ججز ٹرانسفر اور سینیارٹی کیس:عدلیہ میں ڈیپوٹیشن یا جج کو کسی دوسری عدالت میں ضم کرنے کا اصول نہیں، جسٹس محمد علی مظہر
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ عدلیہ میں ڈیپوٹیشن یا جج کو کسی دوسری عدالت میں ضم کرنے کا اصول نہیں ہے۔ سول سروس میں ڈیپوٹیشن یا ملازم کو محکمہ میں ضم کرنے کا اصول ہے۔
سپریم کورٹ میں ججز سنیارٹی اور ٹرانسفر کیس کی سماعت آج بروز پیر ایک بار پھر شروع ہوگئی ہے۔ جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 5 رکنی آئینی بینچ سماعت کر رہا ہے۔ آج کی سماعت میں درخواست گزار ججز کے وکیل بیرسٹر صلاح الدین کے جواب الجواب دلائل جاری ہیں۔
بیرسٹر صلاح الدین نے موقف اختیار کیا ہے کہ آرٹیکل 200 کی وضاحت کا اطلاق صرف ذیلی سیکشن 3 پر ہوتا ہے۔ سول سروس میں ایک محکمہ سے دوسرے محکمہ میں تبادلہ پر سنیارٹی جونئیر ہو جاتی ہے۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ عدلیہ میں کوئی ڈیپوٹیشن یا جج کو کسی دوسری عدالت میں ضم کرنے کا اصول نہیں ہے۔ سول سروس میں ڈیپوٹیشن یا ملازم کو محکمہ میں ضم کرنے کا اصول ہے۔
یہ بھی پڑھیے ججز ٹرانسفر اور سینیارٹی کیس: چیف جسٹس سے ججز کی سینیارٹی کا معاملہ چھپایا گیا، وکیل فیصل صدیقی
ایڈووکیٹ صلاح الدین احمد نے کہا کہ سول سروس کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ کیڈر ایک ہو تو سنیارٹی متاثر نہیں ہوتی، اگر کیڈر الگ ہوگا تو سنیارٹی متاثر ہوگی۔ مگر یہاں معاملہ ججز ٹرانسفرز اور سنیارٹی کا ہے، اس پر براہ راست سول سروس رولز کا اطلاق نہیں ہوتا۔
ان کا کہنا تھا کہ سروس میں اگر کسی کی مرضی کے ساتھ تبادلہ ہو اور سنیارٹی پر فرق آئے تو انصافی نہیں ہوگی۔ اگر تبادلہ کسی پر مسلط کردیا جائے اور سنیارٹی متاثر ہو تو ناانصافی ہوگی۔ اسی اصول کے تحت انڈیا میں ججز سنیارٹی ٹرانسفرز کے وقت ان کے ساتھ چلتی ہے کیونکہ ان سے پوچھا نہیں جاتا۔
یہ بھی پڑھیے تبادلے کے معاملے میں 3 چیف جسٹس شامل تھے، ہر چیز ایگزیکٹو کے ہاتھ میں نہیں تھی، جسٹس محمد علی مظہر کے ریمارکس
انہوں نے کہا کہ اٹارنی جنرل نے کہا کہ اگر ٹرانسفر شدہ ججز کی سنیارٹی متاثر ہوئی تو ان کے کے ساتھ ناانصافی ہوگی، ناانصافی کیسے ہوگی؟ ججز کو ان کی مرضی سے ٹرانسفر کیا گیا ہے۔ ابھی 2 ہفتے پہلے ہندوستانی ہائیکورٹس میں ججز ٹرانسفر ہوئے۔
وکیل صلاح الدین احمد دہلی ہائیکورٹ ہے سینئر پیونی ججز کو کرناٹک ہائیکورٹ کا چیف جسٹس لگایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اصول یہ ہے کہ ٹرانسفرز کے وقت صرف ٹرانسفر شدہ ججز کے ساتھ انصاف نہیں ہونا چاہیے۔ جس ہائیکورٹ میں ججز آئے ہیں وہاں کے ججز سے بھی انصافی نہیں ہونی چاہیے۔ جس ہائیکورٹ سے ججز ٹرانسفر ہوئے وہاں کے دیگر ججز کو بھی ٹرانسفر ہونے کا موقع دیا جانا چاہیے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ججز ٹرانسفر اور سینیارٹی کیس جسٹس محمد علی مظہر سپریم کورٹ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ججز ٹرانسفر اور سینیارٹی کیس جسٹس محمد علی مظہر سپریم کورٹ میں ضم کرنے کا اصول جسٹس محمد علی مظہر میں ڈیپوٹیشن سنیارٹی متاثر صلاح الدین سول سروس کے ساتھ
پڑھیں:
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی، وفاقی آئینی عدالت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈ سپلائی کرنے سے متعلق اہم فیصلہ جاری کر دیا.عدالت نے قرار دیا ہے کہ ٹیکس قانون کے سیکشن 31اے میں ابہام ہے۔
جسٹس عامر فاروق کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے فیصلہ جاری کر دیا. وفاقی آئینی عدالت نے فیصلے میں کہا حکومت نے غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو فیڈسپلائی کرنے پر مل مالکان پر اضافی ٹیکس عائد کیا۔
اضافی ٹیکس سال 2024 کے فنانس ایکٹ کی مد میں وصول کیا جا رہا تھا،قانون کے مطابق پولٹری فارمز کو ٹیکس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے،قانون کے مطابق استثنی ملنے پر پولٹری فارمز رجسٹریشن کے پابند نہیں ہیں۔
قانون غیررجسٹرڈ پولٹری فارمز کو مکمل تحفظ فراہم کرتا ہے،رجسٹریشن کی قانونی پابندی نہ ہونے پر پولٹری فارمز اور فیڈ ملز کو سزا نہیں دی جا سکتی،وفاقی آئینی عدالت نے لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا۔
لاہور ہائیکورٹ نے پولٹری فیڈ ملز سے 4% اضافی ٹیکس کی وصولی کو درست قرار دیا تھا.پولٹری فیڈ ملز مالکان نے اضافی ٹیکس کی وصولی کیخلاف عدالت سے رجوع کیا تھا۔