data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

حیدرآباد (نمائندہ جسارت) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ اسرائیل ایک ناسور کی حیثیت رکھتا ہے، اسرائیل کی روز اول سے ہی خطے میں پالیسی جارحانہ ہے، ہم ایران اور اسرائیل کی جنگ میں ایران کی حمایت ہی نہیں بلکہ ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ ہمیں دوبارہ اسلام آباد جانے پر مجبور نہ کیاجائے، اگر عوام کے فیصلے تبدیل کیے تو پھر عوام خود فیصلے کریں گے۔وہ گذشتہ شب حیدرآباد میں جامشورو روڈ قاسم چوک پر ”دفاع وطن و اسرائیل مردہ باد ” مارچ سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر جمعیت کے مرکزی جنرل سیکریٹری عبدالغفور حیدری، اسد محمود، راشد محمود سومرو، عبدالقیوم ہالیجوی، حافظ محمد سعید، تاج محمد ناہیوں، انجینئر ضیاء الرحمن، عثمان علی اور دیگر نے بھی خطاب کیا۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ اسرائیل ایک ناسور کی حیثیت رکھتا ہے، اسرائیل کی روز اول سے ہی خطے میں پالیسی جارحانہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ اقوام متحدہ میں آج تک اسرائیل کیخلاف جو بھی قرارداد پاس کی اس میں سے ایک پر بھی عمل نہیں ہوا، یہ ادارہ بے معنی ہے اور امریکا کی لونڈی بنا ہوا ہے۔ انہوں نے کہاکہ فلسطین کے بعد لبنان اور اس کے بعد ایران کی باری آئی ہے پھر اب اسرائیل سعودی عرب اور پاکستان پر بھی حملہ آور ہوگا، اگر اس نے حرمین و شریفین کیخلاف کارروائی کی تو مسلمان عرب کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں گے۔ موجودہ حکمرانوں کی حالت گھر کے نوکر سے بھی بدتر ہے، امن وامان، ملک کی معیشت کو بہتر بنانا اور کرپشن کا خاتمہ کرنا ہے تو پھر جے یو آئی کو اقتدار میں لانا ہوگا۔ وفاقی بجٹ کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ کسی کو کچھ نہیں پتہ کہ یہ بجٹ کس نے بنایا اور کس نے پیش کیا ہے، آئی ایم ایف کے کہنے پر بجٹ بنائے جارہے ہیں۔ ملک کی 50فیصد سے زائد آبادی خطہ غربت سے نیچے چلی گئی ہے، اس بجٹ میں عوام کیلیے کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ جس طرح فوج کو مارشل لاء لگاکر اقتدار پر قبضہ کرنے کا حق ہے تو پھر عوام کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ اسلام آباد پر قبضہ کرلیں۔انہوں نے کہاکہ جے یو آئی کراچی، لاہور، پشاور، کوئٹہ میں ملین مارچ کرچکی ہے ہم دنیا کو پیغام دے رہے ہیں کہ پوری دنیا میں بے امنی ہے، جنگ کے شعلے بھڑک رہے ہیں، آسمانوں سے بارود برس رہا ہے، انہوںنے کہاکہ ہم وطن عزیز کو فلاحی ریاست بنانے کیلیے اپنا کردار ادا کررہے ہیں، ہم جنگ کے حامی نہیں ہیں امن کے داعی ہیں، سندھ کے عوام کوبے امنی کی شکایت ہے بے امنی سے ملک کی معیشت، کاروبار اور تعلیم تباہ ہوتی ہے، انہوںنے کہاکہ یہ حکمران نہیں ہے دھاندلی سے کوئی حکمران نہیں بنتا، اگر یہ عوامی تائید سے حکمران بنے ہیں تو میں چیلنج کرتا ہوں کہ پورے ملک میں اس طرح کا ایک بھی جلسہ کرکے دکھائیں۔ انہوں نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ قوت ہے لیکن یہ بالادست قوت نہیں بلکہ وہ ماتحت قوت ہے۔ جب وطن کی بقاء اور دفاع کا سوال پیدا ہوا تو ہم نے فوج کا ساتھ دیا، انہیں حوصلہ فراہم کیا، ہم انہیں کہتے ہیں کہ تم دفاع میں کارنامے دکھاؤ سیاست میں کارنامے نہ دکھاؤ، دفاع میں کردار ادا کرو گے تو ہم سر پررکھیں گے اور اگر زبردستی مسلط ہوئے تو پھر تمہیں بیٹھنے نہیں دیں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہاکہ اسرائیل کی تو پھر

پڑھیں:

متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن

امیر جماعت اسلامی پاکستان نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔ اسلام ٹائمز۔ امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ بجٹ میں تنخواہ دار اور مڈل کلاس طبقے کو فوری ریلیف فراہم کیا جائے اور ان پر عائد بھاری ٹیکسوں میں نمایاں کمی کی جائے۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے بیان میں حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ حکومت نے متوسط اور تنخواہ دار طبقے سے 605 ارب روپے انکم ٹیکس وصول کیا ہے، جبکہ یہی طبقہ اس وقت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ بچوں کی تعلیم، بجلی اور گیس کے بھاری بل، مہنگا پٹرول، ناجائز لیوی، اشیائے خورونوش پر ٹیکس، صحت و علاج کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور مہنگائی کے طوفان نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ حکومتی اقدامات اور معاشی پالیسیوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے، اس لیے حکومت کو بجٹ میں فوری ریلیف کے اقدامات کرنے چاہیئے۔

امیر جماعت اسلامی نے مطالبہ کیا کہ ماہانہ ایک لاکھ 25 ہزار روپے تنخواہ پر عائد انکم ٹیکس مکمل طور پر ختم کیا جائے، جبکہ اس سے زیادہ تنخواہ حاصل کرنے والے افراد کے لیے انکم ٹیکس کی شرح کم از کم آدھی کی جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح 35 فیصد سے کم کرکے 15 فیصد مقرر کی جائے تاکہ تنخواہ دار اور پیشہ ور طبقے کو ریلیف مل سکے۔ حافظ نعیم الرحمن نے خبردار کیا کہ موجودہ بدترین ٹیکس نظام کی وجہ سے پروفیشنل افراد اور ماہرین تیزی سے ملک چھوڑ رہے ہیں، جو ایک خوفناک رجحان ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو یہ ملک کے مستقبل کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ عوامی مشکلات کا ادراک کرتے ہوئے آئندہ بجٹ میں ٹیکس اصلاحات اور ریلیف پیکج کا اعلان کرے تاکہ عوام کو معاشی مشکلات سے نجات مل سکے۔
 

متعلقہ مضامین

  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • امریکا ایران جنگ سے معاشی بحران پیدا ہوا ہے اور مہنگائی بھی بےتحاشہ بڑھ گئی ہے
  • امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
  • بلاول بھٹو زرداری کی فیلڈ مارشل کی امن کوششوں کیلئے دعا
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • سندھ میں 20 لاکھ گھروں کی تعمیر کو ممکن بنائیں گے:بلاول بھٹو کا گلگت جلسے سے خطاب
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد