پاکستان کی اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے گریز کی ہدایت
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال کے پیش نظر پاکستان نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر پر نظرِ ثانی کی ہدایت جاری کی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ موجودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے پاکستانی شہری ایران اور عراق کے غیر ضروری سفر سے گریز کریں۔ بیان میں زائرین کو خاص طور پر مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ سفری فیصلے احتیاط سے کریں۔
ترجمان وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران اور عراق کی بدلتی ہوئی صورتحال پر پاکستانی سفارتخانوں سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ تازہ ترین حالات سے باخبر رہا جا سکے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے ایران میں موجود پاکستانی زائرین کی بحفاظت وطن واپسی میں مدد فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے زائرین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن معاونت فراہم کرنے کا حکم دیا۔
وزیراعظم کی ہدایت پر دفتر خارجہ میں ایک کرائسز منیجمنٹ سیل قائم کر دیا گیا ہے، جس کا مقصد زائرین کی حفاظت کے لیے فوری اقدامات کو یقینی بنانا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایران اور عراق کی ہدایت
پڑھیں:
امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے؟ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر کے وزیر خارجہ سے سخت سوالات
مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔ ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے وزیر خارجہ مارکو روبیو کو ایران کے معاملے پر آڑے ہاتھوں لیا۔ سینیٹ میں پیشی کے موقع پر کوری بُکر نے کہا کہ آخر امریکا کیوں ایران سے ڈیل کی بھیک مانگ رہا ہے۔؟ ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بُکر نے کہا کہ ڈیل بھی ایسی جسے خود امریکا ہی پہلے کچرے کے ڈبے میں پھینک چکا تھا۔ ایران نے آبنائے ہرمز بند کی ہوئی ہے۔ مارکو روبیو نے کہا کہ امریکا ایران جنگ ختم ہوچکی اور مذاکرات کی بھیک نہیں مانگی جا رہی۔
ایرانی ایٹمی پروگرام پر مذاکرات "انتہائی ٹیکنیکل" معاملہ ہے۔ جو 5 دن میں طے نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے کہا کہ ماہرین کی میٹنگز ایک مہینہ، دو مہینے یا تین مہینوں تک بھی چل سکتی ہے۔ ایران کو انتہائی افزودہ یورینیم کی تلفی کے حوالے سے مذاکرات کا عہد کرنا ہوگا۔ مارکو روبیو کے مطابق آج ایران اپنے ایٹمی پروگرام کے جن پہلووں پر بات کرنے کو راضی ہوگیا ہے، پہلے ان پر انکاری تھا۔