کے الیکٹرک کی خرابی کے باعث کراچی کے کئی علاقوں کو پانی کی فراہمی معطل
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
کراچی:
کے الیکٹرک کی خرابی کی وجہ سےکراچی کے مختلف علاقوں کو پانی کی فراہمی معطل ہو گئی۔
شہر قائد میں پانی کا نیا بحران سر اٹھانے لگا ہے۔ ترجمان واٹر کارپوریشن کے مطابق دھابیجی پمپنگ اسٹیشن پر کے الیکٹرک کی جانب سے بجلی کے بڑے بریک ڈاؤن کے باعث 100 ایم جی پمپ ہاؤس مکمل طور پر بند ہوگیا، جس سے شہر کے مختلف علاقوں کو پانی کی فراہمی معطل ہو چکی ہے۔
بجلی کا بریک ڈاؤن گزشتہ شب 11 بج کر 30 منٹ پر 100 ایم جی پمپ ہاؤس میں پیش آیا، جس کے بعد سے 14 گھنٹے گزرنے کے باوجود کے الیکٹرک کا فالٹ درست نہیں کیا جاسکا۔
اس دوران واٹر کارپوریشن حکام کے الیکٹرک انتظامیہ سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ صورتحال کا فوری حل نکالا جاسکے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ 100 ایم جی پمپ ہاؤس سے کراچی کو یومیہ 100 ایم جی ڈی پانی فراہم کیا جاتا ہے، جس کی بندش کے باعث شہر کے کئی علاقے شدید متاثر ہوں گے۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ پانی کے استعمال میں احتیاط برتیں کیونکہ بجلی بحال ہونے تک پانی کی فراہمی ممکن نہیں ہو سکے گی۔
دوسری جانب کے الیکٹرک کی جانب سے تاحال فالٹ کی نوعیت یا بحالی میں تاخیر کی وجوہات سے متعلق کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، جس پر شہریوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ پمپنگ اسٹیشن کی بندش نے کراچی میں پانی کے پہلے سے موجود بحران کو مزید سنگین کر دیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پانی کی فراہمی کے الیکٹرک کی ایم جی
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔