پنجاب کی تاریخ کا بدترین بجٹ‘ غریب کو ریلیف نہیں دیا،احمد بھچر
اشاعت کی تاریخ: 17th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
لاہور (نمائندہ جسارت) اپوزیشن لیڈر پنجاب اسمبلی ملک احمد خان بھچر نے کہا ہے کہ یہ پنجاب کی تاریخ کا بدترین بجٹ ہے جس میں غریب کو ریلیف نہیں دیا گیا، 20 فیصد ٹیکس لگایا اور 10 فیصد تنخواہوں میں اضافہ کیا، تحریک انصاف کے ارکان تنخواہیں عوام پر خرچ کرنے کیلیے تیار ہیں۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر کا کہنا تھا کہ پنجاب اسمبلی میں تاریخ کا سب سے بڑا احتجاج ہوا ہے، بجٹ بنانے میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے، یہ صبح الیکشن کروالیں پھر دیکھ لیں۔ ملک احمد خان بھچر نے کہا کہ کاشت کاری پنجاب میں ختم ہوچکی ہے، حکومت نے کسان کی گندم نہ خرید کر آٹا سستا کیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائیگا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت میں برسراقتدار مخلوط حکومت کی اتحادی جماعت بی جے پی کے لیڈر اور راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمان انجینیئر غلام علی کھٹانہ نے الزام عائد کیا کہ جموں و کشمیر میں نیشنل کانفرنس کی قیادت والی حکومت عوامی مسائل کے حل میں ہر محاذ پر ناکام ثابت ہوئی ہے، جس کے باعث عوام میں بے چینی اور ناراضگی بڑھ رہی ہے۔ ضلع رامبن کے سب ڈویژن بنیہال میں منعقدہ ایک عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے جس میں مقامی باشندوں اور سرکاری افسران نے شرکت کی، غلام علی کھٹانہ نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران تعلیم، صحت، پینے کے صاف پانی اور بجلی کے شعبوں کی حالت مزید خراب ہوئی ہے۔ انہوں نے وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت پر عوام سے دور ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے زیادہ جوابدہی کا مطالبہ کیا۔
بی جے پی کے لیڈر نے کہا کہ ان کی جماعت جموں و کشمیر بھر سے عوامی آراء اور شکایات جمع کر رہی ہے اور عوامی مسائل کو پارلیمنٹ میں اٹھایا جائے گا۔ انہوں نے مرکز کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی انتظامیہ کی کارکردگی پر وائٹ پیپر جاری کرنے کا مطالبہ بھی کیا اور گوجر-بکروال برادریوں اور بے گھر کشمیری پنڈتوں کے لئے مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ عوامی ملاقات کے دوران مختلف عوامی مسائل اور ترقیاتی امور پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا، جس میں مقامی حکام، بی جے پی رہنماؤں اور علاقے کے باشندوں نے شرکت کی۔