جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اقوام متحدہ اور عالمی عدالت انصاف کے کسی فیصلے کو قبول نہیں کرتا، اسرائیل کا احتساب ہونا چاہیے جبکہ اسلامی دنیا ایران کی حمایت کرتی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ پاکستان کی ساسی اور مذہبی جماعتوں اور اعلی حکام نے کہا ہے کہ ہم ہر سطح پر اور ہر فورم میں ایران کی حمایت کرتے رہیں گے۔ جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل اقوام متحدہ اور عالمی عدالت انصاف کے کسی فیصلے کو قبول نہیں کرتا، اسرائیل کا احتساب ہونا چاہیے جبکہ اسلامی دنیا ایران کی حمایت کرتی ہے۔

پاکستان کے ایک نجی ٹیلی ویژن کے پروگرام میں راہنما پیپلز پارٹی اور صوبائی وزیر سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ہم ایران کی حمایت اور اسرائیل کی مذمت کرتے ہیں۔ ناصر حسین شاہ نے کہا کہ آپ نے بھی اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کا کلپ دیکھا ہوگا جس میں وہ کھل کر کہہ رہا ہے کہ ایران اور پھر پاکستان، یہ 2 ملک نیو کلیئر میں جا رہے ہیں۔ یہ عزائم اسرائیل کے، جو اپنے آپ کو خطے کا بدمعاش سمجھتا ہے، اسی وجہ سے وہ اس طرح کی حرکتیں کر رہا ہے۔ اسی لیے اس نے ایران پر حملہ کیا۔

ناصر حسین شاہ نے کہا کہ ایران کے عزم کو سلام پیش کرتے ہیں کہ انھوں نے جس طرح جوابی حملہ کیا اور اسرائیل کے پورے سسٹم کو کافی حد تک ناکارہ بنایا، اور اس کے 2 بڑے نامی گرامی طیارے، جن پر اسرائیل بڑا مان کرتا تھا، انھیں بھی تباہ کیا۔ ایران کو ایسے ترنوالہ نہ سمجھا جائے، اور اس نے ثابت بھی کیا ہے۔

کوارڈینیٹر وزیراعظم رانا احسان افضل خان نے کہا کہ خواجہ آصف صاحب نے جو بات کی، بالکل درست کی۔ انھوں نے مسلمان ممالک کو کہا کہ جن کے اسرائیل سے تعلقات ہیں، انھیں ختم کیا جائے۔ وزیر دفاع نے کہا کہ اسرائیل سے اپنے تعلقات ختم کرنے چاہییں۔ وزارت خارجہ نے بیان دیا کہ ایران کے ساتھ ہم رابطے میں ہیں، امداد اور سپورٹ سیل بنا دیا گیا ہے۔ جو امداد ہم کر سکتے ہیں، وہ کریں گے، چاہے ڈاکٹرز کی سپورٹ ہو یا اور کسی چیز کی، وہ ہم دیں گے۔ حکومت نے واضح کہا ہے کہ کسی بھی ملک پر ایسا حملہ قابلِ قبول نہیں ہوگا، خاص کر ایسے ملک پر جس نے غزہ میں بچوں کا قتل عام کیا اور فلسطینیوں پر ظلم ڈھایا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: ایران کی حمایت کہا ہے کہ نے کہا کہ اور اس

پڑھیں:

بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال

ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کیلئے سرگرم عمل ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اترپردیش کے پریاگ راج کے ایک کانفرنس ہال میں عام آدمی پارٹی کے راجیہ سبھا رکن سنجے سنگھ طلبہ کے ساتھ حالیہ پیپر لیک معاملے پر تبادلہ خیال کررہے ہیں۔ اچانک وہاں یوپی پولیس اور سرکاری افسران آجاتے ہیں اور انھیں اس ایشو پر بات کرنے سے منع کرتے ہیں۔ سنجے سنگھ اور سرکاری افسران میں گرما گرم بحث ہوتی ہے۔ اس معاملے پر اب عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کا رد عمل سامنے آیا ہے۔ عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال نے بی جے پی حکومت پر تنقید کی ہے۔ ایکس پر سنجے سنگھ کی پوسٹ کا اشتراک کرتے ہوئے اروند کیجریوال نے بی جے پی کو نشانہ بنایا، اور الزام لگایا کہ وہ (مودی حکومت) پیپر لیک جیسے مسائل کو حل کرنے میں کم کارروائی کرتے ہیں لیکن اس پر بحث کو روکنے کے لئے سرگرم عمل ہے۔

اروند کیجریوال نے کہا کہ بی جے پی کو پیپر لیک سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ مسئلہ پیپر لیک پر ہونے والی بحث سے ہے۔ یہ پیر کے روز سنجے سنگھ کے الزام کے بعد سامنے آیا ہے کہ یوپی پولیس اور سرکاری اہلکاروں نے پریاگ راج میں پیپر لیک ہونے پر طلباء کے ساتھ ان کی بات چیت کو روکنے کی کوشش کی۔ سنجے سنگھ نے کہا کہ آمریت اپنے عروج پر پہنچ گئی ہے۔ ایکس پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے سنجے سنگھ نے کہا کہ پریاگ راج، یوپی میں آمریت عروج پر پہنچ گئی ہے، بند کمروں میں بھی، لاکھوں طلباء کے مستقبل پر بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، انتظامیہ پیپر لیک ہونے کی بات کو بھی روکنے کے لئے پہنچ گئی ہے۔ مودی-یوگی کی ڈبل انجن والی حکومت مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے اور اپوزیشن کو کچلنا چاہتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟
  • خطے میں تنازعات کے پُرامن حل کیلئے کوششیں جاری رکھیں گے: اسحاق ڈار
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم