شہریوں کے فضائی سفر میں انقلاب کی نوید سامنے آئی ہے، پیرس ایئر شو میں چین کی بغیر پائلٹ ایئر ٹیکسی نے سب کو حیران کر دیا۔

پیرس ایئر شو 2025ء میں چین نے جدید ترین بغیر پائلٹ ایئر ٹیکسی متعارف کروا کر عالمی ہوابازی کی صنعت کو حیرت میں ڈال دیا ہے، یہ جدید فضائی سواری 2 مسافروں کو بغیر پائلٹ کے 3 گھنٹے تک پرواز کی سہولت فراہم کرتی ہے۔

ایئر ٹیکسی روایتی ہوائی جہازوں کے برعکس کسی رن وے کے بغیر اُڑان بھرنے اور اترنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس خصوصیت کی بدولت یہ شہری علاقوں میں استعمال کے لیے نہایت موزوں ہے جہاں جگہ کی کمی ہے۔

یہ ٹیکسی مکمل طور پر بجلی سے چلنے والی ہے اور کسی روایتی ایندھن کی محتاج نہیں، خراب موسم میں بھی پرواز کی صلاحیت، کم شور اور زیرو کاربن اخراج جیسے عوامل نے اسے ماحولیاتی طور پر شہروں کےلیے پُرکشش انتخاب بنا دیا ہے۔

اس ایئر ٹیکسی میں انتہائی جدید نیویگیشن سسٹم نصب ہے جو خودکار راستہ طے کرنے، رکاوٹوں سے بچاؤ اور درست لینڈنگ کو یقینی بناتا ہے، 600 کلو گرام وزن اٹھانے کی صلاحیت بھی اسے نمایاں بناتی ہے۔

پیرس ایئر شو میں یہ چینی ٹیکسی سب کی توجہ کا مرکز بنی رہی، عالمی صحافی، ماہرین اور سرمایہ کاروں نے اس کو مستقبل کی ٹیکنالوجی کا شاہکار قرار دیا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 3 گھنٹے کی خودکار پرواز کی صلاحیت رکھنے والی پہلی شہری ڈرون ٹیکسی ہے جو شارٹ ہال فلائٹس کی دنیا کو نئی سمت دے سکتی ہے۔

Post Views: 2.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: پیرس ایئر شو ایئر ٹیکسی بغیر پائلٹ کی صلاحیت

پڑھیں:

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔

صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔

حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔

ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔

پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔

حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟

مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف

ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔

متعلقہ مضامین

  • صرف ایک لفظ ’بم‘ نے آسمان میں اڑتے طیارے کو واپس موڑ دیا، حیران کن حقیقت سامنے آگئی
  • بحر اوقیانوس کے اوپر سیکیورٹی الرٹ، طیارہ پونے 4 گھنٹے بعد واپس لوٹ آیا
  • فراری کی پہلی الیکٹرک کار متعارف، رونمائی کے فوراً بعد تنقید کا طوفان
  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • کراچی: نجی ایئر لائن کی حج پرواز جدہ سے 15 گھنٹے کی تاخیر سے پہنچ گئی