پیرس ایئر شو میں جدید ترین بغیر پائلٹ ایئر ٹیکسی متعارف
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
شہریوں کے فضائی سفر میں انقلاب کی نوید سامنے آئی ہے، پیرس ایئر شو میں چین کی بغیر پائلٹ ایئر ٹیکسی نے سب کو حیران کر دیا۔
پیرس ایئر شو 2025ء میں چین نے جدید ترین بغیر پائلٹ ایئر ٹیکسی متعارف کروا کر عالمی ہوابازی کی صنعت کو حیرت میں ڈال دیا ہے، یہ جدید فضائی سواری 2 مسافروں کو بغیر پائلٹ کے 3 گھنٹے تک پرواز کی سہولت فراہم کرتی ہے۔
ایئر ٹیکسی روایتی ہوائی جہازوں کے برعکس کسی رن وے کے بغیر اُڑان بھرنے اور اترنے کی صلاحیت رکھتی ہے، اس خصوصیت کی بدولت یہ شہری علاقوں میں استعمال کے لیے نہایت موزوں ہے جہاں جگہ کی کمی ہے۔
یہ ٹیکسی مکمل طور پر بجلی سے چلنے والی ہے اور کسی روایتی ایندھن کی محتاج نہیں، خراب موسم میں بھی پرواز کی صلاحیت، کم شور اور زیرو کاربن اخراج جیسے عوامل نے اسے ماحولیاتی طور پر شہروں کےلیے پُرکشش انتخاب بنا دیا ہے۔
اس ایئر ٹیکسی میں انتہائی جدید نیویگیشن سسٹم نصب ہے جو خودکار راستہ طے کرنے، رکاوٹوں سے بچاؤ اور درست لینڈنگ کو یقینی بناتا ہے، 600 کلو گرام وزن اٹھانے کی صلاحیت بھی اسے نمایاں بناتی ہے۔
پیرس ایئر شو میں یہ چینی ٹیکسی سب کی توجہ کا مرکز بنی رہی، عالمی صحافی، ماہرین اور سرمایہ کاروں نے اس کو مستقبل کی ٹیکنالوجی کا شاہکار قرار دیا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ 3 گھنٹے کی خودکار پرواز کی صلاحیت رکھنے والی پہلی شہری ڈرون ٹیکسی ہے جو شارٹ ہال فلائٹس کی دنیا کو نئی سمت دے سکتی ہے۔
Post Views: 2.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پیرس ایئر شو ایئر ٹیکسی بغیر پائلٹ کی صلاحیت
پڑھیں:
دبئی ایئرپورٹ پر اے آئی امیگریشن سسٹم متعارف، 3.4 سیکنڈ میں کلیئرنس
دبئی: دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم کے ذریعے مسافروں کے لیے سفر کو مزید تیز اور آسان بنانے کی جانب ایک اہم قدم اٹھا لیا گیا ہے۔ مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی جدید بارڈر کنٹرول نظام کی آزمائش کامیاب رہی ہے، جس کے تحت مسافر صرف 3.4 سیکنڈ میں امیگریشن کا مرحلہ مکمل کر سکتے ہیں۔
دبئی کی جنرل ڈائریکٹوریٹ آف آئیڈینٹیٹی اینڈ فارنرز افیئرز (GDRFA) کے مطابق اس جدید نظام میں اے آئی سے لیس بایومیٹرک کیمرے بیک وقت 10 مسافروں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
بغیر پاسپورٹ دکھائے امیگریشن کلیئر
نئے سسٹم کے تحت “ریڈ کارپٹ لین” استعمال کرنے والے رجسٹرڈ مسافروں کو پاسپورٹ یا بورڈنگ پاس دکھانے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انہیں صرف اپنا چہرہ کھلا رکھ کر بایومیٹرک کیمرے پر موجود سبز اشارے کی طرف دیکھنا ہوگا، جس کے بعد شناخت کا عمل خودکار طور پر مکمل ہو جائے گا۔
ابتدائی مرحلے میں کن مسافروں کے لیے؟
ابتدائی طور پر اس جدید سسٹم کا آغاز دبئی ایئرپورٹ کے ٹرمینل 3 پر فرسٹ کلاس اور بزنس کلاس کے مسافروں کے لیے کیا گیا تھا، تاہم کامیاب آزمائش کے بعد اب اس سہولت کو مزید آنے والے مسافروں تک توسیع دی جا رہی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے دوران 5 لاکھ 28 ہزار سے زائد مسافروں نے دبئی کے “اسمارٹ کوریڈور” سے استفادہ کیا، جبکہ گزشتہ سال 2 کروڑ 60 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے اسمارٹ گیٹس کے ذریعے سفر کیا۔
کن افراد کو یہ سہولت حاصل ہوگی؟
حکام کے مطابق متحدہ عرب امارات اور خلیجی ممالک کے شہری، یو اے ای کے رہائشی اور بایومیٹرک پاسپورٹ رکھنے والے ویزا آن ارائیول مسافر اس سہولت سے خودکار طور پر فائدہ اٹھا سکیں گے۔ تاہم 1.2 میٹر سے کم قد رکھنے والے بچوں کے لیے یہ نظام فی الحال دستیاب نہیں ہوگا۔
دبئی ایئرپورٹس کے چیف ایگزیکٹو پال گریفتھس کا کہنا ہے کہ اس جدید ٹیکنالوجی کا مقصد سیکیورٹی کو برقرار رکھتے ہوئے امیگریشن کے عمل کو زیادہ تیز، آسان اور مؤثر بنانا ہے۔ ان کے مطابق مستقبل میں دبئی ایئرپورٹ اے آئی امیگریشن سسٹم تمام مسافروں کے لیے دستیاب ہوگا، جس سے ہوائی سفر کا تجربہ مزید بہتر ہونے کی توقع ہے۔