بجٹ آئی ایم ایف کی نہیں عوام، وفاق اور خواتین کی خواہشات کے مطابق بنایا جائے: آصفہ بھٹو کی درخواست
اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT
---فائل فوٹو
خاتونِ اول اور رکنِ قومی اسمبلی آصفہ بھٹو زرداری نے بجٹ 26-2025ء سے متعلق کہا ہے کہ درخواست ہے بجٹ آئی ایم ایف کی نہیں عوام، وفاق اور خواتین کی خواہشات کے مطابق بنایا جائے۔
قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران اظہارِ خیال کرتے ہوئے آصفہ بھٹو زرداری نے کہا کہ بجٹ میں خواتین کے لیے مزید فنڈز رکھے جانے چاہئیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کی مسلح افواج کو خراجِ تحسین کرتی ہوں جنہوں نے دشمن کو بھرپور جواب دیا، بلاول بھٹو زرداری کو بھی خراجِ تحسین جنہوں نے مشکل وقت میں پاکستان کی نمائندگی کی۔
کراچی پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکریٹری و.
آصفہ بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ اگر کبھی دوبارہ برا وقت آیا تو ملک کی ہر عورت مرد اور بچہ ملکی دفاع کےلیے لڑے گا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سندھ 2022ء میں سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہوا، سندھ حکومت نے سیلاب متاثرین کو 21 لاکھ گھر بنا کردیے۔
آصفہ بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ہم نے خدمت کی سیاست کا انتخاب کیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: بھٹو زرداری
پڑھیں:
شدید گرمی میں سندھ میں 22 گھنٹے بجلی لوڈشیڈنگ ہو رہی ہے، شرجیل میمن
کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ اس وقت سندھ بھر کے عوام بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ سے پریشان ہیں۔ سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سندھ بھر کے عوام بجلی کی لوڈشیڈنگ کی وجہ سے پریشان ہیں، اندرون سندھ جہاں زیادہ گرمی ہے، وہاں 22، 22 گھنٹے بجلی بند کی جاتی ہے۔ شرجیل میمن نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کے علاوہ لائن لاسز پر بھی پورے علاقے کی بجلی بند کر دی جاتی ہے، جو بل نہیں بھرتا ہے صرف اس کی بجلی کاٹنی چاہیئے لیکن کے الیکٹرک، حیسکو اور سیپکو کی نا اہلی کی وجہ سے عوام کو پریشانی کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پوری دنیا میں کہیں بھی کلیکٹو پنشمنٹ نہیں ہوتی، اس معاملے پر عدالت بھی گیا اور ہائیکورٹ میں کلیکٹو پنشمنٹ کو غیر آئینی اور غیر قانونی دلوانے کے لیے پٹیشن بھی داخل کی، جو زیر التوا ہے۔ سندھ کے سینئر وزیر نے مزید کہا کہ بجلی کمپنیوں نے انفرا اسٹرکچر پر خرچہ نہیں کیا، پورا ٹرانسفارمر ہی اتار لیتے ہیں، کمپنیاں فائدہ کما رہی ہیں تو اپنے انفرا اسٹرکچر پر بھی خرچ کریں۔