اسلام آباد:

ملک بھر میں پری مون سون  بارشوں کا آغاز ہو رہا ہے، اس حوالے سے محکمہ موسمیات نے پیش گوئی جاری کردی ہے۔

محکمہ موسمیات کے مطابق ملک بھر میں پری مون سون بارشوں کا سلسلہ 20 جون سے شروع ہونے کا امکان ہے جو 23 جون تک وقفے وقفے سے جاری رہے گا۔ اس دوران خلیج بنگال اور بحیرہ عرب سے مرطوب ہوائیں ملک کے بالائی و وسطی علاقوں میں داخل ہوں گی، جبکہ مغربی ہواؤں کا ایک سلسلہ بھی 20 جون سے بالائی علاقوں پر اثر انداز ہوگا۔

20 سے 23 جون کے دوران کشمیر، گلگت بلتستان، مری، گلیات، اسلام آباد، راولپنڈی، لاہور، فیصل آباد، سرگودھا، گجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات اور پشاور سمیت درجنوں اضلاع میں آندھی، گرج چمک اور وقفے وقفے سے بارش کا امکان ہے۔ اس دوران چند علاقوں میں تیز بارش اور ژالہ باری بھی متوقع ہے۔

21 سے 23 جون کے دوران ژوب، بارکھان، موسیٰ خیل، قلات، ڈیرہ غازی خان، ملتان، بہاولپور، بہاولنگر اور ساہیوال میں بھی بارش اور آندھی کی پیش گوئی کی گئی ہے جب کہ 22 سے 24 جون کے دوران سکھر، لاڑکانہ، دادو اور جیکب آباد کے علاقوں میں آندھی و گرج چمک کے ساتھ بارش کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

محکمہ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ اسلام آباد سمیت بالائی و وسطی علاقوں میں تیز بارش، جھکڑ اور گرج چمک کے باعث بجلی کی تاریں، درخت، گاڑیاں اور سولر پینلز کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔

ان بارشوں سے موجودہ شدید گرمی میں نمایاں کمی کا بھی امکان ہے۔

دوسری جانب پی ڈی ایم اے پنجاب نے ممکنہ سیلابی صورتحال کے پیش نظر صوبے بھر کے کمشنرز اور ڈپٹی کمشنرز کو مراسلہ جاری کیا ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ اس سال مون سون بارشیں معمول سے 25 فیصد زیادہ ہونے کی توقع ہے جب کہ لاہور، گجرانوالہ، سیالکوٹ، گجرات اور راولپنڈی میں یہ شرح 40 سے 60 فیصد تک ہو سکتی ہے۔

پی ڈی ایم اے نے ضلعی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ ممکنہ خطرات کے پیش نظر شہروں میں عوامی آگاہی مہم چلائی جائے۔ دریاؤں اور ندی نالوں کے قریب واقع دیہات میں مساجد کے ذریعے اعلانات کروانے کی ہدایات جاری کی گئی ہیں تاکہ مقامی سطح پر بروقت اطلاعات پہنچائی جا سکیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: علاقوں میں

پڑھیں:

وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان

اسلام آباد:

نئے مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے حکومت نے فاٹا اور پاٹا کو حاصل مختلف ٹیکس رعایتوں میں مزید توسیع نہ دینے کا اصولی فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 30 جون 2026ء کے بعد انکم ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ ختم ہو سکتا ہے۔

ذرائع کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان آئندہ مالی سال کے بجٹ کے حوالے سے جاری مذاکرات میں آئی ایم ایف نے ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتوں میں مزید کمی کا مطالبہ کیا ہے۔ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس کی چھوٹ اور رعایتیں مزید کم کرنے سے تقریباً 40 ارب روپے حاصل ہونے کا امکان ہے۔

وفاقی حکومت نے 30 جون 2026ء کے بعد ٹیکس چھوٹ میں مزید توسیع نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے اور آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف ٹیکس استثنیٰ ختم کر کے محصولات اکٹھے کرنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق سابق فاٹا اور پاٹا کے لیے انکم ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گا جبکہ یکم جولائی 2026ء کے بعد فاٹا اور پاٹا کے رہائشی افراد اور کمپنیوں پر عام ٹیکس قوانین لاگو ہونے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فاٹا اور پاٹا میں سیلز ٹیکس بھی مرحلہ وار بڑھائے جانے کا امکان ہے اس سلسلے میں سابق فاٹا اور پاٹا کی صنعتوں پر سیلز ٹیکس 10 فیصد سے بڑھا کر 12 فی صد کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے جبکہ سابق قبائلی علاقوں میں درآمدی صنعتی خام مال پر بھی 12 فی صد سیلز ٹیکس عائد ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق فاٹا اور پاٹا کے لیے ود ہولڈنگ ٹیکس استثنیٰ بھی یکم جولائی 2026ء کو ختم ہونے کا امکان ہے۔

الیکٹرک گاڑیوں کے سی کے ڈی کٹس پر سیلز ٹیکس چھوٹ یکم جولائی 2026ء سے ختم ہونے کا امکان ہے جبکہ مقامی طور پر تیار یا اسمبل کی جانے والی الیکٹرک گاڑیوں پر ایک فی صد سیلز ٹیکس 30 جون 2026ء تک نافذ رہے گا۔ اسی طرح ہائبرڈ الیکٹرک گاڑیوں پر رعایتی سیلز ٹیکس کی مدت بھی 30 جون 2026ء کو ختم ہو جائے گی اور اس میں مزید رعایت دیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

ذرائع کے مطابق قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس استثنیٰ 30 جون 2026 تک برقرار رہے گا جبکہ مقامی طور پر تیار کردہ سائلوز پر سیلز ٹیکس چھوٹ بھی 30 جون 2026 کو ختم ہو جائے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یکم جولائی سے پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی دگنی کیے جانے کا امکان ہے اس کے تحت پٹرولیم مصنوعات پر کلائمٹ سپورٹ لیوی 2.5 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 5 روپے فی لیٹر وصول کی جا سکتی ہے آئندہ مالی سال کے دوران کلائمٹ سپورٹ لیوی کی مد میں 90 ارب روپے سے زائد وصول ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ملک کے مختلف علاقوں میں بارش، گرمی اور گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات کی پیشگوئی
  • بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
  • مختلف علاقوں میں بارشیں ہی بارشیں؛محکمہ موسمیات نے پیش گوئی کردی
  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • سندھ، پنجاب اور کے پی کے مختلف شہروں میں بارش اور مٹی کا طوفان
  • محکمہ موسمیات نے تیزہواؤں اور گرج چمک کیساتھ بارش کی پیش گوئی کردی
  • میرپور آزاد کشمیر ، مری ، کھاریاں سمیت ملک کے کئی علاقوں میں تیز ہواؤں کیساتھ بارش
  • گرمی کی شدت میں اضافہ ہوتے ہی بجلی مزید مہنگی ہونے کا امکان
  • 5 جون تک پنجاب کے متعدد اضلاع میں آندھی، شدید ژالہ باری کا امکان، الرٹ جاری
  • وفاقی بجٹ میں سابق قبائلی علاقوں کے لیے ٹیکس استثنیٰ ختم کیے جانے کا امکان