اسلام آباد پنجاب ، خیبر پختونخوا سمیت ملک کے بیشتر حصوں میں تیز ہواوں کے ساتھ بارش ، گرمی کا زور ٹوٹ گیا، موسم خوشگوار ہوگیا۔
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، پنجاب، خیبر پختونخوا اور مری سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش نے جہاں گرمی کا زور توڑا وہیں موسم کو بھی خوشگوار بنا دیا۔ اسلام آباد میں ہلکی بارش سےشدید تپش والی گرمی کی شدت میں کمی آئی، جبکہ لاہور کے مختلف علاقوں میں تیز ہوائیں چلنے لگی س کے باعث موسم خوشگوار یو گیا اور گرمی کا زور ٹوٹ گیا، شہریوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے تاہم لاہور کے مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی۔ اسلام آباد اور گردونواح میں بھی ہلکی بارش سے موسم خوشگوار ہو گیا۔ جبکہ مالم جبہ میں 10 ملی میٹر، کالام میں 8 اور چترال میں 3 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ ملکہ کوہسار مری میں بھی موسلادھار بارش کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ بارش اور ہواؤں کے باعث گرمی کا زور ٹوٹ گیا۔ پنجاب کے شہر پھالیہ میں بھی شہر اور گردونواح میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش ہوئی۔ فیروزوالا میں بھی شہر اور گردونواح میں تیز ہواؤں کا سلسلہ جاری ہے۔ تاہم تیز ہواؤں کے باعث مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی معطل ہوئی۔ شیخوپورہ شہر اور گردو نواح میں تیز ہوائیں چلیں جس سے گرمی کا زور ٹوٹ گیا۔ لالیاں شہر اور گردونواح میں بھی تیز آندھی کے باعث متعدد فیڈرز ٹرپ کر گئے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: گرمی کا زور ٹوٹ گیا مختلف علاقوں میں اور گردونواح میں تیز ہواؤں شہر اور میں بھی میں تیز کے باعث
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔