کا نیا تجربہ

ماہرین کے مطابق ویڈیو ری ایکشنز کا یہ نیا فیچر ایکس کو روایتی ٹیکسٹ بیسڈ پلیٹ فارم سے بڑھ کر ایک ملٹی میڈیا اور ویڈیو سینٹرک سوشل نیٹ ورک میں تبدیل کرنے کی کوشش کا حصہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ ایکس ایکس کا نیا فیچر

متعلقہ مضامین

  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • اٹلی میں پاکستانی اور افغان تارکین وطن کو وین میں آگ لگا کر قتل کرنے کے الزام میں دو پاکستانی گرفتار
  • بجٹ سے پہلے قانون سازی، پیپلزپارٹی کے تحفظات، 5 جون کو ہونے والا اجلاس مؤخر
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • کوہستان اسکینڈل منظر عام پر لانے والے صحافی کو اعزاز سے نواز دیا گیا
  • شیخ رشید کا وکالت شروع کرنے کا اعلان
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب