اس جنگ کو اسرائیل نے شروع کیا، اختتام ایران کرے گا، علامہ رمضان توقیر
اشاعت کی تاریخ: 15th, June 2025 GMT
ڈی آئی خان میں شہدائے ایران کی مجلس ترحیم سے خطاب کرتے ہوئے ایس یو سی کے مرکزی رہنماء کا کہنا تھا کہ اس جنگ نے بالکل کربلا کے حق و باطل کے معرکہ کی یاد تازہ کر دی ہے۔ ایک طرف یزیدیت کے پیروکار دوسری طرف حسینیت کے پیروکار ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ڈیرہ اسماعیل خان مرکزی امام بارگاہ حیدریہ میں اسرائیلی جارحیت و بربریت میں شہید ہونے والے ایران کے سائنسدان و جنرل شہدائے مقاومت و استقامت کے ایصال ثواب کے لیے مجلس ترحیم کا انعقاد کیا گیا۔ شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر، مولانا سید اسد رضا حسنی، مولانا عمران جوادی، مولانا تنویر عباس عسکری اور مولانا احسن ثقلین اصفہانی نے مجلس ترحیم سے خطاب کرتے ہوئے شہدائے کو خراج تحسین پیش کیا۔ علامہ محمد رمضان توقیر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگ نے بالکل کربلا کے حق و باطل کے معرکہ کی یاد تازہ کر دی ہے۔ ایک طرف یزیدیت کے پیروکار دوسری طرف حسینیت کے پیروکار ہیں، یزیدیت کے پیروکار نے فرزند حسین کو بیعت کرنے اور سر جھکانے پر مجبور کیا تو فرزند حسین نے اپنے دادا کی طرح انکار کرتے ہوئے مشن حسین پر عمل کرتے ہوئے ڈٹ گئے۔ شہداء کی قربانیاں دے کر ذلت کی زندگی سے عزت کی موت کی راہ اختیار کرتے ہوئے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے سر فراز و سر بلند رہے اور داد و تحسین کے حق دار ٹھہرے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ دوسری طرف یہود و ہنوز کے حصہ میں ہمیشہ ذلت و رسوائی اور راہ فرار اختیار کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ اس جنگ کو ہمیشہ کی طرح رات کے اندھیرے میں شروع کیا، عربوں نے ہمیشہ منفقانہ رویہ اپناتے ہوئے یا تو خاموش رہے یا اپنی عزتوں کو طائفوں کی طرح پیش کر کے یہودیوں کےلیے دلی تسکین اور عیاشی کے اسباب پیدا کئے۔ اس جنگ کو اسرائیل نے شروع کر کے احمقانہ اقدام کیا لیکن اب ایران نے اللہ کے بابرکت نام سے شروع کرکے اللہ کی نصرت و مدد سے کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر کرے گا، جنگ کے شروع ہوتے ہی کئی اعلیٰ اسرائیلی شخصیات چھپنے کے راہ فرار اختیار کر چکے ہیں۔ علامہ محمد رمضان توقیر نے کہا کہ ان شاء اللہ بہت جلد اسرائیلی کی نابودی اور استعمار کی ناکامی اور ایران کی کامیابی اور فتح کے لئے جشن منائیں گے۔جشن کی ریلیاں اور جلسے جلوس کرینگے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: رمضان توقیر کے پیروکار کرتے ہوئے
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔