"کوئٹہ میں پٹرول کا کوئی بحران نہیں"، حکومتی ترجمان نے سب کو حیران کر دیا
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
ترجمان شاہد رند کا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں پٹرول کی کوئی قلت نہیں ہے۔ دوسری جانب شہر کے بیشتر پٹرول پمپس بند ہو گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ حکومت بلوچستان کے ترجمان شاہد رند نے کوئٹہ میں پٹرول کی قلت کی خبروں کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے افواہ قرار دے کر سب کو حیران کر دیا۔ انکا کہنا ہے کہ کوئٹہ میں پٹرول کا کوئی بحران نہیں ہے۔ عوام کو پٹرول پمپ سے کوئی شکایت ہے تو ڈی سی کوئٹہ سے رجوع کرے۔ دوسری جانب شہر کے بیشتر پٹرول پمپس پٹرول نہ ہونے کے باعث بند ہو گئے ہیں۔ ترجمان حکومت بلوچستان نے میڈیا رپورٹس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کوئٹہ میں پیٹرول کا کوئی بحران نہیں ہے۔ ایسی افواہیں ایرانی پیٹرول کے کاروبار سے وابستہ اسمگلرز کی جانب سے پھیلائی جا رہی ہیں۔ پیٹرول بحران کا تاثر پیدا کرکے ایرانی پیٹرول چھوڑنے کا مطالبہ اسمگلرز کی جانب سے کیا جا رہا ہے۔ قانونی پیٹرول کی دستیابی کے لئے پیٹرول پمپس کو پابند کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پیٹرول پمپس کے اسٹوریج چیک کرکے قانونی پیٹرول کی فراہمی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ قانونی پیٹرول کی عدم دستیابی سے متعلق شکایات ڈپٹی کمشنر آفس کوئٹہ میں دی جاسکتی ہے۔ کوئی بھی پیٹرول پمپ پیٹرول دینے سے حیل و حجت کرے گا تو کارروائی ہوگی۔ ترجمان نے کہا کہ ایرانی پیٹرول اور اسمگلنگ کے خلاف سخت کارروائی جاری ہے۔ دوسری جانب ترجمان شاہد رند کے دعوے کے برعکس کوئٹہ شہر کے بیشتر پٹرول پمپس بند ہیں۔ کوئٹہ کینٹ سمیت چند ایک پٹرول پمپس کھلے ہیں، جن پر لوگ درجنوں کی تعداد میں پٹرول حاصل کرنے کے لئے کھڑے ہیں۔ مبینہ طور پر ان کے پاس بھی آج پٹرول ختم ہو جائے گا۔ حکومت بلوچستان نے پٹرول کی قلت کی خبروں کے یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے افواہ قرار دیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: پٹرول پمپس
پڑھیں:
پیٹرول مہنگا، کیا دفتروں کے لیے ہفتہ دوبارہ 3 یا 4 روز پر مشتمل ہوسکتا ہے؟
پیٹرول کی قیمتوں میں ہر روز اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور قیمت 327 روپے فی لیٹر سے تجاوز کر گئی ہے۔
اس اضافے کے بعد سرکاری و نجی شعبے کے ملازمین کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ ایندھن کی بڑھتی لاگت کو مدنظر رکھتے ہوئے ہفتے میں دفتری حاضری کم کی جائے اور 2 روز گھر سے کام یعنی ورک فرام ہوم کی اجازت دی جائے۔
تاہم، اس وقت وفاقی حکومت کی جانب سے ہفتے میں صرف 3 دفتری دن یا 2 دن لازمی ورک فرام ہوم کرنے کی کوئی سرکاری تجویز یا منظوری سامنے نہیں آئی۔
یہ بھی پڑھیں:
البتہ حکومت ماضی کی طرح توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے مختلف اقدامات پر غور کر رہی ہے، لیکن موجودہ سرکاری معلومات کے مطابق 3 روزہ آفس ورک کے کسی فیصلے کے زیر غور ہونے کی تصدیق نہیں ہوئی۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے وی نیوز کو بتایا کہ حکومت نے ماضی میں ایندھن بچانے کے لیے محدود مدت کے لیے دفتری اوقات اور ورکنگ ڈیز میں تبدیلیاں کی تھیں۔
’فی الحال حکومت نے دوبارہ ہفتے میں 3 یا 4 ورکنگ ڈیز نافذ کرنے کا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا ہے، نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے۔‘
مزید پڑھیں:
گریڈ 18 کے سرکاری افسر محمد جہانزیب بٹ سمجھتے ہیں کہ اگر ہفتے میں 3 دن دفتر اور 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جائے تو ان کے پیٹرول کی مد میں اخراجات میں نمایاں کمی آئے گی۔
’میرا زیادہ تر کام لیپ ٹاپ، آن لائن رابطے اور ٹیلی فون کے ذریعے مؤثر انداز میں انجام دیا جا سکتا ہے، جس سے کارکردگی بھی متاثر نہیں ہوگی۔‘
انہوں نے کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے باعث میرے ماہانہ سفری اخراجات بہت بڑھ گئے ہیں، جبکہ آمدنی میں کوئی اضافہ نہیں ہوا، جس سے گھریلو بجٹ سنبھالنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں:
’اگر ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت مل جائے تو نہ صرف میرے سفری اخراجات کم ہوں گے بلکہ میں اپنی ذمہ داریاں بھی مؤثر انداز میں، بغیر کسی رکاوٹ کے، انجام دیتا رہوں گا۔‘
ٹیلی کام سیکٹر سے منسلک شہزاد خان نے وی نیوز کو بتایا کہ اب دنیا میں بیشتر نوکریاں ایسی ہیں جو لیپ ٹاپ اور انٹرنیٹ کی مدد سے باآسانی کی جا سکتی ہیں۔
گزشتہ 3 ماہ سے ہماری کمپنی نے جمعہ کے روز ورک فرام ہوم کی اجازت دے رکھی ہے لیکن کسی کے کام کا حرج نہیں ہوا۔
’مہنگائی کے اس دور اور پیٹرول کی بڑھتی قیمتوں کے باعث اگر ملازمین کو ہفتے میں 2 دن گھر سے کام کرنے کی اجازت دے دی جائے تو اس سے لوگوں کو بہت سہولت ہوگی۔‘
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آمدنی انٹرنیٹ ایندھن پیٹرول کمپنی گھریلو بجٹ لیپ ٹاپ ملازمین مہنگائی نوکریاں ورک فرام ہوم ورکنگ ڈیز