تمام ہندوستانی طلباء ایران میں محفوظ مقامات پر منتقل کردئے گئے، بھارتی وزارت خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 16th, June 2025 GMT
طلباء کو سفارت خانے کیجانب سے سہولیات دیتے ہوئے ایران کے اندر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے، انہوں نے مزید کہا کہ دیگر قابل عمل اختیارات پر بھی غور کیا جارہا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کے درمیان بھارتی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ ہندوستان دونوں ممالک میں اپنے شہریوں کی حفاظت اور بہبود کو یقینی بنانے کے لئے سکیورٹی کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں وزارت خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے تصدیق کی کہ تہران میں ہندوستانی سفارت خانہ سکیورٹی کی صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور ایران میں ہندوستانی طلباء کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ ان کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بعض صورتوں میں طلباء کو سفارت خانے کی جانب سے سہولیات دیتے ہوئے ایران کے اندر محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دیگر قابل عمل اختیارات پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
وزارت خارجہ نے کہا کہ سفارت خانہ ہندوستانی شہریوں کی فلاح و بہبود اور حفاظت کے سلسلے میں ایران بھر کے لیڈروں سے رابطے میں ہے۔ وزارت خارجہ کا بیان جموں و کشمیر کے وزیراعلٰی عمر عبداللہ کی ایران میں پھنسے ہوئے کشمیر کے طلباء کے بارے میں وزیر خارجہ ایس جے شنکر سے بات کرنے کے چند گھنٹے بعد آیا ہے۔ 1500 سے زیادہ ہندوستانی طلباء ایران میں پھنسے ہوئے ہیں جن میں سے زیادہ تر کا تعلق جموں و کشمیر سے ہے۔ والدین نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اور ایس جے شنکر سے اپیل کی ہے کہ وہ مداخلت کریں اور ہندوستانی طلباء کی بحفاظت واپسی میں سہولت فراہم کریں۔ ایرانی شہروں تہران، شیراز اور قم میں پھنسے زیادہ تر طلباء پیشہ ورانہ کورسز کر رہے ہیں، خاص طور پر "ایم بی بی ایس" میں زیر تعلیم ہیں۔ اس سے قبل ایران میں ہندوستانی سفارت خانے نے تمام ہندوستانی شہریوں اور ہندوستانی نژاد افراد کو چوکنا رہنے کو کہا تھا۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: ہندوستانی طلباء ایران میں کیا جا کہا کہ
پڑھیں:
جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
تقریب سے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی، معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد، مولانا سید عروج زیدی اور مولانا سید فرخ عباس سمیت دیگر نے خطاب کیا۔ اس موقع پر شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: میثم عابدی
جامعہ کراچی میں آئی ایس او ڈسٹرکٹ پروفیشنل اور دفترِ مشیر امورِ طلبہ کے زیر اہتمام سالانہ یومِ حسینؑ نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منایا گیا، جس میں جامعہ کے اساتذہ، طلبہ، علمائے کرام اور مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد محمود عراقی نے کہا کہ حضرت امام حسینؑ کی عظیم قربانی رہتی دنیا تک حق و باطل کے درمیان امتیاز کی علامت بنی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی کا مقصد انسانیت کو گمراہی کے اندھیروں سے نکال کر ہدایت کی روشنی سے آشنا کرنا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج جمہوری اسلامی ایران امریکا اور اسرائیل کے خلاف جس استقامت اور ثابت قدمی کا مظاہرہ کر رہا ہے، وہ تعلیماتِ حسینی کا عملی مظہر ہے۔ تقریب کے مقررین میں معروف عالمِ دین مولانا سید شہنشاہ حسین نقوی نے کہا کہ کربلا شعور، بصیرت اور حق شناسی کا راستہ ہے، حضرت امام حسینؑ نے اپنی لازوال قربانی سے دینِ اسلام کو نئی حیات عطا کی جبکہ سیدالشہداءؑ سے محبت درحقیقت رسولِ اکرم ﷺ سے محبت کا اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی قربانی تاریخِ انسانیت کی عظیم ترین قربانی ہے۔
معروف اہلِ سنت عالمِ دین مفتی فضل ہمدرد نے اپنے خطاب میں کہا کہ حضرت امام حسینؑ نے دینِ اسلام کی سربلندی اور حق کی بقا کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حسینیت کا راستہ ہی پاکستان میں امن، اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کو فروغ دے سکتا ہے۔ اسی موقع پر مولانا سید عروج زیدی نے کہا کہ واقعۂ کربلا پوری انسانیت کے لیے ایک ہمہ گیر نمونۂ عمل ہے، جو انسان کو بیداری، حق شناسی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا درس دیتا ہے۔ تقریب کے درمیان شیعہ اور سنی شرکاء نے مولانا سید فرخ عباس کی اقتدا میں باجماعت نمازِ ظہرین ادا کی۔ شرکاء کے لیے سبیلِ حسینی اور تبرکات کا خصوصی اہتمام کیا گیا، جبکہ ماحولیاتی آلودگی سے آگاہی کے فروغ کے لیے مفت پودے بھی تقسیم کیے گئے۔ اس موقع پر میناب اسکول کے شہداء کو خراج تحسین بھی پیش کیا گیا۔ یوم حسینؑ میں مختلف طلبہ تنظیموں کے رہنما بھی شریک تھے۔