بلوچستان گرینڈ الائنس نے صوبائی بجٹ اجلاس کے موقع پر بلوچستان اسمبلی کے باہر احتجاجی دھرنے اور ریلیوں کا اعلان کیا ہے، اتحاد کا مؤقف ہے کہ سرکاری ملازمین کے مسائل کے حل اور مطالبات پر فوری عملدرآمد نہ ہونے کی صورت میں بجٹ اجلاس کے دوران بھرپور احتجاج کیا جائے گا۔

گرینڈ الائنس کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ ان کے 18 نکاتی چارٹر آف ڈیمانڈ پر فوری کارروائی کی جائے، جس میں تنخواہوں میں مہنگائی کے مطابق اضافہ، ملازمین میں تنخواہی تفریق کا خاتمہ، پنشن اصلاحات کے تحت جاری تمام ملازم دشمن نوٹیفکیشنز کی واپسی، اور ریٹائرمنٹ کا عمل پنجاب کی طرز پر خودکار اور آن لائن نظام کے تحت لانے جیسے اہم نکات شامل ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:گرینڈ الائنس ملازمین اتحاد نے قلات پریس کلب کے باہر ہڑتالی کیمپ قائم کردیا

دیگر مطالبات میں اداروں کی نجکاری کا خاتمہ، کنٹریکٹ اور پروجیکٹ بیسڈ بھرتیوں کا اختتام، ہاؤس رینٹ، میڈیکل، اور دیگر الاؤنسز میں 100 فیصد اضافہ، اختیارات کی ضلعی سطح پر منتقلی، ٹائم اسکیل اور اپ گریڈیشن کی فراہمی، تنخواہوں پر ٹیکس میں کمی، اور صنعتی مزدوروں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات شامل ہیں۔

گرینڈ الائنس نے مطالبہ کیا ہے کہ تمام لیبرز کو ای او بی آئی اور سوشل سیکیورٹی میں رجسٹر کیا جائے، کوئلہ کانوں میں حادثات کی روک تھام کے لیے فوری اقدامات اٹھائے جائیں، اور ملازمین کی تنظیموں پر عائد پابندیاں ختم کر کے ان کے خلاف کارروائیوں سے گریز کیا جائے, مزید یہ کہ جامعات میں جاری مالی بحران کے خاتمے کو ترجیح دی جائے۔

مزید پڑھیں:حکومت بلوچستان کا ہڑتالی ڈاکٹرز کے خلاف کارروائی کا اعلان

دوسری جانب حکومت بلوچستان آج اسمبلی میں اپنا دوسرا سالانہ بجٹ پیش کر رہی ہے، جس کے لیے سخت سیکیورٹی اقدامات کیے گئے ہیں۔ اسمبلی کے اطراف غیر متعلقہ افراد کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

احتجاج بجٹ بلوچستان اسمبلی بلوچستان گرینڈ الائنس چارٹر آف ڈیمانڈ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بلوچستان اسمبلی بلوچستان گرینڈ الائنس چارٹر ا ف ڈیمانڈ گرینڈ الائنس کے لیے

پڑھیں:

کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار

پشاور:

خیبرپختونخوا اسمبلی میں ناراض حکومتی ارکان کے ساتھ مفاہمت نہ ہوسکی ناراض ارکان نے کسی بھی قسم کے مذاکرات سے انکار کرتے ہوئے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومتی ارکان کا ناراض گروپ اپنے مطالبات پر ڈٹ گیا، ناراض ارکان سے سابق اسپیکر اسد قیصر اور سابق صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے بھی رابطہ کیا ہے لیکن ناراض ارکان نے حکومت کے علاقہ کسی سے بھی مذاکرات سے انکار کردیا۔

ناراض ارکان کا کہنا ہے کہ ہمیں وزیراعلی سہیل آفریدی کی جانب سے یقین دہانی چاہیے، ایک ناراض رکن نے بتایا کہ ہمارا کوئی فارورڈ بلاک نہیں اگر فارورڈ بلاک بنتا ہے تو یہ عمران خان کے خلاف ہوگا ہم حکومت کے پالیسیوں سے ناراض ہیں مرکزی قیادت کو بتایا دیا گیا ہے اور انھیں خط بھی لکھا گیا ہے لیکن پارٹی چیئرمین کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا، ناراض ارکان نے آئندہ کے لائحہ عمل کے لیے اجلاس آج دوبارہ طلب کرلیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 99 ووٹ لے کر بنگلہ دیش نے دنیا کو حیران کردیا، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی صدارت جیت لی
  • کراچی، شہر کے مختلف علاقوں میں حادثات کے نتیجے میں 3 افراد جاں بحق
  • سہیل آفریدی کا 10 جون کو قومی اسمبلی کے سامنے دھرنا دینے اور بجٹ کی منظوری روکنے کا اعلان
  • کے پی اسمبلی میں حکومتی ناراض ارکان کا مذاکرات سے انکار
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • اسمبلی کارروائی پیپر لیس کرنے کیلئے پنجاب اسمبلی میں جدید ٹیبلٹس کی تنصیب
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی