پیغام رسانی کی مشہور ایپ واٹس ایپ نے ایران میں اس کے خلاف چلائی جانے والی مہم پر سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ 

یہ ردعمل اُس وقت سامنے آیا جب ایرانی سرکاری ٹی وی نے عوام سے اپیل کی کہ وہ واٹس ایپ کو اپنے موبائل فونز سے ڈیلیٹ کر دیں۔

ایرانی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ واٹس ایپ صارفین کا ذاتی ڈیٹا جمع کر کے اسرائیل کو فراہم کرتا ہے۔

واٹس ایپ، جو کہ میٹا (Meta) کی ملکیت ہے، نے ایک بیان میں کہا: "ہمیں ان جھوٹے الزامات پر گہری تشویش ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ کہیں یہ الزامات ہمارے سروس کو بلاک کرنے کے بہانے نہ بن جائیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب لوگ ایک دوسرے سے جڑنے کے لیے اس ایپ پر انحصار کر رہے ہیں۔"

کمپنی نے مزید واضح کیا: "ہم صارفین کی مخصوص لوکیشن ٹریک نہیں کرتے، نہ ہی ہم یہ ریکارڈ رکھتے ہیں کہ کون کس سے بات کر رہا ہے، اور نہ ہی ہم لوگوں کے ذاتی پیغامات کو پڑھتے ہیں۔"

واٹس ایپ نے زور دے کر کہا کہ: "ہم کسی بھی حکومت کو **بلک ڈیٹا فراہم نہیں کرتے۔"

یاد رہے کہ واٹس ایپ اپنی اینڈ ٹو اینڈ انکرپشن کی خصوصیت کے لیے جانا جاتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ صارفین کے پیغامات کسی تیسری پارٹی کے لیے قابلِ رسائی نہیں ہوتے، حتیٰ کہ واٹس ایپ خود بھی انہیں نہیں پڑھ سکتا۔

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: واٹس ایپ

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم