اسرائیلی فوج کا مشہد ایئرپورٹ پر ایندھن بھرنے والے ایرانی طیارے پر بمباری کا دعویٰ
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
یروشلم(نیوز ڈیسک)اسرائیلی فوج (آئی ڈی ایف) نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فضائیہ نے شمال مشرقی ایران میں مشہد ایئرپورٹ پر ایرانی ایندھن بھرنے والے طیارے کو بمباری کا نشانہ بنایا۔
ٹائمز آف اسرائیل کی رپورٹ کے مطابق یہ علاقہ اسرائیل سے تقریباً 2 ہزار 300 کلومیٹر دور واقع ہے، اور آپریشن کے آغاز سے اب تک کا ’سب سے دور دراز حملہ‘ ہے۔
اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ فضائیہ پورے ایران میں فضائی برتری حاصل کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔
مشہد ایئرپورٹ پر یہ حملہ ممکنہ طور پر اسرائیلی فضائیہ کا تاریخ کا سب سے دور دراز فضائی حملہ ہے۔
1985 میں، اسرائیلی فضائیہ نے تیونس میں فلسطینی آزادی کے لیے کام کرنیوالی تنظیم (پی ایل او) کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا تھا، جو کہ اسرائیل سے 2 ہزار کلومیٹر سے زیادہ فاصلے پر تھا۔
غارات عنيفة استهدفت مطار مشهد في ايران pic.
— عمر مدنيه (@Omar_Madaniah) June 15, 2025
مزیدپڑھیں:ٹرمپ انتظامیہ کا مزید 36 ممالک کے شہریوں پر سفری پابندی عائد کرنے پر غور
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔