حسین میلہ لقمان خیل چیک پوسٹ پر طالبان کا حملہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
اسلام ٹائمز: اسی دن 11 کور کمانڈر لیفٹننٹ جنرل عمر احمد بخاری پاراچنار تشریف لائے اور زخمیوں کی عیادت کرنے کے علاوہ فوجی جوانوں خصوصاً کمانڈر سید جاوید کو خراج تحسین پیش کیا۔ صوبیدار سید جاوید نے جواباً کہا کہ اپنی مٹی کی حفاظت ہر فوجی کا فرض اور ذمہ داری ہے۔ اسکے لئے کوئی تجلیل اور تعریف کا مستحق نہیں۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ مٹی پر اپنی جان تو چیز ہی کیا ہے، اپنے بچوں اور مال و منال سب کو قربان کرکے ہی دم لیں گے۔ رپورٹ: استاد الحسینی
12 جون کو صبح 4 بجے خوارج نے کوہ سفید کے کافی اندر واقع حسین میلہ ایف سی چیک پوسٹ پر بھاری ہتھیاروں کے ساتھ حملہ کیا۔ حملہ آور 50 تا 60 کے لگ بھگ بتائے جا رہے ہیں، جبکہ چیک پوسٹ کے اندر موجود نفری صرف 10 افراد پر مشتمل تھی۔ جنہیں صوبیدار سید جاوید حسین لیڈ کر رہے تھے۔ سید جاوید حسین کا تعلق لوئر کرم کے علاقے یعقوبی کے طوری سید خاندان سے ہے۔ صوبیدار کی کمان میں موجود 9 افراد کی مختصر فورس نے مسلسل چار گھنٹے تک خوارج کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ ان کی نسبت خوارج کی نفری پانچ چھ گنا زیادہ تھی اور ایف سی کی نسبت ان کے پاس ہتھیار بھی بھاری اور پیش رفتہ تھے۔
اس کے باوجود صوبیدار سید جاوید حسین نے اپنی مختصر نفری کے ہمراہ چار گھنٹے تک خوارج کا مقابلہ کیا، جس کے نتیجے میں لکی مروت کے رہائشی سپاہی سلیم خان جام شہادت نوش کرگئے۔ اس کے علاوہ صوبیدار سید جاوید حسین سمیت تمام کے تمام 9 فوجی جوان شدید زخمی ہوگئے۔ صوبیدار سید جاوید کی ایک آنکھ اور سر پر شدید زخم آئے ہیں۔ زخمیوں کو علاج کیلئے پشاور شفٹ کیا جاچکا ہے۔ جہاں ان کا سرکاری سطح پر علاج جاری ہے۔ اس واقعے کی تفصیل جاننے کیلئے اسی دن 11 کور کمانڈر لیفٹننٹ جنرل عمر احمد بخاری پاراچنار تشریف لائے اور زخمیوں کی عیادت کرنے کے علاوہ فوجی جوانوں خصوصاً کمانڈر سید جاوید کو خراج تحسین پیش کیا۔
صوبیدار سید جاوید نے جواباً کہا کہ اپنی مٹی کی حفاظت ہر فوجی کا فرض اور ذمہ داری ہے، اس کے لئے کوئی تجلیل اور تعریف کا مستحق نہیں۔ انہوں نے اعادہ کیا کہ مٹی پر اپنی جان تو چیز ہی کیا ہے، اپنے بچوں اور مال و منال سب کو قربان کرکے ہی دم لیں گے۔ صوبیدار کے یہ الفاظ یقیناً سنہرے حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ فوج کی اعلیٰ قیادت سے گزارش ہے کہ شہید سلیم خان اور کمانڈر صوبیدار سید جاوید حسین کو اس کارنامے کے اعزاز میں فوجی انعام سے نوازیں اور انہیں بہادری کا فوجی تمغہ عنایت فرمائیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صوبیدار سید جاوید حسین
پڑھیں:
مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
بلوچستان کے ضلع مستونگ میں قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین شہید ہوگئے، جبکہ ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہو گئے۔ واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے کر حملہ آوروں کی تلاش اور تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
ڈپٹی کمشنر مستونگ بہرام سلیم کے مطابق سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کوئٹہ سے مستونگ جا رہے تھے کہ قومی شاہراہ پر نامعلوم مسلح افراد نے ان کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔ حملے کے نتیجے میں سیشن جج اور ان کے گن مین موقع پر ہی شہید ہوگئے، جبکہ گاڑی میں سوار ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری سمیت دو افراد شدید زخمی ہوئے۔
واقعے کے فوری بعد شہداء اور زخمیوں کو قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ سکیورٹی فورسز نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے اور حملہ آوروں کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے۔
دوسری جانب بلوچستان بار کونسل نے حملے کو نظامِ انصاف پر دہشت گردانہ حملہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی ہے۔ بار کونسل نے واقعے کے خلاف صوبہ بھر میں دو روزہ عدالتی ہڑتال اور تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اعلامیے میں ججز، وکلا اور شہریوں کی سکیورٹی یقینی بنانے، حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری اور انہیں قانون کے مطابق سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی اور صوبائی وزیر داخلہ میر ضیاء اللہ لانگو نے بھی واقعے کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو حملہ آوروں کی فوری گرفتاری اور واقعے کی جامع تحقیقات کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ ذمہ دار عناصر کو قانون کی گرفت سے نہیں بچنے دیا جائے گا۔