آئی اے ای اے نے بھی ایران کے ایٹمی ہتھیار بنانے کی تردید کردی
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
پیرس: امریکی نیشنل انٹیلی جنس سربراہ کے بعد آئی اے ای اے کے سربراہ نے بھی ایران کی جانب سے ایٹمی ہتھیار بنانے کی تردید کردی۔
انٹرنیشل اٹامک انرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی کا کہنا ہے کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کر رہا تھا۔
اپنے بیان میں رافیل گروسی نے کہا کہ انہوں نے نتیجہ اخذ کیا تھا کہ ایٹمی ہتھیار بنانے کی مربوط کوشش نہیں ہورہی، 60 فیصد یورینیم افزودہ کرنے پر شبہات تھے، لیکن ہم نے کبھی نہیں کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے۔
واضح رہے کہ امریکا کی قومی سلامتی کی ڈائریکٹر تُلسی گبارڈ نے مارچ 2025 میں کہا تھا کہ اُن کی انٹیلی جنس کے مطابق ایران ایٹمی ہتھیار نہیں بنا رہا بلکہ آیت اللہ خامنہ ای نے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کی اجازت ہی نہیں دی۔
تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے قومی سلامتی کی مشیر تلسی گبارڈ کا کلیئرنس نوٹ مسترد کردیا۔
ایک بیان میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے قومی سلامتی کی مشیر تلسی گبارڈ کا کلیئرنس نوٹ مسترد کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات کی پرواہ نہیں کہ تلسی گبارڈ نے کیا کہا تھا، ان کے خیال میں ایران جوہری ہتھیار بنانے کے بہت قریب تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ایٹمی ہتھیار بنانے کی
پڑھیں:
امریکی سفارت کاری نہیں، میزائلوں کی زبان سمجھتے ہیں، ایران
ایکس پر جاری بیان میں قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے کہا ہے کہ امریکیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ سفارت کاروں کی نہیں بلکہ میزائلوں کی زبان بہتر سمجھتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے ترجمان ابراہیم رضائی نے امریکا پر سخت تنقید کی ہے۔ ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ امریکیوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ سفارت کاروں کی نہیں بلکہ میزائلوں کی زبان بہتر سمجھتے ہیں۔ ابراہیم رضائی نے ایرانی مسلح افواج خصوصاً پاسداران انقلاب کی بحری اور فضائی فورسز کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔ دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی فضائیہ نے کہا ہے کہ اس نے میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے امریکی پانچویں بحری بیڑے کے ہیڈکوارٹر، ایک فضائی اڈے اور خطے میں موجود دیگر امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق یہ کارروائی قشم جزیرے کے جنوب میں ایک مواصلاتی ٹاور پر امریکی حملے کے جواب میں کی گئی ہے۔ پاسدارانِ انقلاب کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب ایک ایرانی آئل ٹینکر پر مبینہ امریکی حملے کے بعد اس نے ایک ایسے بحری جہاز کو بھی نشانہ بنایا جسے ایران نے امریکی اور اسرائیلی مفادات سے منسلک قرار دیا۔