data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

بدین(نمائندہ جسارت)جمعیت طلبہ عربیہ پاکستان کے منتظم اعلیٰ مولانا محمد افضل نے کہا کہ حکومت کی جانب سے پیش کردہ حالیہ بجٹ تعلیم اور صحت کے لیے ناکافی ہے سندھ میں پہلے تعلیمی اداروں میں بنیادی سہولیات کا فقدان ہے اسکولز کی عمارتیں زبوں حالی کس شکار ہیں اسکولز اساتذہ کی قلت اور فرنیچر کی قلت کی باعث بچے فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں سندھ میں تعلیم کا بیڑہ غرق کر دیا ہے سرکاری اسپتالز میں ادویات کی کمی ہے ڈسٹرکٹ میں علاج معالجہ کی سہولت میسر نہیں جس کی وجہ سے لوگ علاج کے لیے حیدرآباد اور کراچی کا رخ کرتے ہیں مریضوں کے لیے ایمبولینسز بھی دستیاب نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں گزشتہ روز ضلع بدین کے مختلف شہروں بدین ،تلہار، ٹنڈوباگو ،کھوسکی میں تنظیمی دورہ کے دوران دینی مدارس کے طلبہ سے خطاب، سابقین جمعیت سے نشست اور مدارس کے مہتمین سے ملاقات کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔مولانا محمد افضل نے مزید کہا کہ ملک بھر میں 15 ہزار دینی مدارس چندے پر چل رہے ہیں جس میں لاکھوں بچے زیر تعلیم ہیں مدارس میں زیر تعلیم بچوں کے لیے خوراک علاج معالجہ اور تعلیم اخراجات مدارس میں مقیم طلبہ کے اخراجات دینی مدارس ہی پورے کرتے ہیں لیکن حکومت کی جانب سے دینی مدارس کے لیے بجٹ مختص نہیں کی جاتی ہیں مدارس کے بچے بورڈ اور یونیورسٹیز میں اول، دوم، سوم پوزیشن حاصل کرتے ہیں مدارس کے لیے بجٹ مختص نہ کرنا سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک بھر میں دینی مدارس لاکھوں طلبہ کو مفت تعلیم دے رہے ہیں مدارس میں دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ دنیاوی تعلیم بھی دی جاتی ہیں مختلف مدارس میں انگلش سائنس ریاضی اور کمپیوٹر کی کلاسز کو شامل کیا گیا ہے ہم مطالبہ کرتے ہیں سندھ سمیت ملک بھر اسکولز اور کالج میں پہلا پیریڈ قرآن مجید کا نصاب میں شامل کیا جائے،مولا محمد افضل نے مزید کہا کہ دینی مدارس کی ذیلی اسناد کو قانونی حیثیت دی جائے دینی مدارس کے طلبہ رابطہ المدارس بورڈ کے امتحانات میں نمایاں کامیابیاں حاصل کرتے ہیں اس موقع پر جمعیت طلبہ عربیہ سندھ کے منتظم مولانا اصغر علی سمیجو جماعت اسلامی سندھ کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری عبدالقدوس احمدانی، تنظیم اساتذہ سندھ کے سیکرٹری پروفیسر عبدالحفیظ احمدانی، جماعت اسلامی ضلع بدین کے امیر انجینئر سیدعلی مردان شاہ گیلانی، ناظم رابطہ الاخوان ضلع بدین محمد علی بلیدی ،معاون مولانا محمد موسیٰ ملاح بھی موجود تھے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: مولانا محمد محمد افضل ہیں مدارس کرتے ہیں مدارس کے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت

تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی

جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔

معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔

متعلقہ مضامین

  • شہدا ء کا مقام اور فضیلت
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات کا اسکولوں میں خود پڑھانے کا اعلان
  • پنجاب کے وزیر تعلیم رانا سکندر حیات نے ٹیچر بننے کا اعلان کردیا