Express News:
2026-07-24@07:38:43 GMT

ایران، اسرائیل جنگ سنگین مرحلے میں

اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT

 ایران نے چوتھی بار اسرائیل کے دارالحکومت تل ابیب اور حیفہ شہر پر بیلسٹک میزائل و ڈرون داغ دیے، ایرانی حملے کے بعد اسرائیل میں حیفہ ریفائنری کو مکمل بندکردیا گیا۔ دوسری جانب امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کے بیانات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔ چین نے امریکا کے کردار پر سخت تنقید کی ہے۔

 ایران نے اسرائیل پر حملے کر اپنی اسٹرائیک بیک کی عسکری صلاحیت ثابت کردی ہے، عالمی اقتصادی پابندیوں کے باوجود ایران فوجی دفاعی شعبے میں پیشرفت کی سمت گامزن ہے۔ مغربی ایشیا میں ایران کا جغرافیائی محلِ وقوع اور آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول اسے خطے میں ایک اسٹرٹیجک عسکری برتری فراہم کرتا ہے۔

اس تمام افراتفری میں ڈونلڈ ٹرمپ فخریہ کہتے نظر آتے تھے کہ امریکا دنیا کا بہترین فوجی ساز و سامان تیارکر رہا ہے اور اس نے یہی سامان اسرائیل کو دیا ہے۔ اسرائیلی فوج کی جانب سے استعمال کیے جانے والے دو یا تین امریکی ساختہ ایف35 اسٹیلتھ طیارے بھی اس جنگ میں تباہ ہوئے ہیں، اگر ایک بھی ایف35 طیارہ گرا ہے تو یہ مغربی ملٹری انجینئرز کی ناکامی جب کہ نیتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے باعث تشویش ہے۔

یہ بات اپنے آپ میں ہی کافی حیران کُن ہے کہ بھاری پابندیوں کے بوجھ تلے دبا ایران جس کے پاس وسائل کی بھی کمی ہے، اسرائیل نے پہلے وار کرکے ایرانی موج کی اعلیٰ قیادت کو قتل کردیا لیکن اس قدر نقصان کے باوجود ایران نے اسٹرائیک بیک کرکے طاقتور دشمنوں کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ ایران اتنا مضبوط دفاع بنانے میں کیسے کامیاب ہوگیا ہے۔ ایک جدید ترین جنگی طیارے کو گرانے کے عالمی اسلحے کی مارکیٹ پر نتائج مرتب ہوسکتے ہیں۔

امریکی تجزیہ کار پاکستان کے ساتھ حالیہ جھڑپ میں بھارتی نقصانات کا ذمے دار فرانسیسی ساختہ رافیل طیاروں کو ٹھہراتے ہوئے خوش تھے، لیکن اب امریکا کو تنقید کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔ اسرائیل امریکا کی بیس بن بن چکا ہے؟ سرد جنگ کے دوران، اسرائیل نے مشرق وسطیٰ میں سوویت یونین کے اثر و رسوخ کو کم کرنے میں مغرب کے لیے ایک اہم کردار ادا کیا خاص طور پر اس نے دو بڑی جنگوں میں سوویت حمایت یافتہ عرب ممالک کو شکست دی۔

یہ اور دیگر وجوہات کی بنا پر، مغرب نے خاموشی سے اسرائیل کو جوہری طاقت بننے کی اجازت دی۔ اب جب وہ ایران پر ممکنہ طور پر جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کرنے پر تنقید کرتے ہیں تو مغرب کا یہ رویہ دوہرا معیار لگتا ہے جب کہ ایران مسلسل کہہ رہا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔ لیکن پھر وہی بات ہے کہ عراق کو بھی انھوں نے اسی طرح تباہ کیا، یہ جھوٹ بولا کہ ’’صدام حسین ایٹم بم تیار کررہے تھے۔ ‘‘

 ایرانی میزائلوں کا اسرائیلی ڈیفنس سسٹم کو عبور کر کے ہدف کو نشانہ بنانا پوری دنیا میں موضوع بحث بن گیا اور دفاعی تجزیہ نگار ایرانی سرپرائز پر حیرانی کا اظہار بھی کرتے دکھائی دیے۔ایران کی مزاحمت کے نتیجے میں لگتا یہی ہے کہ اسرائیل کو پریشانی لاحق ہوئی ہے۔صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی شاید پریشر میں آئے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ انھوں نے جی 7کانفرنس سے فوری طور پر امریکا روانگی کا فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے اپنے بیان میں ایران کے حوالے سے خاصی معنی خیز لیکن سنگین نتائج والی گفتگو کی ہے تاہم اس میں مذاکرات کے حوالے سے بھی اشارہ ملتا ہے۔لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ ممکنات میں سے ہے کہ کوئی معاہدہ طے پا جائے تاہم قرائن کو دیکھا جائے تو صورت حال برعکس نظر آتی ہے۔ایران کے موقف میں بھی بدستور سختی موجود ہے جب کہ نیتن یاہو کے عزائم اچھے نظر نہیں آ رہے۔عوامی جمہوریہ چین نے جو موقف دیا ہے وہ قدر حوصلہ افزا ہے لیکن یہ کتنا موثر ثابت ہوتا ہے اس کے بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود ایران نے اپنی مقامی دفاعی صنعت کو ترقی دی ہے اور مختلف فوجی سازوسامان کی اندرون ملک تیاری میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔

ایران کا دفاعی بجٹ امریکا، چین یا روس جیسے ممالک کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ یہ کمی اقتصادی پابندیوں اور داخلی مالی مشکلات کا نتیجہ ہے۔ اس حوالے کسی صورت ان عالمی طاقتوں کے بے تحاشا فوجی اخراجات سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا۔ ایران پر اسرائیلی حملوں نے خطے کی سلامتی اور امریکا کی غیریقینی پوزیشن پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ٹرمپ کے بیانات اور اسرائیل کو مہلک ہتھیاروں کی فراہمی امریکا کے لاتعلقی کے بیانیے کو مشکوک بنا رہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا

تہران: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے کہا ہے کہ موجودہ کشیدگی کے باوجود تہران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا اور مختلف علاقائی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ اب بھی جاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ایرانی عہدیدار نے الزام عائد کیا کہ امریکا ایران کے اہم بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ شہری تنصیبات پر حملے جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں اور یہ اقدامات امریکا کی بے بسی کو ظاہر کرتے ہیں۔

سینئر ایرانی سفارتی ذریعے نے کہا کہ ایران نے ہمیشہ مذاکرات اور سفارتی حل کے لیے مثبت رویہ اختیار کیا تاہم امریکا کی دھمکی آمیز پالیسی، جارحانہ اقدامات اور مسلسل فوجی کارروائیوں نے مذاکراتی ماحول کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ایران اب بھی اختلافات کے حل کے لیے سفارتی راستے کو اہم سمجھتا ہے، لیکن ساتھ ہی اپنی قومی سلامتی اور مفادات کے تحفظ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز بھی زیر غور رکھے ہوئے ہے۔

ایرانی عہدیدار نے مزید دعویٰ کیا کہ موجودہ بحران کی بنیادی وجہ 17 جون کو ہونے والی مفاہمتی یادداشت سے امریکا کی مبینہ دستبرداری ہے۔ ان کے مطابق واشنگٹن نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا، جس کے باعث خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔

ایرانی حکام کے مطابق اگر امریکا اپنی پالیسی میں تبدیلی لاتا ہے اور معاہدے کی شرائط کا احترام کرتا ہے تو سفارتی پیش رفت کی گنجائش موجود ہے، تاہم موجودہ حالات میں تہران اپنی دفاعی اور سیاسی حکمت عملی پر عمل جاری رکھے گا۔

تاحال امریکی حکومت کی جانب سے ایرانی عہدیدار کے ان تازہ الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • جارحیت کے باوجود مذاکرات کا دروازہ اب بھی کھلا ہے، ایران نے امریکا کو بڑا پیغام دے دیا
  • بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • سعودی توانائی معاہدہ ابراہیمی معاہدوں سے مشروط، وائٹ ہاؤس نے ٹرمپ کا مؤقف دہرا دیا
  • صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ
  • ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم