Express News:
2026-06-03@04:19:01 GMT

کارآمد تجویز

اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT

آپ مانیں یا نہ مانیں، یقین کریں یا نہ کریں لیکن آج سے ہم نے پکا پکا ارادہ کرلیا ہے کہ موصوفہ معروفہ کے بارے میں اپنا منہ بُرا بُرا بالکل نہیں کریں گے اور نہ اس کے سچے سچے بیانات پر پیڑے پیڑے شک کریں گے۔اور یہ تو بالکل نہیں کہیں گے کہ اس کے مسلسل بے محابا، لگاتار، بلا ناغہ اور بے بریک بیانات پڑھ کر لوگوں کو ابکائیاں آنے لگی ہیں۔بلکہ یہ کہیں گے لوگ صبح اٹھتے ہی دوڑ دوڑ کر اخباری ایجنسیوں اور اسٹالوں کے سامنے قطاریں باندھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں تاکہ سب سے پہلے ان کا بیان پڑھ کر دل وجان کو گل و گلزار اور عطربار کرسکیں

کوئی جھنکار ہے، نغمہ ہے، صدا ہے، کیا ہے

تو کرن ہے کہ کلی ہے کہ صبا ہے ،کیا ہے

نام ہونٹوں پہ ترا آئے تو راحت سی ملے

تو تسلی ہے، دلاسہ ہے ،دعا ہے، کیا ہے

وجہ اس تبدیلی اور انقلاب کی ہے کہ’’موصوفہ‘‘ نے اب کے جو بیان دیا ہے، وہ ہمیں اتنا پسند آیا ہے، اتنا پسند آیا ہے کہ جی چاہتا ہے کہ اسے تعویز بناکر چاندی میں لپیٹ کر گلے کی زینت بنائیں اور دنیا کے سارے پینٹروں اور لکھاریوں کو لگادیں کہ ملک میں ایسی کوئی جگہ نظر نہیں آنی چاہیے جس پر یہ تجویز مشتہر نہ ہو جو اس نے اپنے بیان میں دی ہے۔اس نے اس تجویز کو بھائی کے ساتھ مخصوص کیا ہے لیکن ہم اس بے مثل و مثال ،سراسر جمال وکمال تجویز کو ’’عمومی‘‘ کرکے سارے ملک پر منطبق کرنا چاہتے ہیں، انھوں نے فرمایا ہے کہ ان تینوں ’’شریفوں‘‘ کا پولی گراف ٹیسٹ کیا جائے۔واہ جی واہ

دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا

میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے

بڑا زبردست اور انقلابی آئیڈیا ہے۔ہم تو اسے سیاستدان نہیں سمجھتے تھے اور وہ زبردست موجد اور سائنس دان ہیں۔ایسی چنگاری بھی یارب اپنے خاکستر میں تھی۔ویسے ذہانت کسی کی میراث نہیں ہے‘ اسی طرح فطانت بھی خداداد ہوتی ہے۔ لہٰذا اس آئیڈیا پر اسے کم ازکم نوبل نہیں تو گلوبل ایوارڈ تو دینا ہی چاہیے بلکہ اگر دونوں یا کوئی تیسرا ایوارڈ یا پرائز ہو تو وہ بھی دینا چاہیے ۔

ہم نے پولی گراف ٹیسٹ تو لائیوشکل میں نہیں دیکھا ہے لیکن فلموں اور ڈراموں میں دیکھا ہے‘اس میں ایسی مشین یا آلہ دکھایا جاتا ہے  جو آدمی کے جھوٹ بولنے پر چیخ پڑتا ہے‘یوں وہ شخص حیران اور پریشان ہو جاتا ہے جس سے باآسانی پتہ چل جاتا ہے کہ وہ جو کچھ کہہ رہا ہے وہ سچ نہیں بلکہ جھوٹ ہے۔ بلکہ سنا ہے کہ اب تو اسے بھی مختصر کرکے’’ ڈیڈیکٹر‘‘ کی طرح ’’لائی ڈیڈیکٹر ‘‘ یعنی جھوٹ پکڑنے والے آلے کی شکل دی گئی ہے۔یہ ’’لائی ڈیڈیکٹر‘‘ کہیں بھی فٹ کر کے استعمال میں لایا جا سکتا ہے ‘یہ ایسا آلہ ہے جوکسی بھی زیر تفتیش آدمی کے جھوٹ بولنے پر زور زور سے چلانے لگتا ہے، لائی لائی لائی یعنی جھوٹ، جھوٹ ۔۔۔۔یوں سچ کا پتہ چل جاتا ہے۔

بڑا مزا آئے گا جب کوئی لیڈر جلسے میں بڑے جوش و ولولے سے تقریر کررہا ہو اور اس کے گلے میں لائیو ڈیڈیکٹر ہو‘جیسے ہی وہ اپنے مخالفوں پر کوئی جھوٹا الزام لگائے یا جھوٹا وعدہ یا دعوی کرے تو اس کے گلے میں لٹکا ہوا لائی ڈیڈیکٹر فوراً چیخ پڑے کہ جھوٹ ہے جھوٹ ہے۔

اس آلے کوسینیٹ‘قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں میں بھی استعمال کیا جاسکے گا اور عدالتوں میں، خاص طور پر حلف اٹھاتے وقت۔ اب تو لوگ کسی مقدس کتاب پر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھاتے ہیں لیکن کتاب بچاری تو گونگی بہری ہوتی ہے، اس لیے لوگ اس پر ہاتھ رکھ کر دھڑلے سے جھوٹ بولتے ہیں لیکن اس کی جگہ اگر لائیو ڈیڈیکٹر رکھ کر حلف اٹھوایا جائے تو یقین کریں کہ اتنے سائرن بجیں گے کہ حلف بچارا ناخلف ہوکر رہ جائے گا۔صرف اتنی اختیاط کرنا ہوگی کہ ’’بیلک اینڈ وائٹس ‘‘ کو اس سے ذرا دور رہنا ہوگا یا ربڑ کے دستانے پہننا ہوں گے۔

اسمبلیوں میں تھوڑی سی پرابلم پیش آسکتی ہے کیونکہ منتخب نمایندوں سوری، شہنشاہوں کااستحقاق بہت ہی نازک ،چھوئی موئی یعنی ٹچ می ناٹ قسم کا ہوتا ہے، ہوا کے جھونکے سے بھی مجروح ہوسکتا ہے لیکن اس کا حل بھی کسی نہ کسی طرح نکل آئے گا، مجروح استحقاق والوں کو مرہم پٹی کے لیے دو چار ملازمین یا پلاٹ وغیرہ دیے جاسکتے ہیں۔بلکہ اس مفید، زبردست اور ملٹی پرپز آلے کی اور بھی کئی شکلیں اور استعمالات ہوسکتے ہیں مثلاً یہ جو بہت سارے آلات کو ترقی دے کر کچھ سے کچھ کردیا گیا، ایک چھوٹے سے موبائل میں ریڈیو، ٹیلی وژن، گھڑی،کیمرے اور نہ جانے کیا کیا مرتکز کیا گیا ہے ،ایک بٹن کے برابر ’’چپ‘‘ میں نہ جانے کیا کیا الائیں بلائیں بند کی گئی ہیں۔

ایک لیڈر میں نہ جانے کتنے ڈاکو، لیٹرے، نوسرباز ،جیب کترے ، عیاش، بدمعاش، فحاش اور اوباش بٹھائے گئے ہوں گے ، اسی طرح اس ’’ لائی ڈیکٹر ڈیواس ‘‘(جھوٹ پکڑے والا پرزہ ) میں بھی کمی بیشی کرکے ہزار شکلیں دی جاسکتی ہیں۔اسے مائیک یا سپکر میں چسپاں کیا جاسکتا ہے اور جب بھی کوئی لیڈر،وزیر، مشیر یا معاون’’جھوٹ‘‘ بولے، اس کا ساونڈ بند ہوجائے،وہ ہونٹ ہلاتا رہے گا۔ اور لوگ ’’نہ سن‘‘کر محفوظ رہیں گے۔بلکہ اسے مزید ڈویلپ کر چشمے یعنی عینک میں بھی فٹ کیا جاسکتا ہے اور لوگ جب بھی اسے پہن کر اخبار پڑھیں گے اور کسی بڑے یا چھوٹے یا درمیانے کے بیان پر نظر پڑے تو ’’تاریک‘‘ ہوجایا کرے ،کوئی کہہ سکتا ہے، اخبارات میں تومعاونین و مشیرین خصوصی کے بیان بھی ہوتے ہیں ۔

ویسے پاکستان میں ایسے آلے یا چپ کی بہت زیادہ ضرورت ہے‘ آج کل پارلیمنٹ کے اجلاس اور اس میں ہونے والی تقاریر لائیو دکھائی جاتی ہیں‘سیاسی جلسوں کی کوریج بھی لائیو ہوتی ہے۔ لیڈروں کی تقریریں بھی لائیو چلتی ہیں۔ اب تو اعلیٰ عدالتوں کی کارروائی بھی لائیو دکھائی جاتی ہے۔اب اگر جھوٹ پکڑنے والے آلے یا لائی ڈیڈیکٹر بھی وہاں موجود ہوں تو بہت کچھ واضح ہو جائے گا ۔بلکہ مجھے تو لگتا ہے کہ پاکستان کے زیادہ تر مسائل حل ہونا شروع ہو جائیں گے کیونکہ ارباب اختیار اور کار خاص کم از کم لائیو آ کر جھوٹ بولنا بند کر دیں گے کیونکہ انھیں معلوم ہو گا کہ ان کے گلے میں ایسی چپ ڈال دی گئی ہے کہ جیسے ہی جھوٹ بولا تو وہ چلانا شروع کر دے گی۔ ہم نے تو اپنی طرف سے تجویز دے دی ہے ‘ہمیں تو یہ بڑی کارآمد لگتی ہے لیکن پتہ نہیں انھیں بھی پسند آتی ہے کہ نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: جاتا ہے ہے لیکن اور اس کیا ہے

پڑھیں:

کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟

مراد راس صاحب سابق صوبائی وزیر ہیں، لاہور سے 2 بار رکن اسمبلی رہے۔ پہلے تحریک انصاف سے تعلق تھا، انہی کے دور میں صوبائی وزارت ملی۔ اب تحریک استحکام پاکستان میں شامل ہیں۔ ان کے بارے میں عمومی تاثر یہی تھا کہ پڑھے لکھے آدمی ہیں، نام کےساتھ ڈاکٹر بھی لگتا ہے، معلوم نہیں ایم بی بی ایس ڈاکٹر ہیں یا پی ایچ ڈی۔

بہرحال ان کے حالیہ ٹوئٹ نے ہر ایک کو حیران کر دیا۔ موصوف نے ٹوئٹ کیا، ‘لاہور ان عید کی چھٹیوں میں بہت پرسکون تھا، خاص کر ٹریفک بہت کم تھی۔ یہ آؤٹ سائیڈرز ہیں جنہوں نےلاہور تباہ کیا ہے‘۔

بات سادہ ہے مگر غلط ہے، بلکہ بہت غلط ہے۔ نرم سے نرم الفاظ میں اس  ٹوئٹ کو غیر ذمہ دارانہ، افسوسناک اور تکلیف دہ کہا جا سکتا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے یہ ٹوئٹ کرنے والا شخص پڑھا لکھا نہیں، اسےدنیا کا قطعی علم نہیں، کسی بھی بڑے بین الاقوامی شہر کا تو شاید اس نے نام بھی نہیں سنا۔ سب سےبڑھ کر یہ کہ اسے لاہور کی ہسٹری کا بھی کچھ نہیں پتا۔

یہ بھی پڑھیں: بڑے شہر نگل جاتے ہیں

خاکسار معروف معنوں میں لاہوری نہیں، آبائی شہر احمدپورشرقیہ، ضلع بہاولپور ہے۔ تاہم میں 31،32 برسوں سے لاہور میں مقیم ہوں، میرے بچے یہیں پیدا ہوئے، یہیں پر پلے بڑھے ہیں، الحمدللہ۔ میں کوئی 10، 12 برسوں سےہر عید لاہور ہی میں کرتا ہوں۔ اپنے آپ کو لاہوری تصور کرتا ہوں، اس لیے کہ اس شہر نے مجھے بے پناہ محبت، عزت دی۔ جو تھوڑی بہت پہچان ہے، وہ بھی اسی شہر کی مرہون منت ہے۔ لاہور کی سب سے خوبصورت بات یہاں کے مکین یعنی لاہوری ہیں۔ جتنی اوپن نیس، کشادگی اور کھلا ڈلا پن میں نے لاہوریوں میں دیکھا، اس کی مثالیں کم ملتی ہیں۔ باہر سے آنے والوں کو یہ باہیں پھیلا کر قبول کرتے اور اپنے دل میں سمو لیتےہیں۔

ایسے میں بہت افسوسناک امر ہے کہ ڈاکٹر مراد راس جیسے لوگ جو گجرات میں پیدا ہونے کی وجہ سے گجراتی شناخت بھی رکھتے ہیں، پرانےلاہوریے نہیں ، اپنے ایک نفرت انگیز ، متعصبانہ ٹوئٹ کی وجہ سے پورے لاہور شہر کے مکینوں کی بدنامی کا باعث بنے ہیں۔ مراد راس کا یہ ٹوئٹ لاہور اور لاہوریوں کی ترجمانی نہیں کرتا۔

مزید پڑھیے: نریندر مودی صحافیوں سے کیوں خوفزدہ ہیں؟

چلیں بات شروع ہوئی ہے تو ویسے ہی اس کا بھی جائزہ لے لیتے ہیں کہ لاہور کو وہ لاہور بنایا کس نے ہے جس پر اس کی دنیا بھر میں دھوم ہے۔ سب سےبڑا سہرا تو مغلوں کے سر جاتا ہے جو سمرقند اور کابل سے آئے تھے۔ مقبرہ جہانگیر، کامران کی بارہ دری، شالیمار باغ، مسجد وزیر خان وغیرہ کس نے بنائے؟باہر سے آنے والے مغلوں نے ۔انارکلی بازار کا نام کس کے نام پر ہے؟ ایک ایسی لڑکی کے نام پر جو اس شہر کی اصل باشندہ بھی نہیں تھی۔ لاہور کا مال روڈ، جی پی او، ہائی کورٹ، شہر کا سب سے حسین سرسبز علاقہ ماڈل ٹاؤن، یہ سب ’باہر والوں‘ نے بنائے۔ یہ سب باہر سے آئے اوراس شہر کو اپنے خون پسینے سے تعمیر کر گئے۔ لاہور کے کھانوں، کلچر میں بہت بڑا حصہ کشمیریوں کا ہے۔ یہ کشمیر سے لاہور اور امرتسر میں آ کر آباد ہوئے۔ تقسیم کے بعد امرتسری(امبرسری) کشمیری  مسلمان بھی لاہور آ گئے اور آج امبرسریوں کےکھابے ملک بھر میں مشہور ہیں۔

اب ذرا دنیا کو دیکھیں۔

یورپ کے سب سے اہم شہر لندن کا میئر آج صادق خان ہے، پاکستانی نژاد، جنوبی لندن کے ایک بس ڈرائیور کا بیٹا۔ لندن والے اس پر فخر کرتے ہیں کیونکہ ان کا شہر ہمیشہ سے باہر سے آنے والوں کا گھر رہا ہے۔ رومن آئے، نارمن آئے، فرانسیسی آئے، یہودی آئے، ہندوستانی آئے، پاکستانی آئے، ہر آنے والے نے اس شہر میں کچھ جوڑا۔ اگر لندن نے کسی موڑ پر یہ سوچ لیا ہوتا کہ ’باہر والوں نے ہمیں خراب کر دیا‘ تو آج وہ ایک گمنام صوبائی قصبہ ہوتا، دنیا کا مالیاتی مرکز نہیں۔

نیویارک کو دنیا سٹی آف امیگرنٹس کہتی ہے۔ اب تو اس کا میئر ظہران ممدانی بھی ایک امیگرنٹ ہی ہے۔ وہاں ایلس آئی لینڈ پر ایک میوزیم ہے جو ان لاکھوں تارکین وطن کو خراج تحسین پیش کرتا ہے جو یورپ، ایشیا، افریقہ سے جہاز پر سوار ہو کر آئے اور امریکا کو امریکا بنایا۔ انہیں شرمندگی نہیں دلائی گئی، ان کی قربانی کو سنہری حروف میں لکھا گیا۔ نیویارک کی وہ عمارتیں جنہیں آج دنیا دیکھتی ہے، ان کی ایک ایک اینٹ کے پیچھے کسی ’باہر والے‘ کا پسینہ ہے۔

دبئی کی مثال اور بھی چونکا دینے والی ہے۔ وہاں اصل اماراتی شہری آبادی کا صرف 10 سے 15 فیصد ہیں۔ 85 سے 90 فیصد لوگ ’باہر والے‘ ہیں، پاکستانی، ہندوستانی، فلپینی، بنگلہ دیشی، یورپی۔ دبئی نے انہیں دھتکارا نہیں، خوش آمدید کہا۔ نتیجہ سامنے ہے، ریت کے ایک ٹیلے پر کھڑا ہونے والا شہر آج دنیا کا سب سے چمکدار شہر ہے۔ اگر عرب امارات کے بادشاہوں  نے بھی یہ سوچا ہوتا کہ باہر والے ہمیں خراب کریں گے تو دبئی آج وہ ترقی یافتہ دبئی نہ ہوتا۔

واپس لاہور آتے ہیں۔

آج لاہور میں جو کاروبار ہے، جو محنت ہے، جو تعمیر ہے، اس میں گوجرانوالہ،  گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور، جھنگ، ڈیرہ غازی خان سے آنے والوں کا حصہ اتنا ہی ہے جتنا کسی نسل در نسل لاہوری کا۔ وہ مزدور جو ڈیفنس کی کوٹھیاں بناتا ہے، وہ ریڑھی والا جو گلبرگ کو پھل فروخت کرتا ہے، وہ درزی جو اقبال ٹاؤن، ٹاؤن شپ میں سلائی کرتا ہے، یہ سب ’باہر والے‘ ہیں۔ انہیں نکال دیں تو لاہور کی رونق ایک دن میں ختم ہو جائے۔

ایک بات اور۔ لاہور کا ٹریفک اور آلودگی عید پر اس لیے کم ہوئی کہ ’باہر والے‘ اپنے گھروں کو گئے۔ یعنی اصل مسئلہ آنے والوں کا نہیں، شہر کی ناقص منصوبہ بندی کا ہے۔ وہ منصوبہ بندی جو انہی ’اندر والے‘ حکمرانوں کی دین ہے جو دہائیوں سے لاہور پر راج کرتے آئے ہیں۔

آخری بات، مراد راس صاحب خود گجرات میں پیدا ہوئے، تعلیم امریکا میں حاصل کی، ان کی امریکی شہریت کی بات بھی چلتی رہی ہے۔ لاہور کی نشست سے سیاست کی۔ تو پھر وہ ’اندر والے‘ کیسے اور گجرات سے آنے والا مزدور ’باہر والا‘ کیسے؟

مزید پڑھیں: کامیابی کی سب سے بڑی غلط فہمی

شہر اینٹوں سے نہیں، لوگوں سے بنتے ہیں۔ اور لوگ ہر طرف سے آتے ہیں۔ یہی کسی شہر کی اصل دولت ہے۔ درحقیقت اہل دانش کہتےہیں کہ ترقی ہی وہ گلو یا گوند ہے جو باہر سےلوگوں کو، سرمایے کو اور اہل ہنر کو کھینچتی ہے۔ ترقی دراصل وہ گریوٹی ہے جو اپنی کشش اور قوت سے باہروالوں کو اندر لاتی ہے اور ان کی وجہ سے وہ شہر جگمگاتا ہے۔ جس شہر میں باہر سے لوگ جانا بند کر جائیں، وہ کسی کمھلائے ہوئے پھول کی طرح ہوجاتا ہے۔ پھر اسے زوال سے کوئی نہیں روک سکتا۔ کاش مراد راس جیسے لوگ قوت بینا رکھتے، دل کی آنکھیں ہی کھول کر جینا سیکھ لیتے۔ تب ایسی دل آزاری والے ٹوئٹ ہرگز نہ لکھے جاتے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

عامر خاکوانی

نیچرل سائنسز میں گریجویشن، قانون کی تعلیم اور پھر کالم لکھنے کا شوق صحافت میں لے آیا۔ میگزین ایڈیٹر، کالم نگار ہونے کے ساتھ ساتھ 4 کتابوں کے مصنف ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر اب تک ان گنت تحریریں چھپ چکی ہیں۔

آؤٹ سائیڈرز احمد پور شرقیہ لاہور لاہور کس نے بنایا لاہور کے اندر والے باہر والے لندن کا میئر مراد راس نیویارک کا میئر

متعلقہ مضامین

  • کیا لاہور کو آؤٹ سائیڈرز نے تباہ کیا ہے؟
  • ناتمام (آخری قسط)
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • لاہور: محکمۂ قانون پنجاب نے بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کی تجویز دے دی