کراچی: شاپنگ مال میں اچانک خوفناک آگ، عمارت شعلوں کی لپیٹ میں
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
شہر قائد کے مصروف علاقے گلستانِ جوہر میں واقع ایک بڑے شاپنگ مال میں بدھ کی صبح اچانک آگ بھڑک اٹھی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پوری عمارت کو لپیٹ میں لے لیا۔
ریسکیو ذرائع کے مطابق آگ کا آغاز مال کی چھت سے ہوا، جو چند ہی لمحوں میں نیچے کی منزلوں تک پھیل گئی۔ شعلوں کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ اردگرد کا علاقہ دھوئیں سے بھر گیا، جبکہ حفاظتی پیشِ نظر قریبی دکانیں اور سڑکیں خالی کرا لی گئیں۔
مزید پڑھیں: نوشکی میں تیل سے بھرے ٹرک میں آتشزدگی کا واقعہ، جاں بحق افراد کی تعداد 7 ہوگئی
آگ پر قابو پانے کے لیے فائر بریگیڈ کی 6 گاڑیاں جائے وقوعہ پر پہنچ چکی ہیں اور بھرپور کوششیں جاری ہیں۔ ریسکیو ٹیموں کا کہنا ہے کہ تاحال آگ لگنے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی، جبکہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق کوئی جانی نقصان رپورٹ نہیں ہوا۔
ریسکیو حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر آگ پر جلد قابو نہ پایا گیا تو صورتِ حال مزید بگڑ سکتی ہے۔ مزید تفصیلات کا انتظار ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
آتشزدگی شہر قائد گلستان جوہر.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا تشزدگی گلستان جوہر
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔