26 نومبر احتجاج کے نامزد ملزمان پرفرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔18 جون ۔2025 )انسداددہشت گردی عدالت اسلام آباد نے پی ٹی آئی کارکنان کیخلاف 26 نومبراحتجاج پر توڑ پھوڑ کے الزام کے تحت درج مقدمے میں نامزد ملزمان پر فرد جرم عائد کرنے کی تاریخ مقرر کر دی ہے اے ٹی سی کے جج طاہر عباس سپرا نے کیسز پر سماعت کی. عدالت نے کراچی کمپنی کے مقدمہ نمبر میں چالان کی نقول تقسیم کر دی، آئندہ سماعت پر ملزمان پر فرد عائد کی جائے گی مقدمے کی سماعت 25 جون تک ملتوی کر دی گئی تھانہ مارگلہ کے مقدمے میں ملزمان کو دوبارہ طلبی کے نوٹسز جاری کیے گئے عدالت نے مقدمے کی سماعت 9 جولائی تک ملتوی کر دی.
(جاری ہے)
عدالت نے تھانہ نون کے مقدمے میں ملزمان کو دوبارہ طلبی کے نوٹسز جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 24 جولائی تک ملتوی کر دی. پی ٹی آئی ایم این اے احمد چھٹہ کے خلاف سنگجانی جلسہ پر درج مقدمے کی سماعت ہوئی تاہم احمد چھٹہ عدالت میں پیش نہ ہوئے عدالت نے احمد چٹھہ کو دوبارہ طلبی کا نوٹس جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 24 جون تک ملتوی کر دی پی ٹی آئی کارکنان کی جانب سے سردار محمد مصروف خان ایڈووکیٹ اور شبیر ڈار ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے.
پی ٹی آئی 26 نومبر احتجاج پر رینجرز اہلکاروں کو کچلنے کے معاملے پر انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے کیس پر سماعت کی ملزم اور وکلا کی عدم دستیابی کے باعث سماعت بغیر کارروائی ملتوی کر دی گئی، کیس کی آئندہ سماعت 23 جون کو ہوگی کیس کی اگلی سماعت پر استغاثہ کے گواہان اپنے بیانات ریکارڈ کروائیں گے، آج استغاثہ کی جانب سے شہادتیں ریکارڈ کروائی جانی تھی پراسیکوشن نے ملزم ہاشم عباسی کی حد تک چالان جمع کروا رکھا ہے ملزم ہاشم عباسی سمیت عمران خان، بشری بی بی، علی امین گنڈا پور و دیگر کیخلاف تھانہ رمنا میں مقدمہ درج ہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے تک ملتوی کر دی پی ٹی آئی کی سماعت عدالت نے کیس کی
پڑھیں:
میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے سی سی ڈی اہلکاروں کی جانب سے میاں بیوی اور تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھانے کے معاملے میں سی سی ٹی وی کیمروں کی وڈیو فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو متعلقہ ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس شہرام سرور چوہدری نے درخواست پر سماعت کی۔ درخواست گزار رحمان کی جانب سے ایڈووکیٹ ایاز صفدر سندھو نے دلائل دیئے۔درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ سی سی ڈی گوجرانوالہ نے درخواست گزار کی بہن، بہنوئی اور ان کی تین سالہ بچی کو گھر سے اٹھایا اور بعد ازاں میاں بیوی کے خلاف منشیات کا جھوٹا مقدمہ درج کر دیا۔ مذکورہ میاں بیوی ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے کے مدعی ہیں اور پیروی سے باز نہ آنے پر انہیں جھوٹے مقدمے میں نامزد کیا گیا۔(جاری ہے)
تین سالہ بچی بھی سی سی ڈی کی تحویل میں رہی تاہم درج مقدمے میں اس کا کوئی ذکر موجود نہیں۔ عدالت سے استدعا کی گئی کہ متعلقہ مقامات کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ بنانے کے احکامات جاری کیے جائیں۔سماعت کے دوران جسٹس شہرام سرور چوہدری نے ریمارکس دیے کہ فوٹیج حاصل کرنا یا اسے محفوظ بنانا ہائیکورٹ کا کام نہیں۔ عدالت نے قرار دیا کہ ٹرائل کورٹ کے پاس سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ رکھنے سمیت متعدد قانونی اختیارات موجود ہیں۔عدالت نے درخواست گزار کو ہدایت کی کہ وہ اپنی درخواست متعلقہ ٹرائل کورٹ میں دائر کرے کیونکہ اس حوالے سے حکم جاری کرنے کا اختیار اسی عدالت کے پاس ہے۔بعد ازاں عدالت نے سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے درخواست گزار کو ٹرائل کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔