سینیٹ کمیٹی :سرکاری ملازمت کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کی تجویز
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں سرکاری ملازمت کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کی تجویز پیش کردی گئی۔ سلیم مانڈوی والا کی زیرصدارت سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا اجلاس ہوا، اجلاس میں ارکان سینیٹ نے سرکاری ملازمت کی ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کی تجویز دیتے ہوئے کہا کہ اسے 62سال کی جائے۔کمیٹی رکن فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ ریٹائرمنٹ کی عمر 65سال ہونی چاہیے جب کہ انوشہ رحمن نے تجویز دی کہ اس اقدام سے پنشن کا بوجھ کم ہوگا، سلیم مانڈوی والا نے کہا کہ ارکان کمیٹی کی تجویز میں ذاتی طور پر ریٹائرمنٹ کی عمر بڑھانے کا حامی ہوں، وزیر خزانہ اورحکومت اس تجویز پر غور کرے گی۔وزیر خزانہ محمداورنگزیب کا کہنا تھا کہ ریٹائرمنٹ عمر 62 سال کرنے سے مالی فائدے نہیں ہوں گے،دفاعی بجٹ 2550 ارب میں سے 800 ارب روپے تنخواہیں ہیں، سرکاری امور چلانے کیلئے 970 ارب میں سے 580 ارب تنخواہیں ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: کی تجویز
پڑھیں:
پٹرولیم قیمتوں کے روزانہ تعین پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع
توجہ دلاؤ نوٹس میں جے یو آئی کے سینیٹر نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سینیٹر کامران مرتضیٰ نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے 15 روزہ نظام کے بجائے روزانہ تعین کے مجوزہ فیصلے پر سینیٹ میں توجہ دلاؤ نوٹس جمع کرا دیا۔ توجہ دلاؤ نوٹس میں وفاقی حکومت سے مجوزہ پالیسی پر وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ روزانہ قیمتوں کے تعین سے مہنگائی، ٹرانسپورٹ اخراجات اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔ نوٹس کے متن کے مطابق مجوزہ نظام کے کاروباری سرگرمیوں اور عوامی زندگی کے اخراجات پر ممکنہ اثرات سے متعلق بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
سینیٹر کامران مرتضیٰ نے حکومت سے مجوزہ پالیسی کی وجوہات، اس کے نفاذ کے طریقہ کار اور صارفین کو قیمتوں میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ سے تحفظ دینے کے لئے کئے جانے والے اقدامات کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ عوام کو ممکنہ منفی اثرات سے بچانے کے لیے اختیار کیے جانے والے حفاظتی اقدامات سے بھی سینیٹ کو آگاہ کیا جائے۔