سری لنکا کا بنگلہ دیش کے خلاف ٹیسٹ سیریز کیلئے اسکواڈ کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
کولمبو: سری لنکا نے بنگلہ دیش کے خلاف دو ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کے پہلے میچ کے لیے 18 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا۔
دھننجیا ڈی سلوا سری لنکن ٹیم کی قیادت کریں گے۔ اس سیریز کی خاص بات یہ ہے کہ یہ سینئر آل راؤنڈر اینجلو میتھیوز کے کیریئر کا آخری ٹیسٹ ہوگا۔ 37 سالہ میتھیوز نے 2009 میں گال میں ٹیسٹ ڈیبیو کیا تھا اور اب وہ اپنا الوداعی میچ بھی اسی مقام پر کھیلیں گے۔
میتھیوز سے قبل دیمتھ کرونارتنے بھی رواں سال فروری میں آسٹریلیا کے خلاف گال ٹیسٹ کے بعد ریٹائر ہو چکے ہیں۔
ٹیم میں تین نئے کھلاڑیوں پاسندو سوریابندارا، پوان رتھناایک اور ایسیٹھا وجے سندارا کو شامل کیا گیا ہے جو اس سیریز میں ٹیسٹ ڈیبیو کریں گے۔
یہ سیریز 2025-2027 ورلڈ ٹیسٹ چیمپئن شپ سائیکل کے آغاز کی حیثیت بھی رکھتی ہے۔
دوسری جانب، آسٹریلیا کے خلاف گزشتہ سیریز میں ڈیبیو کرنے والے لاہیرو ادارا اور سونل دنوشا کو بھی اسکواڈ میں برقرار رکھا گیا ہے۔
تجربہ کار فاسٹ بولر لاہیرو کمارا بھی ٹیم کا حصہ ہیں تاہم وہ انجری کے باعث پہلا ٹیسٹ نہیں کھیل سکیں گے۔
ٹیسٹ سیریز کا شیڈول:
پہلا ٹیسٹ: 17 جون، گال
دوسرا ٹیسٹ: 25 جون، کولمبو
سری لنکن اسکواڈ:
دھننجیا ڈی سلوا (کپتان)، پاتھم نسانکا، اوشادا فرنینڈو، لاہیرو ادارا، دنیش چندیمل، اینجلو میتھیوز، کوسل مینڈس، کامندو مینڈس، پاسندو سوریابندارا، سونل دنوشا، پوان رتھناایک، پرباتھ جےسوریا، تھارندو رتھناایک، اکیلا داننجیا، ملان رتھناایک، اسیتھا فرنینڈو، کسن راجیتھا، ایسیٹھا وجے سندارا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کے خلاف
پڑھیں:
بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
اپنے ایک جاری بیان میں بحرینی وزارت داخلہ کا کہنا تھا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کیخلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ اسلام ٹائمز۔ آج "بحرین" کی وزارت داخلہ نے نام نہاد علاقائی سیکورٹی خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے، اپنے شہریوں کو تا حکم ثانوی "ایران" اور "عراق" کے سفر سے روک دیا۔ مذکورہ ملک کی وزارت داخلہ نے کہا کہ اس حکم کی مخالفت کرنے والوں کے خلاف سخت تادیبی کارروائی انجام دی جائے گی۔ بحرین نے الزام لگایا کہ اس نے یہ فیصلہ ایرانی جارحیت کے نتیجے میں پیدا ہونے والی موجودہ سیکیورٹی صورتحال کے پیش نظر کیا۔ جس کا مقصد ملک کی سلامتی کو برقرار رکھنا اور بحرینی شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانا ہے۔ حالانکہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جنگِ رمضان کے دوران ایران کے خلاف کھلی امریکی و صیہونی جارحیت میں بحرین برابر کا شریک ہے۔ خطے کا سب سے بڑا امریکی اڈہ بھی اسی ملک میں موجود ہے۔ ان اڈوں کے خلاف ایران کی جوابی کاری ضربوں نے بحرین کو شدید متاثر کیا۔ جس کی وجہ سے اُسے اقتصادی مشکلات کا سامنا ہے۔ مزید برآں کہ درست سفارتی فیصلوں کی بجائے "منامہ" اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے۔ جس سے اُسے مزید سنگین نتائج بھگتنا پڑ سکتے ہیں۔