Islam Times:
2026-06-03@07:37:11 GMT

حسین میلہ لقمان خیل چیک پوسٹ پر طالبان کا حملہ

اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT

حسین میلہ لقمان خیل چیک پوسٹ پر طالبان کا حملہ

اسلام ٹائمز: اسی دن 11 کور کمانڈر لیفٹننٹ جنرل عمر احمد بخاری پاراچنار تشریف لائے اور زخمیوں کی عیادت کرنے کے علاوہ فوجی جوانوں خصوصاً کمانڈر سید جاوید کو خراج تحسین پیش کیا۔ صوبیدار سید جاوید نے جواباً کہا کہ اپنی مٹی کی حفاظت ہر فوجی کا فرض اور ذمہ داری ہے۔ اسکے لئے کوئی تجلیل اور تعریف کا مستحق نہیں۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ مٹی پر اپنی جان تو چیز ہی کیا ہے، اپنے بچوں اور مال و منال سب کو قربان کرکے ہی دم لیں گے۔ رپورٹ: استاد الحسینی

12 جون کو صبح 4 بجے خوارج نے کوہ سفید کے کافی اندر واقع حسین میلہ ایف سی چیک پوسٹ پر بھاری ہتھیاروں کے ساتھ حملہ کیا۔ حملہ آور 50 تا 60 کے لگ بھگ بتائے جا رہے ہیں، جبکہ چیک پوسٹ کے اندر موجود نفری صرف 10 افراد پر مشتمل تھی۔ جنہیں صوبیدار سید جاوید حسین لیڈ کر رہے تھے۔ سید جاوید حسین کا تعلق لوئر کرم کے علاقے یعقوبی کے طوری سید خاندان سے ہے۔ صوبیدار کی کمان میں موجود 9 افراد کی مختصر فورس نے مسلسل چار گھنٹے تک خوارج کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ ان کی نسبت خوارج کی نفری پانچ چھ گنا زیادہ تھی اور ایف سی کی نسبت ان کے پاس ہتھیار بھی بھاری اور پیش رفتہ تھے۔

اس کے باوجود صوبیدار سید جاوید حسین نے اپنی مختصر نفری کے ہمراہ چار گھنٹے تک خوارج کا مقابلہ کیا، جس کے نتیجے میں لکی مروت کے رہائشی سپاہی سلیم خان جام شہادت نوش کرگئے۔ اس کے علاوہ صوبیدار سید جاوید حسین سمیت تمام کے تمام 9 فوجی جوان شدید زخمی ہوگئے۔ صوبیدار سید جاوید کی ایک آنکھ اور سر پر شدید زخم آئے ہیں۔ زخمیوں کو علاج کیلئے پشاور شفٹ کیا جاچکا ہے۔ جہاں ان کا سرکاری سطح پر علاج جاری ہے۔ اس واقعے کی تفصیل جاننے کیلئے اسی دن 11 کور کمانڈر لیفٹننٹ جنرل عمر احمد بخاری پاراچنار تشریف لائے اور زخمیوں کی عیادت کرنے کے علاوہ فوجی جوانوں خصوصاً کمانڈر سید جاوید کو خراج تحسین پیش کیا۔

صوبیدار سید جاوید نے جواباً کہا کہ اپنی مٹی کی حفاظت ہر فوجی کا فرض اور ذمہ داری ہے، اس کے لئے کوئی تجلیل اور تعریف کا مستحق نہیں۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ مٹی پر اپنی جان تو چیز ہی کیا ہے، اپنے بچوں اور مال و منال سب کو قربان کرکے ہی دم لیں گے۔ صوبیدار کے یہ الفاظ یقیناً سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ فوج کی اعلیٰ قیادت سے گزارش ہے کہ شہید سلیم خان اور کمانڈر صوبیدار سید جاوید حسین کو اس کارنامے کے اعزاز میں فوجی انعام سے نوازیں اور انہیں بہادری کا فوجی تمغہ عنایت فرمائیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: صوبیدار سید جاوید حسین

پڑھیں:

روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ

طالبان حکومت اور روس کے درمیان حالیہ سفارتی و سیکیورٹی روابط کے تناظر میں افغان سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث نے جنم لے لیا ہے، جہاں متعدد صارفین اور سیاسی مبصرین طالبان کے بانی ملا عمر کی سوویت یونین کے خلاف جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کے روس کے ساتھ تعلقات کو موضوعِ بحث بنا رہے ہیں۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والی مختلف پوسٹس، تبصروں اور سیاسی خاکوں میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ملا عمر نے افغانستان کی آزادی اور خودمختاری کے لیے سوویت افواج کے خلاف طویل جدوجہد کی تھی، جبکہ آج ان کے صاحبزادے اور طالبان حکومت کے وزیر دفاع ملا محمد یعوقب روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہے ہیں۔ ناقدین اس صورتحال کو ’تاریخی تضاد‘ قرار دیتے ہوئے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا موجودہ پالیسی طالبان کی ماضی کی جدوجہد سے مطابقت رکھتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:بہت ہوگیا، اب افغان طالبان کی تجاویز نہیں حل چاہیے، اور حل ہم نکالیں گے: ڈی جی آئی ایس پی آر

سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی ایک تحریر میں کہا گیا ہے کہ سوویت جنگ کے دوران ہزاروں افغان شہری جانوں سے گئے، دیہات تباہ ہوئے اور کئی نسلیں جنگ کے اثرات کا شکار رہیں۔ اس تناظر میں بعض حلقے روس کے ساتھ بڑھتے تعلقات پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں اور سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا افغانستان اپنی تاریخ کے تلخ اسباق کو فراموش کر رہا ہے۔

بعض پوسٹس میں طالبان حکومت اور روس کے درمیان مبینہ سیکیورٹی تعاون کے دعوے بھی کیے گئے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق روس اور طالبان کے درمیان عسکری شعبے میں روابط بڑھ رہے ہیں، تاہم ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق نہیں ہو سکی۔ طالبان حکام بھی اس حوالے سے مختلف مواقع پر یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ ان کے خارجہ تعلقات قومی مفادات اور موجودہ علاقائی ضروریات کے مطابق استوار کیے جا رہے ہیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ افغانستان گزشتہ کئی دہائیوں سے عالمی طاقتوں کی رقابتوں کا مرکز رہا ہے۔ سوویت یونین کے انخلا، امریکی مداخلت اور بعد ازاں طالبان کی واپسی کے بعد خطے کی جغرافیائی سیاست میں مسلسل تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ ایسے میں طالبان حکومت کی روس، چین اور دیگر علاقائی طاقتوں کے ساتھ بڑھتی قربت کو بعض ماہرین ایک سفارتی ضرورت قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین اسے ماضی کے نظریاتی مؤقف سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:افغان طالبان ہماری تجاویز سے متفق مگر تحریری معاہدہ کرنے پر تیار نہیں، رانا ثنااللہ

دوسری جانب طالبان کے حامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی تعلقات مستقل دشمنی یا دوستی کے بجائے قومی مفادات کی بنیاد پر استوار ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ افغانستان کو معاشی استحکام، سفارتی روابط اور علاقائی تعاون کی ضرورت ہے، جس کے لیے مختلف ممالک کے ساتھ تعلقات ناگزیر ہیں۔

افغان سوشل میڈیا پر جاری اس بحث نے ایک بار پھر یہ سوال زندہ کر دیا ہے کہ بدلتے عالمی حالات میں نظریاتی جدوجہد اور عملی سیاست کے درمیان توازن کیسے برقرار رکھا جائے۔ ملا عمر کی تاریخی جدوجہد اور موجودہ طالبان قیادت کی سفارتی حکمت عملی کے درمیان موازنہ آنے والے دنوں میں بھی سیاسی اور عوامی حلقوں میں زیر بحث رہنے کا امکان ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

متعلقہ مضامین

  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • روس سے طالبان کے بڑھتے روابط پر افغان سوشل میڈیا میں بحث، ملا عمر کی جدوجہد اور موجودہ پالیسیوں کا موازنہ
  • گورنر سٹیٹ بنک کے بھائی آصف جاوید انتقال کر گئے
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • فیکٹ چیک: تھائی لینڈ کی ویڈیو پاکستانی فوجی افسر سے منسوب کرنے کی بھارتی کوشش ناکام
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان
  • نیتن یاہو کا لبنان میں فوجی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا اعلان