ایران کا بڑا حملہ، 100 کے قریب میزائل داغے دیے، وسطی اسرائیل میں بجلی بند
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
ایران نے صبح سویرے اسرائیل پر پھر بڑا میزائل حملہ کیا، اور 100 کے قریب میزائل داغے دیے، تل ابیب اور مقبوضہ بیت المقدس میں دھماکے سنے گئے۔
اسرائیل کے دفاعی نظام نے کئی حملوں کو فضا میں ناکام بنانے کی کوشش کی۔ حیفا میں ایران کے میزائل حملوں سے پاور پلانٹ میں آگ لگ گئی۔
حیفہ پاور پلانٹ پر میزائل حملے کے نتیجے میں وسطی اسرائیل میں بجلی بند ہوگئی۔ اسرائیل کے وسطی علاقوں میں نقصانات ہوئے۔ تل ابیب میں بھی کئی راکٹ گرے ہیں۔ جن سے نقصانات ہوئے ہیں۔
اتوار کی رات بھی ایران نے اسرائیل کے متعدد مقامات پر میزائل حملے کئے تھے ۔جن سے کئی عمارتیں متاثر ہوئیں۔حیفا میں ایرانی میزائل حملے سے 4 افراد زخمی ہوئے۔
ایرانی میڈیا کا اسرائیل کے بن گورین ایئر پورٹ پر میزائل حملے کا دعویٰ۔اسرائیلی فضائیہ نے ایران سے آنے والے متعدد ڈرونز کو مار گرانے کا دعویٰ کیا۔
اس سے پہلے ایران کے جوابی میزائل حملوں سے تل ابیب، حیفہ، تامرا، قیصریہ سمیت کئی اسرائیلی شہروں میں تباہی مچ گئی، کئی عمارتیں کھنڈر بن گئیں، حملوں میں 14 افراد ہلاک، 300 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
ایرانی فوج نے کہا ہے کہ اسرائیل کا کوئی کونا رہنے کے قابل نہیں چھوڑیں گے، اسرائیلی آبادکار مقبوضہ علاقے فوری خالی کردیں۔
Post Views: 5.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میزائل حملے اسرائیل کے
پڑھیں:
اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل کی عدم آمادگی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔ عالمی تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ اسرائیل اس وقت ایسے کسی معاہدے کیلئے تیار دکھائی نہیں دیتا، جس کے تحت لبنان میں جاری کشیدگی اور جنگی کارروائیوں کا خاتمہ ضروری ہو۔ مشرق وسطیٰ کونسل برائے عالمی امور کے فیلو عمر رحمان نے الجزیرہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا اسرائیل کے عزائم سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ جنوبی لبنان پر طویل مدت تک اپنا کنٹرول برقرار رکھنا چاہتا ہے اور وہاں آبادی کی جبری بے دخلی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے، جس کے آثار موجودہ صورتحال میں نمایاں طور پر دیکھے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان اب بھی بعض اختلافات موجود ہیں، تاہم دونوں ممالک ایسے معاہدے تک پہنچ سکتے ہیں، جسے بعد میں مزید تفصیل کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے وسعت دی جا سکے، حزب اللہ کے ساتھ جنگ بندی کے معاہدے پر آمادہ نہ ہونے کی اسرائیلی پالیسی پورے عمل کو سبوتاژ کرنے اور امریکہ ایران معاہدے کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔