data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

برسلز (انٹرنیشنل ویب ڈیسک) یورپین دارالحکومت برسلز میں125 سے زاید ملک بھر کی تمام تنظیموں کا فلسطینیوںکے حق میں تاریخ کا بڑا احتجاجی مظاہرہ دیکھنے میں آیا، جس میں اسرائیلی حملوں کی بھر پور مذمت کی گئی۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ملکی تنظیموں کی جانب سے کیے گئے احتجاجی مظاہرے میں شامل لوگوں میںعمر رسیدہ افراد، بچوں اور معذوروں سمیت1 لاکھ سے زیادہ افراد نے شرکت کی۔
رپورٹ کے مطابق مظاہرے کے انتظامیہ نے اس قدر بڑے احتجاجی مظاہرے کو’ریڈ لائن’ کا نام دیا، جس میں شرکا سے اپیل کی تھی کہ وہ لباس کا کچھ حصہ یا اپنے ساتھ کوئی سرخ رنگ کا کپڑا ضرور ساتھ لائیں۔
مذکورہ مظاہرے کو ریڈ لائن کا نام دینے کا مقصد عوام کی جانب سے یورپین حکومتوں کی بے حسی کو نمایاں کر کے یہ بتانا مقصود تھا کہ صیہونی فوج کی جانب سے غزہ کے مظلوم عوام پر یکطرفہ مسلط کی جانے والی تباہی کے خلاف عوام کی سرخ لائن آچکی ہے۔
میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ احتجاجی مظاہرہ نارڈ اسٹیشن سے شروع ہوکر مختلف راستوں سے گزرتا ہوا یورپین ہیڈ کوارٹرز پر جا کر اختتام ہوا۔
اس حوالے سے ایک دلچسپ بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ مظاہرے کے آغاز میں بیلجیئم کے فنکاروں نے فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے اپنے فن کے ساتھ خصوصی پیغامات بھی دیے ہیں۔
مظاہرے میں موجود بینر پر تحریر تھا کہ اب عوام غزہ کے لوگوں کے لیے اپنی ریڈ لائن خود کھینچ رہے ہیں۔
مظاہرین نے اسرائیل کی مذمت میں مختلف نعرے لگاتے رہے حتیٰ کہ امریکن ایمبیسی کے سامنے شیم آن امریکا اور شیم آن یو کے نعرے بھی بلند کیے۔
مظاہرے کے اختتام پر مقررین نے مطالبہ کیا، جس میں کہا گیا کہ یورپین حکومتیں اسرائیلی جارحیت کے خلاف اپنی خاموشی کو ختم کریں اور صیہونی فوج پر پابندیاں عاید کریں۔برسلز (انٹرنیشنل ویب ڈیسک) یورپین دارالحکومت برسلز میں125 سے زاید ملک بھر کی تمام تنظیموں کا فلسطینیوںکے حق میں تاریخ کا بڑا احتجاجی مظاہرہ دیکھنے میں آیا، جس میں اسرائیلی حملوں کی بھر پور مذمت کی گئی۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ملکی تنظیموں کی جانب سے کیے گئے احتجاجی مظاہرے میں شامل لوگوں میںعمر رسیدہ افراد، بچوں اور معذوروں سمیت1 لاکھ سے زیادہ افراد نے شرکت کی۔
رپورٹ کے مطابق مظاہرے کے انتظامیہ نے اس قدر بڑے احتجاجی مظاہرے کو’ریڈ لائن’ کا نام دیا، جس میں شرکا سے اپیل کی تھی کہ وہ لباس کا کچھ حصہ یا اپنے ساتھ کوئی سرخ رنگ کا کپڑا ضرور ساتھ لائیں۔
مذکورہ مظاہرے کو ریڈ لائن کا نام دینے کا مقصد عوام کی جانب سے یورپین حکومتوں کی بے حسی کو نمایاں کر کے یہ بتانا مقصود تھا کہ صیہونی فوج کی جانب سے غزہ کے مظلوم عوام پر یکطرفہ مسلط کی جانے والی تباہی کے خلاف عوام کی سرخ لائن آچکی ہے۔
میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ احتجاجی مظاہرہ نارڈ اسٹیشن سے شروع ہوکر مختلف راستوں سے گزرتا ہوا یورپین ہیڈ کوارٹرز پر جا کر اختتام ہوا۔
اس حوالے سے ایک دلچسپ بات یہ بھی سامنے آئی ہے کہ مظاہرے کے آغاز میں بیلجیئم کے فنکاروں نے فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے کے لیے اپنے فن کے ساتھ خصوصی پیغامات بھی دیے ہیں۔
مظاہرے میں موجود بینر پر تحریر تھا کہ اب عوام غزہ کے لوگوں کے لیے اپنی ریڈ لائن خود کھینچ رہے ہیں۔
مظاہرین نے اسرائیل کی مذمت میں مختلف نعرے لگاتے رہے حتیٰ کہ امریکن ایمبیسی کے سامنے شیم آن امریکا اور شیم آن یو کے نعرے بھی بلند کیے۔
مظاہرے کے اختتام پر مقررین نے مطالبہ کیا، جس میں کہا گیا کہ یورپین حکومتیں اسرائیلی جارحیت کے خلاف اپنی خاموشی کو ختم کریں اور صیہونی فوج پر پابندیاں عاید کریں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: میڈیا کی رپورٹ کے مطابق مظاہرے کو ریڈ لائن احتجاجی مظاہرے احتجاجی مظاہرہ صیہونی فوج مظاہرے میں کی جانب سے مظاہرے کے کے خلاف کے ساتھ عوام کی غزہ کے تھا کہ کا نام کے لیے

پڑھیں:

کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کریں گے،بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کا حق ہے اور اس بارے میں کوئی دوسرا فیصلہ نہیں کر سکتا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری اپنے بیان میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ کشمیر کا فیصلہ صرف و صرف کشمیر کرے گا، نہ اسلام آباد، نہ پنجاب، نہ سندھ، نہ بلوچستان اور نہ ہی خیبرپختونخوا اس کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کی مرضی اور رائے کے مطابق ہونا چاہیے، کیونکہ یہی ان کا بنیادی اور جمہوری حق ہے۔

بلاول بھٹو زرداری نے آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے حوالے سے عوام سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ27 جولائی کو برابری کے حق اور عوامی نمائندگی کے لیے تیر کے نشان پر مہر لگا کر پاکستان پیپلز پارٹی کے نامزد امیدواروں کو کامیاب بنایا جائے۔

پیپلز پارٹی کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ عوام کی حمایت سے منتخب ہونے والے نمائندے کشمیری عوام کے حقوق اور مستقبل کے فیصلوں میں مؤثر کردار ادا کریں گے۔

واضح رہے کہ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات مرحلہ وار منعقد کیے جا رہے ہیں، جن کے پہلے مرحلے میں 27 جولائی کو میرپور ڈویژن میں پولنگ ہوگی، جبکہ دیگر مراحل اگست کے پہلے عشرے میں مکمل کیے جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • کشمیر کا فیصلہ صرف کشمیری عوام کریں گے،بلاول بھٹو
  • دہلی:سیکیورٹی فورسز نے احتجاجی مظاہرین پر پیلٹ گنز کا استعمال کیا، بھارتی اخبار کی رپورٹ
  • ’میمز‘ سے انقلاب؟ سی جے پی احتجاج میں جین زی کا نیا انداز
  • ایف بی آر کا انکم ٹیکس ریٹرنز جمع کرانے سے متعلق اہم اعلان
  • چیری نے پاکستان میں اپنی گاڑیوں کے تمام ماڈلز کی قیمتیں بڑھا دیں
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • پنجاب حکومت کا سرکاری ملازمین اور پنشنرز کو جولائی کی ادائیگیاں قبل از وقت کرنے کا فیصلہ
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • پی اے سی کی تمام ڈسکوز کے ملازمین کی تصدیق کی سفارش