Islam Times:
2026-06-03@04:39:58 GMT

ولایت بمقابلہ صیہونیت

اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT

ولایت بمقابلہ صیہونیت

اسلام ٹائمز: مخالفتیں اصول و نظریات سے جنم لیتی ہیں اور مصلحتوں کے ہاتھوں دم توڑ دیتی ہیں۔۔۔۔ یہ معرکہ ہتھیاروں کا نہیں بلکہ افکار کا ہے۔ جو اعصاب اور نفسیات پر مسلط کیا جا رہا ہے۔۔۔ مگر ہر میدان میں سرخرو ہوتا جا رہا ہے۔ ازرائیل کی خواہش نظامِ ولایت کا خاتمہ ہے، جبکہ ایران صیہونیت اور ظلم و استبداد کے خاتمے کا متمنی ہے۔۔۔ تاکہ عدل و قسط، آزادی اور امنیت کا نظام قائم کیا جا سکے۔۔ تحریر: حسین پارس نقوی

ایران کا ازرائیل سے جنگ اور اختلاف وسائل اور سرحد کا نہیں بلکہ اس جنگ کی بنیاد فقط اور فقط انسانی اقدار اور اسلامی افکار ہیں۔۔ کسی بھی قوم کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ خود کو کسی خطے کا چوہدری سمجھے یا دوسروں کی زمین، وسائل اور انسانوں پر تصرف کا دعویٰ کرے۔۔۔ افسوس تو ان ممالک اور اقوام پر ہے، جو مصلحتوں کا شکار رہتے ہوئے ازرائیل اور امریکہ کو شہ دیتے رہے۔۔۔ وہ طاقتیں جو خطے کی خود مختاری، دولت اور انسانی حرمت پر اپنی بالادستی مسلط کرنے کی خواہاں رہیں۔ لبنان، عراق، شام اور بالخصوص فلسطین کی حمایت اور ایران کی امریکہ یا ازرائیل مخالف پالیسی کا بنیادی محور و مرکز فقط فرمان امیرالمومنین کی عملی تصویر پیش کرنا ہے: "كُونَا لِلظَّالِمِ خَصْماً وَ لِلْمَظْلُومِ عَوْناً"، "مظلوم کے ساتھی و مددگار اور ظالم کے مخالف بنو۔"

انقلابِ اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد، تہران سے خیر و ہدایت کی ایسی کرنیں پھوٹیں، جنہوں نے لاکھوں کروڑوں قلوب کو منور، اذہان کو روشن اور افکار کو بیدار کیا۔ کئی بنجر ذہن ویرانوں سے نکل کر نظریاتی گلستان بن گئے۔۔ اگر بالفرض انقلاب اسلامی برپا نہ ہوا ہوتا، تو آج ازرائیل اس خطے کا سامراجی اور استعماری اجارہ دار بن چکا ہوتا، جسے روکنے والا کوئی نہ ہوتا۔ اگر کوئی صدا اس کے خلاف نہ اٹھی ہوتی، تو دنیا کی کسی قوم کو ازرائیل کی مخالفت کرنے کی جرأت نہ ہوتی۔ کیونکہ مخالفتیں اصول و نظریات سے جنم لیتی ہیں اور مصلحتوں کے ہاتھوں دم توڑ دیتی ہیں۔۔۔۔ یہ معرکہ ہتھیاروں کا نہیں بلکہ افکار کا ہے۔ جو اعصاب اور نفسیات پر مسلط کیا جا رہا ہے۔۔۔ مگر ہر میدان میں سرخرو ہوتا جا رہا ہے۔

ازرائیل کی خواہش نظامِ ولایت کا خاتمہ ہے، جبکہ ایران صیہونیت اور ظلم و استبداد کے خاتمے کا متمنی ہے۔۔۔ تاکہ عدل و قسط، آزادی اور امنیت کا نظام قائم کیا جا سکے۔۔ اقبالؒ نے جو کبھی کرہ ارض کی تقدیر بدلنے کا راز تہران کو "عالمِ مشرق کا جنیوا" بننے میں دیکھا تھا، آج وہ عارفانہ نگاہ حقیقت میں ڈھلتی دکھائی دے رہی ہے۔ خدا اقبالؒ کے درجات بلند فرمائے، خمینی بت شکن کی روح کو شاد کرے اور اس شجرِ انقلاب کو سایہ دار و تن آور بنائے۔ ربِّ قدیر رہبرِ معظمِ انقلاب اسلامی کی حفاظت فرمائے، جو آج ظلم، استبداد اور استعمار کے مقابل "بنیانٌ مرصوص" بن کر کھڑے ہیں اور مظلومینِ جہاں کی امید کا چراغ بن چکے ہیں۔۔۔۔۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: جا رہا ہے اور اس کیا جا

پڑھیں:

ٹرمپ کے بدلتے پینترے

امریکا ایران معاہدے کے حوالے سے فریقین کے درمیان بیشتر نکات پر اتفاق ہو چکا ہے، تاہم حتمی معاہدے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ بعض معاملات پر دونوں جانب سے سخت گیر موقف کے باعث مذاکرات کی تان بار بار ٹوٹ جاتی ہے۔ بالخصوص امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بدلتے ہوئے بیانات، غیر لچکدار رویے اور نت نئی شرائط پیش کرنے کی وجہ سے تادم تحریر حتمی معاہدہ طے نہ پا سکا۔ نیز مذاکرات کا عمل ہنوز جاری ہے۔

دونوں جانب سے تجاویز اور شرائط کا تبادلہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان سر توڑ کوشش میں مصروف ہے کہ کسی صورت امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت ہو جائے اور حتمی معاہدہ طے پا جائے تاکہ مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو، سروں پر منڈلاتے جنگ کے بادل ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائیں۔ اس ضمن میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے ابھی چند روز قبل فیلڈ مارشل نے ایران کا ہنگامی دورہ اور ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقات کرکے مجوزہ امن معاہدے کے نکات پر بات چیت کی۔ عالمی ذرائع ابلاغ نے فیلڈ مارشل کے تہران کے دورے کو نمایاں طور پر شائع کیا جس کے مطابق فیلڈ مارشل کے تہران دورے نے مذاکرات کو حتمی نتیجے تک پہنچانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

 ایرانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق دو تین نکات پر اختلاف اب بھی برقرار ہے۔ الجزیرہ کے مطابق واشنگٹن منجمد اثاثوں کی بحالی اور لبنان میں جنگ کے دو اہم نکات پر مفاہمت سے پیچھے ہٹ گیا ہے۔ یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر جنگ کے آغاز سے پہلے کی طرح مکمل ایرانی کنٹرول پر بھی اختلاف اپنی جگہ موجود ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنی مذاکراتی ٹیم کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ معاہدے میں جلد بازی نہ کرے، کوئی غلطی نہیں ہونی چاہیے اور وقت ہمارے ہاتھ میں ہے۔ صدر ٹرمپ نے یہ بھی عندیا دیا ہے کہ کسی بھی حتمی معاہدے تک ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی جاری رہے گی۔

دوسری جانب ایران کے سپریم لیڈر کے فوجی مشیر محسن رضائی کا موقف ہے کہ قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے آبنائے ہرمز کا انتظام سنبھالنا ایران کا قانونی حق ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ اہم بیان دیا ہے کہ ان کا ملک دنیا کو اس بات کا یقین دلانے کو تیار ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کا خواہاں نہیں ہے لیکن ایرانی مذاکرات کار ملک کی عزت اور وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے ایران کی اعلانیہ پیش کش کے بعد صدر ٹرمپ کا افزودہ یورینیم کی ایران سے منتقلی پر زور دینے کا جواز باقی نہیں رہتا، لیکن اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا یہ بیان کہ ان کی اور صدر ٹرمپ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

ہمارے مابین اس بات پر مکمل اتفاق ہے کہ تہران کے ساتھ کسی بھی حتمی معاہدے میں جوہری خطرے کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے، اس امر کا عکاس ہے کہ اسرائیل امریکا ایران ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے نیتن یاہو کی کوشش اور خواہش ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ان کی مرضی کے مطابق ہو اور خطے میں اس کا اثر و رسوخ کم نہ پڑنے پائے۔ اسی باعث وہ صدر ٹرمپ کو بہکاتے اور اکساتے رہتے ہیں اور صدر ٹرمپ اسرائیل کی سازشی چالوں کے فریب میں آ کر ایسے دھمکی آمیز بیانات جاری کرتے ہیں جن سے امن مذاکرات چار قدم آگے بڑھتے ہیں تو دو قدم پھر پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور پرنالہ وہیں کا وہیں رہتا ہے۔

 ابھی امن مذاکرات حتمی مراحل میں داخل نہیں ہوئے کہ صدر ٹرمپ نے پھر معاہدہ ابراہیمی کا نیا شوشہ چھوڑ دیا ہے۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ایک عظیم معاہدہ ہوگا یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور دوبارہ جنگ ہوگی۔ صدر ٹرمپ کے دھمکی آمیز صبح شام بدلتے بیانات مطالبات اور کڑی شرائط معاہدے کو سبوتاژ کرنے کا باعث بن سکتے ہیں ۔

متعلقہ مضامین

  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • جعلی ادویات بیچنا اب آسان نہیں! پاکستان میں پہلی بار جدید ٹریکنگ سسٹم کا نفاذ
  • وفاقی کابینہ کا جعلی دواؤں کے خاتمے کیلئے ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم کے نفاذ کی منظوری
  • وفاقی کابینہ، ادویات ٹریک اینڈ ٹریس سسٹم نفاذ کی باقاعدہ منظوری دے دی