Jang News:
2026-07-24@03:19:12 GMT

اسرائیل پورے خطے کا پولیس مین بننا چاہتا ہے، شیری رحمان

اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT

اسرائیل پورے خطے کا پولیس مین بننا چاہتا ہے، شیری رحمان

— فائل فوٹو

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی رہنما شیری رحمان نے کہا ہے کہ اسرائیل جارحانہ اور بےقابو ہے جو پورے خطے کا پولیس مین بننا چاہتا ہے۔

جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے شیری رحمان نے کہا کہ ایران نے ٹکا کر جواب دیا اور دے بھی رہا ہے، ایران کا ردعمل بھی سب دیکھ رہے ہیں، دنیا میں کشیدگی اونچی سطح پر جاسکتی ہے اگر یہ معاملہ اسی طرح چلتا رہا۔

سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ اگر یہ جنگ بڑھتی چلی گئی تو یہ جنگ محدود نہیں رہ سکے گی، امریکی صدر بار بار کہہ رہے ہیں میں امن کرواتا ہوں لیکن کریڈٹ نہیں ملتا۔

ان کا کہنا تھا کہ نیتن یاہو اور نریندر مودی کے نظریات ایک ہیں۔ بھارت نے بلااشتعال خطے میں جنگ مسلط کی، جو باعثِ تشویش ہے۔ مودی سرکار جس طرح دھمکیاں دے رہی ہے وہ منطقی اور مثبت بات چیت کےلیے تیار نہیں۔

پیپلز پارٹی کی رہنما نے کہا کہ پاکستان کا مقدمہ چیئرمین بلاول بھٹو اور ان کے وفد نے بین الاقوامی سطح پر پیش کیا، ماضی میں ایسا نہیں ہوا کہ کسی وفد نے 15 روز میں ایسی سفارتی کامیابی حاصل کی ہو۔

شیری رحمان نے کہا کہ جب یورپ سے نکل رہے تھے تو یہ ایران اسرائیل تنازع شروع ہوا، یورپ میں میٹنگ کے دوران ساری توجہ پاکستان پر تھی، لندن میں کشمیر سے متعلق بہت ملاقاتیں ہوئیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jang News

کلیدی لفظ: شیری رحمان نے کہا نے کہا کہ

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • رائیونڈ کا ایک شہری اب آزاد کشمیر کا وزیراعظم بننا چاہتا ہے، بلاول بھٹو
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم