ایرانی حملوں کو روکنے کیلیے امریکا کھل کر اسرائیل کی مددکرنے لگا
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسرائیل کو ایران کی جوابی کارروائی سے بچانے کے لیے امریکا کُھل کر مدد کرنے لگا۔ امریکی فضائی دفاعی نظام اور بحری ڈسٹرائر نے اسرائیل پر فائر کیے گئے ایرانی میزائلوں کو مار گرانے میں مدد کی ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق امریکی حکام نے بتایا کہ امریکی فضائی دفاعی نظام اور بحریہ کے ایک ڈسٹرائر نے جمعہ کو آنے والے بیلسٹک میزائلوں کو مار گرانے میں اسرائیل کی مدد کی جو تہران نے ایران کی جوہری تنصیبات اور اعلیٰ فوجی رہنماؤں پر اسرائیلی حملوں کے جواب میں شروع کیا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکا کے پاس زمینی پر پیٹریاٹ میزائل دفاعی نظام اور مشرق وسطیٰ میں ٹرمینل ہائی ایلٹیٹیوڈ ایئر ڈیفنس سسٹم ہے جو بیلسٹک میزائلوں کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جسے ایران نے اسرائیل کے ابتدائی حملے کے جواب میں متعدد بیراجوں میں فائر کیا۔
ایک اہلکار نے بتایا کہ مشرقی بحیرہ روم میں بحریہ کے ایک ڈسٹرائر نے اسرائیل کی طرف بڑھنے والے ایرانی میزائلوں کو بھی مار گرایا۔
امریکی حکام نے بتایا کہ نیوی نے تباہ کن یو ایس ایس تھامس ہڈنر کو، جو بیلسٹک میزائلوں کے خلاف دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، کو مغربی بحیرہ روم سے مشرقی بحیرہ روم کی طرف سفر شروع کرنے کی ہدایت کی ہے اور دوسرے ڈسٹرائر کو آگے بڑھنے کی ہدایت کی ہے تاکہ وائٹ ہاؤس کی طرف سے درخواست کرنے پر دستیاب ہو سکے۔
تہران میں غیر ملکی سفیروں کے ساتھ ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ ایرانی وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل امریکی حمایت کے بغیر جارحیت کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے پاس اس بات کے ٹھوس شواہد موجود ہیں کہ امریکی افواج اسلامی جمہوریہ کے خلاف اسرائیلی حکومت کے فوجی حملوں کی حمایت کر رہی ہیں، امریکا کو ان حملوں کا جوابدہ ہونا چاہیے۔
عراقچی نے مزید کہا کہ امریکا کو اپنے واضح موقف کا اعلان کرنا چاہیے اور ایران کی جوہری تنصیبات پر اسرائیلی حملوں کی مذمت کرنی چاہیے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ تہران توقع کرتا ہے کہ واشنگٹن اس معاملے سے ہٹ جائے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی بے حسی کی بھی مذمت کی اور کہا کہ ایران کا اسرائیلی فوجی اور اقتصادی اہداف پر حملوں کا مقصد اپنا دفاع کرنا ہے۔
ایران کے میزائل حملے، جو کہ آپریشن ”ٹریو پرومس III“ کا حصہ ہیں، تین دن قبل شروع ہوئے تھے۔ ان حملوں کے دوران تل ابیب، حیفہ اور مقبوضہ فلسطین کے دیگر اہم علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔
عبرانی زبان کے میڈیا نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ ایرانی میزائل حیفہ اور طبریہ (Tiberias) کو بھی لگے ہیں۔
مشرق وسطیٰ خطرناک دور میں داخل ہوگیا ہے، اسرائیل نے ایران پر حملے جاری رکھنے، تہران کو بیروت بنانے کی دھمکی دیتے ہوئے تہران میں جوہری تنصیبات کے ارد گرد رہنے والے شہریوں کو علاقے سے انخلا کی وارننگ دی تھی، جب کہ ایران نے خبردار کیا تھا کہ مزید حملے کی صورت میں ایران کا ردعمل تباہ کن ہوگا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: میزائلوں کو کہ ایران کہا کہ
پڑھیں:
امریکا کی مدد کرنے والے ممالک بھی نشانے پر آسکتے ہیں، ایران کی سخت وارننگ
بشکیک / تہران: ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر کوئی بھی ملک امریکا کی جانب سے ایران پر ہونے والی کسی بھی فوجی کارروائی میں تعاون یا مدد فراہم کرتا ہے تو اسے بھی اس کے نتائج اور بین الاقوامی ذمہ داری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے شمالی ایران میں پاسداران انقلاب کے ایک بحری اڈے کو نشانہ بنایا ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی جارحیت میں حصہ لینے، تعاون کرنے یا سہولت فراہم کرنے والے تمام فریق بین الاقوامی قانون کے تحت ذمہ دار ہوں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران اپنے دفاع کے حق کے تحت ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔
ادھر ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق شمالی صوبے گیلان کے نائب گورنر علی باقری نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی میزائلوں نے صبح کے وقت زیباکنار میں واقع پاسداران انقلاب کی بحریہ کے ایک ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا۔
ایرانی حکام کے مطابق حملے کے نتیجے میں فوجی تنصیب میں موجود کچھ آلات کو نقصان پہنچا، تاہم کسی جانی نقصان یا مزید تفصیلات کے بارے میں فوری طور پر معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
تاحال امریکا کی جانب سے ایرانی حکام کے اس دعوے پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جبکہ آزاد ذرائع سے بھی اس حملے کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے، جبکہ دونوں ممالک کے بیانات سے سفارتی تناؤ میں مزید اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔