وزیراعظم کے معاون خصوصی مبارک زیب خان کے گھر پر راکٹ حملہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, June 2025 GMT
وزیراعظم کے معاون خصوصی اور رکنِ قومی اسمبلی مبارک زیب خان کے گھر پر ایک بار پھر راکٹ حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں گھر کے مرکزی دروازے کو جزوی نقصان پہنچا تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔واقعہ کے فوری بعد پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور شواہد اکٹھے کر کے تفتیش کا آغاز کر دیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں کہ ایم این اے مبارک زیب خان کے گھر کو نشانہ بنایا گیا ہو، اس سے قبل بھی ان پر حملوں کی کوششیں کی جا چکی ہیں۔ واقعہ کے بعد علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ۔ پولیس اور حساس ادارے حملہ آوروں کی تلاش میں مصروف ہیں۔حملے کی وجوہات جاننے کے لیے مختلف پہلوئوں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
مستونگ میں فائرنگ،سیشن جج گن مین سمیت شہید،2 افراد زخمی
مستونگ میں فائرنگ سے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اوران کے گن مین شہید جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے.وزیراعلیٰ بلوچستان اور وزیر داخلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے فوری کارروائی کا حکم دیا۔ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پرنامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوگئے۔ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ راستے میں ان کی گاڑی پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی۔واقعے کے بعد لاشوں اور زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کردیا گیا، جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات اور حملہ آوروں کی تلاش شروع کردی۔بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظام انصاف پر دہشت گرد حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی. واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، جبکہ ججز، وکلاء اور شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات اور ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے شہداء کے لواحقین سے اظہار تعزیت کیا اور حملہ آوروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لانے کی ہدایت کی۔