وزیراعظم کے معاون خصوصی مبارک زیب خان کے گھر پر راکٹ حملہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
وزیراعظم کے معاون خصوصی اور رکنِ قومی اسمبلی مبارک زیب خان کے گھر پر ایک بار پھر راکٹ حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں گھر کے مرکزی دروازے کو جزوی نقصان پہنچا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔واقعہ کے فوری بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور شواہد اکٹھے کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ ایم این اے مبارک زیب خان کے گھر کو نشانہ بنایا گیا ہو، اس سے قبل بھی ان پر حملوں کی کوششیں کی جا چکی ہیں۔ واقعہ کے بعد علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ۔ پولیس اور حساس ادارے حملہ آوروں کی تلاش میں مصروف ہیں۔حملے کی وجوہات جاننے کے لیے مختلف پہلوئوں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
کانگریس لیڈر نے کہا کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جسکی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کو مبینہ طور پر پھٹکار لگائے جانے کے متعلق خبروں پر انڈین نیشنل کانگریس کا ردعمل سامنے آیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ لبنان میں اسرائیلی حملے کی ہر کوئی مذمت کر رہا ہے، لیکن وزیر اعظم مودی اس پر خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ کانگریس کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ مغربی ایشیا میں جنگ کو روکنے کے لئے امریکہ اور ایران کے درمیان بات چیت جاری ہے۔ ایسے کسی معاہدہ کا فوری اثر آبنائے ہرمز کے پھر سے کھلنے اور تیل کی قیمتوں پر دباؤ کم ہونے کے طور پر سامنے آئے گا اور ان دونوں معاملوں سے ہندوستان کے بڑے مفادات جڑے ہوئے ہیں۔
جے رام رمیش اپنی ایکس پوسٹ میں مزید لکھتے ہیں کہ لیکن یہ بات چیت اب تک حتمی شکل نہیں لے سکی ہے، جس کی اہم وجہ لبنان میں اسرائیل کی جاری فوجی کارروائی ہے، جس میں غیر معمولی دراندازی دیکھنے کو ملی ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے لکھا کہ خود صدر ٹرمپ نے بنجامن نیتن یاہو کو لے کر بے حد ناراضگی اور غصہ ظاہر کیا ہے، یہاں تک کہ نازیبا الفاظ کا بھی استعمال کیا ہے۔ کانگریس کے راجیہ سبھا رکن جے رام رمیش کے مطابق دنیا کے کئی دیگر ممالک نے بھی لبنان میں اسرائیل کے حملے کی مذمت کی ہے۔
حیرانی کی بات نہیں کہ جس ایک حکومت کے سربراہ نے اسرائیل کے ذریعہ لبنان کو تباہ کرنے اور امریکہ-ایران معاہدے کو پٹری سے اتارنے کی کوششوں پر مکمل طور سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں، وہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہیں۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں لکھا کہ کیا نام نہاد فادر لینڈ ان کے لئے ان کے اصل مدر لینڈ سے کہیں زیادہ اہمیت رکھتی ہے۔