پیکا قانون پر صحافتی تنظیموں سے مشاورت کیلیے تیار ہیں،وفاقی وزیر اطلاعات
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد (صباح نیوز) وفاقی وزیر اطلاعات عطااللہ تارڑ نے کہا ہے کہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز (پیکا) قانون پر صحافیوں اور وزارت کے درمیان غلط فہمیوں کو دور کیاجائیگا، صحافتی تنظیموں سے مشاورت کے لیے تیار ہیں، پیکا رولز کے بارے میں تجاویز کا خیرمقدم کیا جائے گا۔ وفاقی وزیراطلاعات عطااللہ تارڑ سے کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز کے وفد نے ملاقات کی، ملاقات میں پیکا ایکٹ، باقاعدگی سے شائع نہ ہونے والے ڈمی اخبارات کے خاتمے، پرنٹ میڈیا کو ادائیگیوں، جرنلسٹس پروٹیکشن کمیشن سمیت دیگر اہم امور پر تبادلہ خیال ہوا۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے وفد کو بتایا کہ پیکا قانون مستند صحافیوں کو تحفظ فراہم کرتا ہے، ایکٹ کا اصل مقصد صحافت کے لبادے میں چھپے نام نہاد اور جعلی صحافیوں کو قانون کے دائرے میں لانا ہے، پیکا قانون پر صحافتی تنظیموں سے مشاورت کے لیے تیار ہیں۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے آگاہ کیا کہ باقاعدگی سے شائع نہ ہونے والے ڈمی اخبارات کے خاتمے کے حوالے سے کمیٹی قائم کر دی ہے، پرنٹ میڈیا کو رواں سال واجبات کی مد میں ادائیگیاں کی جائیں گی۔ وفاقی وزیر اطلاعات نے حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے دوران قومی مفاد میں میڈیا کے کردار کو سراہا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وفاقی وزیر اطلاعات
پڑھیں:
خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو، گزٹ نوٹیفکیشن جاری
اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اسلام ٹائمز۔ خیبر پختونخوا میں لوکل گورنمنٹ ترمیمی ایکٹ 2026 کا گزٹ نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا، جس کے بعد صوے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا۔ نوٹیفکیشن میں بتایا کہ صوبے میں لوکل گورنمنٹ کا نیا قانون لاگو ہوگیا، نئے قانون کے تحت ہرویلج اور نیبرہڈ کونسل کی آبادی 30 ہزار سے 40 ہزار ہوگی۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ ویلج کونسل عملی طور پر یونین کونسل کی حیثیت اختیار کر جائے گی اور نئی حدبندی ڈیجیٹل مردم شماری 2023 کی بنیاد پر ہوگی۔ اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ آبادی میں 10 فیصد تک کمی بیشی کی اجازت ہوگی۔ ترمیمی ایکٹ کے مطابق خصوصی حالات میں الیکشن کمیشن صوبائی حکومت سے مشاورت کے بعد اس شرط سے استثنیٰ دے سکے گا۔