بھارت نے مقبوضہ کشمیر کے طلبہ کو ایران میں بے یار و مددگار چھوڑ دیا
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
TEHRAN:
بھارت نے اسرائیل کی جارحیت کے دوران ایران میں مقبوضہ جموں و کشمیر سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا۔
کشمیر میڈیا سروس (کے ایم ایس) کی رپورٹ کے مطابق تہران کی میزائلوں سے لرزتی فضاؤں میں بھارتی حکومت نے کشمیری طلبہ کو بے یارومددگار چھوڑ دیا ہے، تہران اور اہواز کے ہاسٹلز میں سائرنوں کی گونج میں کشمیری طلبہ اپنی قسمت کے منتظر ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ نئی دہلی کی سردمہری ایران میں موت کی دہلیز پر کھڑے کشمیری طلبہ کے لیے تکلیف دہ ہے، جنگی آگ میں جھلستے ایرانی شہروں میں کشمیری والدین کی دعائیں اور ٹیلی فون کالزبے اثر نظر آرہی ہیں۔
دوسری جانب پاکستان اور عرب ممالک اپنے طلبہ کو بچا کر اپنے وطن لے گئے مگر بھارت نے کشمیریوں کو تنہا چھوڑ دیا، اگر یہ مظلوم طلبہ کشمیری مسلمانوں کے بجائے ہندو ہوتے تو حکومتی رویہ شاید مختلف ہوتا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ کشمیر کی مجبور ماؤں کی چیخیں دہلی کے ایوانِ اقتدار کے در و دیوار سے ٹکرا کر لوٹ آئیں۔
جموں و کشمیر اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن نے مودی سرکار کو خط بھی لکھا مگر اس خط کا کوئی جواب نہیں آیا، ایسوسی ایشن کے مطابق ایران میں اس وقت 1500 طلبہ موجود ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارتی سفارت خانہ خاموش تماشائی بن کر ایران میں کشمیری طلبہ کی بے بسی دیکھ رہا ہے، دنیا بھر کے میڈیا میں ایرانی جنگ کی خبریں گونج رہی ہیں اور کشمیری طلبہ کا ذکر کہیں سنائی نہیں دے رہا ہے۔
کشمیری طلبہ نے بتایا کہ ہم ٹیلی فون کالز کر رہے ہیں مگر سفارت خانہ خاموش ہے۔
ایک طالبہ نے ویڈیو پیغام میں کہا کہ ہمیں جلدی یہاں سے نکالا جائے اور تہران یونیورسٹی میں بوائز ہاسٹلز کے قریب حملہ بھی ہوا ہے، چند طلبہ زخمی بھی ہوگئے ہیں۔
انہوں نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ اس وقت ایران میں انٹرنیٹ کی سروس بہت کمزور ہے، دیگر سہولیات بھی ختم ہو رہے لہٰذا جلد از جلد انہیں وہاں سے منتقل کیا جائے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: ایران میں چھوڑ دیا طلبہ کو
پڑھیں:
کراچی: واش روم میں بچے کی پیدائش، تحقیقاتی رپورٹ ڈائریکٹر جناح اسپتال کے حوالے
فائل فوٹو۔جناح اسپتال کراچی کے واش روم میں بچے کی پیدائش کے معاملے پر تین رکنی تحقیقاتی کمیٹی نے اپنی رپورٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹرکو جمع کروا دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا متاثرہ خاتون رات ساڑھے 9 بجے گائنی وارڈ میں آئی، گائنی وارڈ میں کسی نے بھی خاتون کو طبی امداد نہیں دی۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق خاتون کا الٹرا ساؤنڈ نہیں کروایا گیا اور چہل قدمی کا مشورہ دیا گیا۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق کنسلٹنٹ اور آر ایم او ڈیوٹی پر موجود نہیں تھے، مریضوں کے ساتھ آنے والے مرد گائنی وارڈ کے احاطےمیں موجود تھے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق میڈیکل آفسر کو محکمہ صحت بھیجنے اور ڈیوٹی پر موجود پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹرز کی 3 ماہ مزید ٹریننگ کی تجویز ہے۔
جناح اسپتال کے ذرائع کے مطابق رپورٹ میں سیکیورٹی گارڈز کی ڈیوٹی پر بھی تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ کمیٹی کی جانب سے بنائی گئی رپورٹ سیکریٹری اور وزیر صحت کو دے دی گئی۔