پرویز الٰہی کے گھر پر چھاپے سے متعلق کیس سے دہشت گردی کی دفعات ختم
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (آن لائن) لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے پرویز الٰہی کے گھر پر چھاپے سے متعلق کیس سے دہشت گردی کی دفعات ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے مقدمے کو سیشن کورٹ منتقل کر دیا۔پرویز الٰہی کے گھر پر چھاپے کے دوران گرفتار 15 ملزموں کے خلاف مقدمے پر سماعت ہوئی۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج عرفان حیدر نے مقدمے پر فیصلہ سنایا۔ ذکر الٰہی سمیت دیگر ملزمان انسداد دہشت گردی عدالت میں پیش ہوئے، ملزموں کے وکیل مختار احمد رانجھا ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے تھے۔ملزمان میں غلام محی الدین، ملک عاشق حسین، محمد صابر، نور خان، محمد بشیر احمد، سمیع اللہ خان، عبد المجید، عابد محمود، ثاقب حسین، منیر احمد، محمود احمد، مسعود احمد، محمد حسین اور ممتاز حسین شامل ہیں۔ملزمان پر سرکاری کام میں مداخلت، پولیس پر حملہ اور پیٹرول بم پھینکنے کا الزام ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔