اسرائیل پر جلد خیبر میزائل داغے جائیں گے اور دنیا حیران رہ جائے گی، ایران
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران ایران کی طاقتور عسکری تنظیم پاسدارانِ انقلاب نے سخت الفاظ میں خبردار کیا ہے کہ اسرائیل پر جلد ہی "خیبر" میزائل داغے جائیں گے، جس کے اثرات دیکھ کر دنیا حیران رہ جائے گی۔
پاسدارانِ انقلاب کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی افواج اسرائیل میں اُن مخصوص اہداف کو نشانہ بنا رہی ہیں جہاں سے ایران اور فلسطین کے خلاف جارحیت کی جا رہی ہے۔ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ "آپریشن وعدہ صادق سوم" کے تحت اسرائیلی فوجی تنصیبات، اسلحہ ساز فیکٹریوں اور فوجی اڈوں پر میزائل حملے جاری ہیں۔
پاسداران انقلاب کے مطابق اسرائیلی حکام کے دعووں کے برعکس ایرانی میزائل اپنے اہداف کو کامیابی سے نشانہ بنا رہے ہیں اور یہ حملے اسرائیل کے ہاتھوں بے گناہوں کے خون بہائے جانے کا جواب ہیں۔
یہ پڑھیں: ایران کا اسرائیل پر چوتھا میزائل حملہ، 63 افراد زخمی، کئی عمارتیں تباہ
ایرانی فوج نے واضح کیا ہے کہ ایران کی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی کسی بھی کوشش کا سخت اور فوری جواب دیا جائے گا۔ پاسدارانِ انقلاب نے اسرائیل کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ "ایران کی سکیورٹی سرخ لکیر ہے اور اس لکیر کو عبور کرنے والوں کو پچھتانا پڑے گا۔"
ایرانی بیان میں "خیبر" میزائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ جدید اور طاقتور ہتھیار جلد اسرائیلی سرزمین پر داغا جائے گا جو اسرائیل کے لیے ایک "حیران کن مرحلہ" ثابت ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔