امریکی فوج کا چیٹ جی پی ٹی کی مالک کمپنی سے کروڑوں ڈالر کا معاہدہ
اشاعت کی تاریخ: 18th, June 2025 GMT
چیٹ جی پی ٹی کی مالک کمپنی اوپن اے آئی اور امریکی ملٹری کے درمیان 20 کروڑ ڈالر مالیت کا جنگی معاملات اور قومی سلامتی کے دیگر چیلنجز سے نمٹنے کے لیے آرٹیفیشل انٹیلی جنس تشکیل دینے کا معاہدہ طے پا گیا۔
یہ معاہدہ ٹیکنالوجی کمپنی کی پالیسی میں واضح تبدیلی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے قبل کمپنی نے اپنے ماڈلز کو ملٹری اور جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے پر پابندی عائد کی ہوئی تھی۔
اس کے لیے کمپنی کی جانب سے ’اوپن اے آئی فار گورنمنٹ‘ کے نام کی نئی شاخ تشکیل دی جائے گی جس میں حکومتی اہلکاروں کے لیے چیٹ جی پی ٹی کا محفوظ ورژن شامل ہوگا۔
پینٹاگون کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ معاہدے میں اوپن اے آئی کی جانب سے اہم قومی سلامتی کے چیلنجز اور جنگی معاملات سے نمٹنے کے لیے بنائے جانے والے اے آئی نمونوں کو دیکھا جائے گا۔
تاہم، اوپن اے کے بیان میں جنگی معاملات یا مصنوعی ذہانت کو مسلح کرنے کا ذکر نہیں کیا گیا بلکہ اس کی ٹیکنالوجی کے لیے مزید بہتر استعمال پر توجہ دی جائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: اوپن اے اے ا ئی کے لیے
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔