بجٹ کے پیش نظر انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں اہم ترامیم
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
کلیم اختر:بجٹ کے پیش نظر انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 میں اہم ترامیم کردی گئیں، ڈیجیٹل لین دین پر ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز پروسیڈ لیوی متعارف۔
مخصوص سروسزپر ودہولڈنگ ٹیکس 4 فیصد سے بڑھا کر 6فیصد کرنے کی تجاویز، قرض سےمنافع پرٹیکس15 فیصد سے بڑھا کر 20 فیصد کرنے کی سفارش، 10ملین سے زائد پنشن آمدن پر5 فیصد فلیٹ ٹیکس لاگو کیا جائے گا۔
سپر ٹیکس میں مخصوص آمدنی سلیب پر 0.
اگلے مالی سال میں ڈیڑھ ارب کے ای چالانز کا ہدف دیا گیا
کرائے کی پراپرٹی پر ٹیکس کی بنیاد پر فیئر مارکیٹ ویلیو تجویز، نقد خرید پر 50 فیصد اخراجات ناقابل قبول قرار دئیے جائیں گے۔
کوئلے کی سپلائی کی آمدن پر انکم ٹیکس اور 100 فیصد کریڈٹ کی اجازت، کم از کم ٹرن اوور ٹیکس کی ایڈجسٹمنٹ مدت3 سے کم کر کے 2 سال کرنیکا فیصلہ کیا گیا۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ اسلام ٹائمز۔ پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔ پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔ احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب خیبر پختونخوا اپر کوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔ فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔ احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔