مون سون سے قبل گرد آلود طوفان کی پیشگوئی، گرمی سے عارضی ریلیف کب ملے گا؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
ملک کے مختلف حصوں میں جاری شدید گرمی کی لہر میں کمی کا امکان ہے کیونکہ محکمہ موسمیات کی جانب سے پری مون سون سسٹم کے تحت بارشوں، تیز ہواؤں اور گرد آلود طوفانوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق اتوار یعنی 15 جون کو ملک کے بیشتر علاقوں میں موسم گرم اور خشک رہنے کا امکان ہے، جبکہ میدانی علاقوں میں انتہائی شدید گرمی متوقع ہے، تاہم، کچھ مقامات پر جزوی طور پر ابر آلود موسم کے ساتھ گرد آلود ہواؤں، گرج چمک اور ہلکی بارش کا امکان بھی موجود ہے۔
’یہ موسمی صورتحال جنوبی و شمال مشرقی پنجاب، بالائی خیبر پختونخوا، بالائی و جنوب مشرقی سندھ، شمال مشرقی بلوچستان، کشمیر اور گلگت بلتستان کے چند مقامات پر دیکھنے میں آ سکتی ہے۔‘
محکمہ موسمیات کے مطابق، اس موسمی سلسلہ نے ہفتے کی شام سے سندھ کے مشرقی علاقوں کو متاثر کرنا شروع کیا ہے، جہاں تھرپارکر اور عمرکوٹ میں گرج چمک کے ساتھ بارش اور تیز ہوائیں چلنے کا امکان ہے۔
اتوار کو یہ سلسلہ مزید شدت اختیار کرے گا اور گھوٹکی، سکھر، خیرپور، جیکب آباد، شکارپور، مٹھی، بدین، میرپور خاص، عمرکوٹ، ٹھٹھہ، کراچی اور حیدرآباد کے اضلاع میں بارش اور تیز ہواؤں کی توقع ہے۔
محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ ملک کے بالائی علاقوں میں مرطوب ہوائیں داخل ہو رہی ہیں جس کے نتیجے میں کشمیر، گلگت بلتستان، مری، گلیات اور خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں 13 تا 16 جون کے دوران گرد آلود طوفان، بارش اور بعض مقامات پر ژالہ باری بھی متوقع ہے۔
اسی طرح اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور سمیت بالائی و وسطی پنجاب اور بلوچستان کے اضلاع ژوب، بارکھان اور موسیٰ خیل میں بھی 16 جون تک بارش ہونے کا امکان ہے۔
جنوبی پنجاب کے تمام اضلاع میں بھی اس دوران گرد آلود آندھیوں اور گرج چمک کے ساتھ بارش کی پیشگوئی کی گئی ہے، یہ موسمی صورتحال حالیہ دنوں میں ملک بھر میں جاری شدید گرمی سے عارضی ریلیف فراہم کرے گی۔
Post Views: 3.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: محکمہ موسمیات کا امکان ہے علاقوں میں گرد آلود
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔