سندھ کا 34 کھرب 51 ارب روپے کا بجٹ پیش، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 13th, June 2025 GMT
سندھ کا 34 کھرب 51 ارب روپے کا بجٹ پیش، تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ WhatsAppFacebookTwitter 0 13 June, 2025 سب نیوز
کراچی(آئی پی ایس ) صوبائی اسمبلی سندھ میں بجٹ اجلاس ، وزیراعلی مراد علی شاہ نے بجٹ پیش کیا۔وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ میرے لیے اعزاز ہے کہ 10 ویں بار سندھ کا بجٹ پیش کر رہا ہوں، انشا اللہ آگے بھی کرتا رہوں گا۔سندھ بجٹ میں گریڈ ایک سے گریڈ 16تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 12اور پنشن میں 8 فیصد اضافہ کیا گیا ہے،جبکہ گریڈ 17 سے 22 تک کے ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی منظوری دے دی ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ یہ ایک جامع بجٹ ہے،
صحت کا بجٹ پچھلے سال کے 302.
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرگردوں کے ڈائلیسس کی دوا بارے گمرہ کن دعوے ،، فارما کمپنی کو 20 لاکھ جرمانہ ،، کونسی کمپنی کو جرمانہ ہوا، کسی دوائی پر ہوا،، تفصیلات سب نیوز پر گردوں کے ڈائلیسس کی دوا بارے گمرہ کن دعوے ،، فارما کمپنی کو 20 لاکھ جرمانہ ،، کونسی کمپنی کو جرمانہ ہوا، کسی دوائی... ایران کے پاس وقت کم ہے، ورنہ کچھ نہیں بچے گا، ٹرمپ کی دھمکی خیبر پختونخوا میں بجٹ اجلاس کے معاملے پر حکومت اور گورنر آمنے سامنے آ گئے ایران پر اسرائیلی حملے: پی آئی اے نے فلائٹ پلان تبدیل کردیا گورنر خیبرپختونخوا کا بجٹ اجلاس بلانےکیلئے سمری پر دستخط کرنے سے انکار اسرائیلی حملے کے بعد ایران نے نئی عسکری قیادت میدان میں اتار دیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: ارب روپے بجٹ پیش کا بجٹ
پڑھیں:
پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔
موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔