UrduPoint:
2026-06-02@23:01:51 GMT

آبنائے ہرمز عالمی تیل کی سپلائی کے لیے اہم کیوں؟

اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT

آبنائے ہرمز عالمی تیل کی سپلائی کے لیے اہم کیوں؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 18 جون 2025ء) آبنائے ہرمز ایک اہم آبی گزرگاہ ہے جو عمان اور ایران کے درمیان واقع ہے اور خلیج فارس کو خلیج عمان اور بحیرہ عرب سے ملاتی ہے۔

یو ایس انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن(ای آئی اے) اسے "دنیا کا سب سے اہم آئل ٹرانزٹ چوک پوائنٹ" قرار دیتا ہے۔

اسرائیل اور ایران کے مابین تنازعے میں امریکہ کہاں کھڑا ہے؟

اپنے تنگ ترین مقام پر، یہ آبی گزرگاہ صرف 33 کلومیٹر چوڑی ہے، جس میں دونوں سمتوں میں جہاز رانی کی لین صرف دو میل چوڑی ہے، جو اسے بھیڑ بھاڑ والی اور خطرناک بناتی ہے۔

اوپیک ممالک جیسے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، کویت اور عراق کی طرف سے خام تیل کی بڑی مقدار خلیج فارس کے خطے میں تیل کے ذخائر سے نکالی جاتی ہے اور عالمی سطح پر استعمال ہوتی ہے جو آبنائے ہرمز کے ذریعے دوسرے ملکوں کو جاتی ہے۔

(جاری ہے)

انرجی اور فریٹ مارکیٹ کنسلٹنٹ وورٹیکسا کے اعداد و شمار کے مطابق، تقریباً 20 ملین بیرل خام، کنڈینسیٹ اور ایندھن روزانہ اس آبی گزرگاہ کے ذریعے ترسیل کا تخمینہ ہے۔

ایران اسرائیل تنازعہ: کیا ترکی بھی اس میں شامل ہو جائے گا؟

مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے دنیا کے سب سے بڑے پروڈیوسر میں سے ایک، قطر، اپنی ایل این جی برآمدات کے لیے آبنائے ہرمز پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے۔

آبنائے ہرمز میں موجودہ صورتحال کیا ہے؟

اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازعہ نے آبی گزرگاہ کی حفاظت پر نئی توجہ مرکوز کر دی ہے۔

ایران ماضی میں مغربی دباؤ کے جواب میں آبنائے ہرمز کو ٹریفک کے لیے بند کرنے کی دھمکی دیتا رہا ہے۔

اسرائیل اور ایران کے درمیان لڑائی شروع ہونے کے بعد سے، تاہم، خطے میں تجارتی جہاز رانی پر کوئی بڑا حملہ نہیں ہوا ہے۔

خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق لیکن جہاز کے مالکان آبی گزرگاہ کو استعمال کرنے میں تیزی سے محتاط ہو رہے ہیں، کچھ بحری جہازوں نے سخت حفاظتی انتظامات کیے ہیں اور دیگر اس راستے کو منسوخ کر رہے ہیں۔

بحری ذرائع نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ تجارتی جہازوں کے نیویگیشن سسٹم کے ساتھ الیکٹرانک مداخلت حالیہ دنوں میں آبی گزرگاہ اور وسیع خلیج کے ارد گرد بڑھ گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس مداخلت کا اثر خطے سے گزرنے والے جہازوں پر پڑ رہا ہے۔

حماس کے ساتھ جو کیا وہ ایران مت بھولے، اسرائیل کا انتباہ

چونکہ بظاہر یہ تنازع فوری طور پر ختم نہیں ہونے والا ہے، بازار میں اتھل پتھل، آبی گزرگاہ کی کسی بھی طرح کی بندش یا تیل کے بہاؤ میں رکاوٹ خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ کر سکتی ہے اور توانائی کے درآمد کنندگان کو خاص طور پر ایشیا میں سخت نقصان پہنچا سکتی ہے۔

دریں اثنا، حالیہ دنوں میں خطے سے خام اور صاف شدہ تیل کی مصنوعات لے جانے والے جہازوں کے لیے ٹینکر کے نرخ بڑھ گئے ہیں۔

بلومبرگ نے بالٹک ایکسچینج کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ پیر تک مشرق وسطیٰ سے مشرقی ایشیا تک ایندھن کی ترسیل کی لاگت تقریباً 20 فیصد بڑھ گئی۔ اس دوران مشرقی افریقہ میں شرحیں 40 فیصد سے زیادہ بڑھ گئیں۔

سب سے زیادہ کون متاثر ہو گا؟

ای آئی اے کا اندازہ ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے خام اور دیگر ایندھن کی کھیپوں کا 82 فیصد ایشیائی صارفین کو جاتا ہے۔

چین، بھارت، جاپان اور جنوبی کوریا ان چار ممالک کے ساتھ سرفہرست تھے جو کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام خام تیل اور کنڈینسیٹ کے بہاؤ کا تقریباً 70 فیصد بنتے ہیں۔

آبنائے ہرمز میں سپلائی میں رکاوٹ سے یہ مارکیٹیں سب سے زیادہ متاثر ہوں گی۔

بندش کا ایران اور خلیجی ممالک پر کیا اثر پڑے گا؟

اگر ایران آبنائے ہرمز کو بند کرنے کے لیے کارروائی کرتا ہے تو ممکنہ طور پر امریکہ فوجی مداخلت کر سکتا ہے۔

امریکہ کا پانچواں بحری بیڑا، جو کہ قریبی بحرین میں واقع ہے، کو علاقے میں تجارتی جہاز رانی کی حفاظت کا کام سونپا گیا ہے۔

ایران کی طرف سے آبی گزرگاہ سے تیل کے بہاؤ میں خلل ڈالنے کا کوئی بھی اقدام سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسی خلیجی عرب ریاستوں کے ساتھ تہران کے تعلقات کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

خلیجی عرب ممالک نے اب تک اسرائیل کو ایران کے خلاف حملے شروع کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے لیکن اگر تہران کے اقدامات ان کی تیل کی برآمدات میں رکاوٹ بنتے ہیں تو ان پر ایران کے خلاف جانے کے لیے دباؤ ڈالا جا سکتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مزید برآں، تہران خود اپنے صارفین کو تیل بھیجنے کے لیے آبنائے ہرمز پر انحصار کرتا ہے، جس سے اس آبنائے کو بند کرنا نقصان دہ ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے جے پی مورگن کے تجزیہ کاروں نتاشا کنیوا، پرتیک کیڈیا اور لیوبا ساوینووا کے حوالے سے کہا کہ "ایران کی معیشت کا بہت زیادہ انحصار سمندری راستے سے سامان اور بحری جہازوں کے مفت گزرنے پر ہے، کیونکہ اس کی تیل کی برآمدات مکمل طور پر سمندر پر مبنی ہیں۔

" اور "آبنائے ہرمز کو منقطع کرنا ایران کے اپنے واحد تیل خریدار چین کے ساتھ تعلقات کے لیے نقصان دہ ہو گا۔" کیا آبنائے ہرمز کے متبادل ہیں؟

خلیجی عرب ممالک جیسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے حالیہ برسوں میں آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے متبادل راستے تلاش کیے ہیں۔

دونوں ممالک نے انفراسٹرکچر قائم کیا ہے جس کی مدد سے وہ اپنے کچھ خام تیل کو دوسرے راستوں سے لے جا سکتے ہیں۔

سعودی عرب، مثال کے طور پر، 50 لاکھ بیرل یومیہ کی گنجائش کے ساتھ ایسٹ ویسٹ کروڈ آئل پائپ لائن چلاتا ہے، جب کہ متحدہ عرب امارات کے پاس ایک پائپ لائن ہے جو اس کے ساحلی آئل فیلڈز کو خلیج عمان کے فجیرہ ایکسپورٹ ٹرمینل سے جوڑتی ہے۔

ای آئی اے کا اندازہ ہے کہ آبنائے ہرمز کو نظرانداز کر کے تقریباً 2.

6 ملین بیرل یومیہ خام تیل دستیاب ہو سکتا ہے۔

ج ا ⁄ ص ز (سرینواس مجمدارو)

ذریعہ

ذریعہ: UrduPoint

کلیدی لفظ: تلاش کیجئے متحدہ عرب امارات آبنائے ہرمز کو اور ایران کے آبی گزرگاہ کے ساتھ سکتا ہے خام تیل کے لیے تیل کی

پڑھیں:

چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟

پاکستانی اداکار شہزاد نواز نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں پاکستانی کرنسی سے بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی تصویر ہٹا دی جائے۔حال ہی میں شہزاد نواز سے اداکار علی سفینہ نے انٹرویو لیا جس میں ملکی حالات سمیت دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی گئی۔علی سفینہ نے کہا 'جب بھی کوئی حکومت بدلتی ہے تو آپ کو اپنے اردگرد تبدیلیاں نظر آتی ہیں، مثلاً ایک ثقافتی پالیسی کہتی ہے کہ قائداعظم اور علامہ اقبال ہیرو ہیں، ہم ان کے دور حکومت میں ان سب کو دیکھتے ہیں، ان کی تصاویر لگائی جاتی ہیں کہ پھر دوسری آنے والی حکومت ان کی تصویریں ہٹا کر اپنے قائدین کی تصویریں لگادیتے ہیں'۔شہزاد نواز نے سوال کیا کیا ایسا ہوا ہے؟ یہ غالباً کراچی ائیرپورٹ پر ہوا تھا، جواب میں علی نے کہا بالکل۔علی سفینہ سے گفتگو کے دوران شہزاد نواز کا کہنا تھا 'اگر یہ میرے اختیار میں ہوتا تو میں تمام کرنسی نوٹوں سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دوں گا کیونکہ لوگوں میں کوئی شرم نہیں ہے، رشوت لے رہے ہیں اور دے رہے ہیں، فراڈ میں ملوث ہیں جب کہ کرنسی نوٹوں پر ان کی تصویر ہے اور وہ آپ کو یہ سب کرپٹ کام کرتے دیکھ رہے ہیں'۔انہوں نے کہا 'اگر اسی طرح نوٹوں کی سرعام بے عزتی ہوتی رہی تو اس تصویر کا کیا فائدہ، ضیاالحق کے دور میں بڑی اچھی تبدیلی آئی کے نوٹوں پر عبارت درج کی گئی رزقِ حلال عین عبادت ہے'۔شہزاد نواز نے کہا 'بعدازاں مشرف کے دور میں اس عبارت کو چھوٹا کردیا گیا، میرے خیال میں اب اسے نوٹوں پر سے نکال دینا چاہیے'۔

متعلقہ مضامین

  • عالمی کشیدگی کے بیچ پاکستان کی کامیاب ثالثی
  • آبنائے ہرمز بحالی پر بھی ایران سے پابندیاں نہیں ہٹائینگے: مارکوروبیو
  • کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
  • بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اسحاق ڈار کویتی وزیر خارجہ کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، بدلتی عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • ووٹ ملے نہ ملے گلگت بلتستان میں سہولیات فراہم کروں گا: نواز شریف
  • چاہتا ہوں کرنسی سے قائداعظم کی تصویر ہٹا دی جائے، شہزاد نواز نے ایسا کیوں کہا؟
  • امریکا ایران غیر یقینی صورتحال: عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار
  • ایران، امریکا مذاکرات: یورپی یونین بھی پاکستان کے کردار کی معترف لیکن مسئلے کا حل تاحال تاخیر کا شکار کیوں؟