اسلحہ و شراب برآمدگی کیس میں علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری معطل
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
—فائل فوٹو
جوڈیشل مجسٹریٹ اسلام آباد مبشر حسن چشتی نے اسلحہ اور شراب برآمدگی کیس میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری معطل کر دیے۔
علی امین گنڈاپور کے خلاف اسلحہ و شراب برآمدگی کیس کی سماعت جوڈیشل مجسٹریٹ اسلام آباد مبشر حسن چشتی نے کی۔
دوران سماعت وکیل راجہ ظہورالحسن نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے 3 جولائی تک علی امین گنڈاپور کی ضمانت منظور کر رکھی ہے، علی امین گنڈاپور کے عدالت پیش ہونے پر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری معطل کیے جائیں۔
جج نے سوال کیا کہ 342 کے سوالنامے کے جواب جمع کرا دیں، کب تک جواب جمع کروائیں گے؟
علی امین گنڈاپور نے یقین دہانی کرواتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے بجٹ کے بعد جواب عدالت میں جمع کروادیں گے۔
جس کے بعد عدالت نے علی امین گنڈاپور کے پیش ہونے پر ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری معطل کر کے کیس کی سماعت 2 جولائی تک ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ علی امین گنڈاپور کے خلاف تھانہ بارہ کہو میں اسلحہ اور شراب برآمدگی کا کیس درج ہے۔
آڈیو لیک کیس: علی امین پر 2 جولائی کو فرد جرم عائد کی جائے گیدوسری جانب علی امین گنڈاپور پر آڈیو لیک کیس میں 2 جولائی کو فرد جرم عائد کی جائے گی۔
علی امین گنڈاپور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نصر من اللّٰہ بلوچ کی عدالت میں پیش ہوئے۔ آڈیو لیک کیس میں علی امین گنڈا پور کے مسلسل عدم حاضری پر جاری وارنٹ منسوخ کر دیے گئے۔
وکیل راجہ ظہور الحسن نے عدالت میں کہا کہ علی امین گنڈاپور کی پشاور ہائی کورٹ سے حفاظتی ضمانت منظور ہو چکی ہے۔
دوران سماعت علی امین گنڈاپور نے جج سے کہا کہ سر مجھے بولنے کی اجازت ہے؟ میرا دوسری عدالت میں ایک کیس ہے وہاں بھی 2 جولائی کی تاریخ ہے۔
جس پر جج نے علی امین گنڈاپور کو کہا کہ فرد جرم کی کارروائی کےلیے آپ کی حاضری ضروری ہے۔ جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔
یاد رہے کہ علی امین گنڈاپور کی کسی شخص کے ساتھ اسلحہ سے متعلق آڈیو لیک ہوئی تھی، آڈیو لیک میں اسلحہ، لائسنس اور بندوں کی تعداد سے متعلق پوچھ رہے تھے۔
علی امین گنڈاپور کی آڈیو لیک ہونے پر تھانہ گولڑہ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری معطل علی امین گنڈاپور کے علی امین گنڈاپور کی شراب برآمدگی عدالت میں آڈیو لیک کیس میں کہا کہ
پڑھیں:
اے پی ایس شہدا کے لواحقین کو معاوضہ پیکج کی عدم ادائیگی، سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا
سپریم کورٹ آف پاکستان نے سانحہ آرمی پبلک سکول (اے پی ایس) کے شہدا کے لواحقین کو اعلان کردہ معاوضہ پیکج نہ ملنے کے معاملے پر وفاقی حکومت سے جواب طلب کرلیا ہے۔
کیس کی سماعت جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کی۔ دوران سماعت جسٹس عرفان سعادت نے ریمارکس دیے کہ درخواست 25 دن کی تاخیر سے دائر کی گئی ہے۔
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ شہدا کے لواحقین کو حکومت کی جانب سے اعلان کردہ پیکج تاحال نہیں ملا۔
اس پر جسٹس محمد علی مظہر نے ریمارکس دیے کہ اگر کوئی پیکج دیا گیا ہے تو وہ تمام متاثرہ لواحقین کو ملنا چاہیے۔
انہوں نے وفاقی حکومت کو ہدایت کی کہ وہ عدالت کو آگاہ کرے کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد ہوا ہے یا نہیں۔
سماعت کے دوران یہ بھی بتایا گیا کہ پشاور ہائیکورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہونے کے خلاف شہدا کے لواحقین کی جانب سے توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی تھی، تاہم پشاور ہائیکورٹ نے مذکورہ درخواست کو خارج کر دیا تھا۔
بعد ازاں سپریم کورٹ نے وفاقی حکومت سے جواب طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews جواب طلب سپریم کورٹ عدم ادائیگی معاوضہ پیکج وفاقی حکومت وی نیوز