Islam Times:
2026-06-03@05:20:19 GMT

ایران کی زیر زمین تنصیبات کو کچھ نہیں ہوا، پیوٹن

اشاعت کی تاریخ: 19th, June 2025 GMT

ایران کی زیر زمین تنصیبات کو کچھ نہیں ہوا، پیوٹن

روسی صدر نے کہا کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہر ایک کے لیے یہ درست ہوگا کہ وہ دشمنی کو ختم کرنے کے طریقے تلاش کرے اور اس تنازعے کے تمام فریقوں کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ معاہدے پر پہنچنے کے طریقے تلاش کرے۔ اسلام ٹائمز۔ روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے کہا ہے کہ ایرانی معاشرہ ملک کی قیادت کے گرد مضبوط ہو رہا ہے اور غیر معمولی اسرائیلی حملوں کے باوجود ایران کی زیر زمین یورینیم افزودہ کرنے کی تنصیبات اب بھی برقرار ہیں۔ پیوٹن نے کہا کہ تمام فریقین کو کشیدگی کے خاتمے کے طریقوں پر غور کرنا چاہیے جس سے ایران کے پرامن جوہری طاقت کے حق اور اسرائیل کے ملک کی غیر مشروط سلامتی کے حق دونوں کو یقینی بنایا جا سکے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کے اس بیان کے بارے میں پوچھے جانے پر کہ ایران میں حکومت کا تختہ الٹنا اسرائیل کے فوجی حملوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کے مطالبے کا نتیجہ ہو سکتا ہے، پوٹن نے کہا کہ کسی بھی چیز کو شروع کرنے سے پہلے ہمیشہ یہ دیکھنا چاہئے کہ اصل مقصد حاصل کیا جا رہا ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم آج ایران میں داخلی سیاسی عمل کی تمام پیچیدگیوں کے ساتھ یہ دیکھ رہے ہیں۔ پوٹن نے شمالی روسی شہر سینٹ پیٹرزبرگ میں سینئر نیوز ایجنسی کے ایڈیٹرز کو بتایا کہ ملک کی سیاسی قیادت کے ارد گرد معاشرے کا استحکام ہے۔

پیوٹن نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر ٹرمپ اور نیتن یاہو کے ساتھ رابطے میں ہیں اور انہوں نے تنازع کے حل کے بارے میں ماسکو کے خیالات سے آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی زیر زمین یورینیم افزودہ کرنے کی تنصیبات اب بھی برقرار ہیں۔ پیوٹن نے کہا کہ یہ زیر زمین تنصِبات موجود ہیں، ان کو کچھ نہیں ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ تمام فریقین کو ایک ایسا حل تلاش کرنا چاہئے جو ایران اور اسرائیل دونوں کے مفادات کو یقینی بنائے۔ پیوٹن نے کہا کہ مجھے ایسا لگتا ہے کہ ہر ایک کے لیے یہ درست ہوگا کہ وہ دشمنی کو ختم کرنے کے طریقے تلاش کرے اور اس تنازعے کے تمام فریقوں کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ معاہدے پر پہنچنے کے طریقے تلاش کرے۔ میری رائے میں، عام طور پر، اس طرح کا حل تلاش کیا جا سکتا ہے۔ پیوٹن نے یہ بھی کہا کہ ایران ماسکو سے فوجی مدد حاصل نہیں کر رہا ہے۔ پیوٹن نے کہا کہ ایران ہم سے کسی قسم کی فوجی مدد کا مطالبہ نہیں کر رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں جب ہم نے مشترکہ طور پر فضائی دفاعی نظام تیار کرنے کی پیش کش کی تھی تو ایران کی جانب سے اس میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: کے طریقے تلاش کرے ایران کی انہوں نے کہ ایران کے ساتھ رہا ہے کے لیے اور اس

پڑھیں:

ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں

حاصل مطالعہ
عبدالرحیم

ٹرمپ نے اسرائیل کو کاک پٹ سے نکال کراکانومی میں بٹھا دیا ہے جس کے اسرائیل اور خاص طور پر وزیر اعظم کیلئے ممکنہ اہم نتائج نکلیں گے۔انہیں اس سال دوبارہ انتخاب کیلئے محنت طلب جنگ کا سامنا ہے۔نتن یاہو نے طویل عرصے سے اسرائیلی ووٹرز سے کہا ہوا ہے کہ وہ ٹرمپ سے سرگوشی کرتا ہے اور صدر کی حمایت برقرارکھنے کی اہلیت رکھتا ہے۔ جنگ کے ابتدائی دنوں میں ٹیلی ویژن پر تقریر میںانہوں نے اپنے آپ کو صدر کا ہم رتبہ قرار دیا اور اسرائیلیوں کو یقین دلایا کہ ان کی ٹرمپ سے تقریباً روزانہ بات چیت ہوتی ہے،خیالات اور مشورہ کا تبادلہ ہوتا ہے اور وہ اکٹھے فیصلہ کرتے ہیں۔
اے آئی اور بے روزگاری
یہ امر واضح ہے کہ اے آئی ہماری روزمرہ کی زندگیوں کی دوبارہ تشکیل کرے گی۔گولڈ مین ساچز کے اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگلے عشرے میں اے آئی موجودہ کام کے گھنٹوں کے25 فی صد کو خودکار بنا دے گی۔ وہائٹ کالر جابز میں لوگ مثلاً اکائونٹنٹس ، بینکرز اور وکلاء اپنے بہت سے کام خودکار پائیںگے،اسٹین فورڈ کے ایک جائزہ کے مطابق سافٹ ویئر انجینئرنگ ،کسٹمر سروس اورانٹری لیول کے روزگار میں16 فیصد کمی آئی ہے۔اقتصادی ماہرین کا اندازہ ہے کہ ڈیٹا سینٹرز کیلئے بڑھتی ہوئی طلب نے2022 سے 2 لاکھ سے زائد کنسٹرکشن روزگارپیدا کیا ہے۔ تین وجوہ ایسی ہیں کہ عالمی معیشت مشکلات سے جلد بحال ہونے کی قوت رکھے گی اور فعال رہے گی۔ اول، اے آئی25 فیصد روزگار کا خاتمہ نہیں کرے گی۔ اس امر کا امکان ہے کہ لوگ اپنا وقت گزارنے کیلئے زیادہ بار آور طریقے تلاش کر لیں گے۔ پہلے ایک بینکنگ تجزیہ نگار کو ایک اسٹاک کی کارکردگی کا گراف بنانے کیلئے 6 گھنٹے لگتے تھے۔ اسے وال اسٹریٹ جرنل کے گزشتہ شمارے دیکھنا پڑتے تھے ،آج ایک تجزیہ نگاریہ کام سیکنڈوں میں کر سکتا ہے۔
دوم، کسی جاب کی کوئی جگہ لے سکتا ہے۔کا یہ مطلب نہیں کہ ایسا ہوگا۔ ٹیلی ویژن میں لائیو انٹرٹینمنٹ کی طلب ختم نہیں ہوئی،نہ ہی انٹرنیٹ نے رئیل اسٹیٹ ایجنٹس یا فٹنس انسٹرکٹرز کا کام ختم کیا۔
سوئم، امریکی کمپنیاں سالانہ ڈھائی کروڑ اور ساڑھے تین کروڑ جابز ختم اور پیدا کرتی ہیں کیونکہ اے آئی چیزوں کوزیادہ جدت پسند بناتی ہے۔ معیشت اپنے آپ کو ڈھالتی رہتی ہے۔
بھارت کے نوجوانوں کیلئے غیر متوقع آواز
ابھیجیت دیپکے نے ڈیجیٹل گروپ کاکروچ جنتاپارٹی اس لئے قائم کی کہ بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ نے بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ کہہ کر پکارا تھا۔طنزیہ کاکروچ جنتاپارٹی ان نوجوانوں کو اپیل کرتی ہے جنہیں حکومت نے نظر انداز کیا ہے۔دوتین ہفتے قبل ابھی جیت دیپکے امریکہ میں ان ہزاروں بھارتی طلبہ میں ایک تھا جس کے پاس نئی گریجویٹ ڈگری تھی اور ملازمت کا خواہشمند تھا۔ پھر ایک کاکروچ نے اس کی زندگی بدل دی۔اس کی ابتدا ایک سوال سے ہوئی۔اجیت دیپکے بوسٹن یونیورسٹی میں پبلک ریلیشنز پرگرام کا 30 سالہ گریجویٹ تھا۔اس نے16 مئی کو ایکس پر پوسٹ کیاکہ کیا اگر تمام کاکروچز اکٹھے ہو جائیں؟وہ ایک روز قبل بھارت کے چیف جسٹس سریا کانٹ کے کمنٹس کا جواب دے رہا تھا جنہوں نے نوجوان اور بے روزگار بھارتیوں کو کاکروچز کہا تھا جو ملازمتیں حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وہ سوشل میڈیا پرشکایت کرتے ہیں اور سرگرم ارکان بن کر سسٹم پر نکتہ چینی کرتے ہیں۔
ہزاروں جواب سے حوصلہ افزائی پاکر جنہوں نے اس کی کال کی توثیق کی،اجیت دیپکے نے اپنی ویب سائٹ پر اے آئی اور دوستوں کی مددسے دو گھنٹے میںمذاق مذاق میںکروچ جنتاپارٹی کا آغاز کیا۔مقصد نوجوانوں کیلئے تحریک پیدا کرناتھا جنہیںسست اور آن لائن پر اور حال ہی میں کروچز کہا جانے لگا۔ لاکھوں نوجوان اس تحریک میں شامل ہو گئے جو بے عزتی کو فخر میں تبدیل کرنے کے خواہشمند تھے۔ دنوں کے اندرکروچ جنتاپارٹی کے بعض اکائونتس میں بھارت کی سب سے بڑی پارٹیوں سے زیادہ سوشل میڈیا کے فالوئرز ہوگئے۔اجیت دیپکے کے پیغام کا قبول کیا جانا بہت سے نوجوان بھارتیوں کے اداس موڈ کی بڑی کہانی بتاتاہے جو ملازمتیں تلاش کرنی کی جدوجہد کر رہے ہیں باوجودیکہ ملک دنیا کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی معیشت مسلسل4 برسوں سے ترقی کر رہی ہے۔
کاکروچ جنتاپارٹی جس کے10 لاکھ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز ہیں،ان لوگوں کو زبان دینا چاہتی ہے جنہیں کرپٹ حکومت نظر انداز کرتی ہے۔ ویب سائٹ میں کہا گیا ہے کہ ہم تحریری طور پر پوچھتے ہیں کہ پیسہ کہاں گیا؟ابھی جیت دیپکے نے ایک انٹرویو میں کہا کہ موجودہ سیاسی نظام ان کی پرواہ نہیں کرتا،خواہ سرکاری پارٹی ہو یا اپوزیشن۔ابھی جیت دیپکے اس وقت امریکہ میں ہے۔
ایپل کیا کرتا ہے؟
ایپل اپنی پروڈکٹس ڈایزائن کرتا ہے،ان کے چپس تیار کرتا ہے،آپریٹنگ سسٹم بناتا ہے،برانڈنگ،مارکیٹنگ اور ریٹیل ایکسپیرئینس کو کنٹرول کرتا ہے۔لیکن یہ مینوفیکچرکچھ نہیں کرتا ۔آئی فونز اور میک بکس کو ژینگزو میں فوکس کون اور پیگاٹرون شنگھائی میں مینوفیکچر کرتاہے۔ایڈوانسڈ چپسTSMC تائیوان میں تیار کرتی ہے جبکہ جنوبی کوریا میںسام سنگ ڈس پلے کرتا ہے۔ایپل ہر ڈیوائس سے منافع کا80 تا90 فیصد حاصل کرتا ہے جبکہ سپلائرز جوواقعی فزیکل ورک کرتے ہیں، باقی حصے پر لڑتے ہیں۔ یہ طریق کار کارپوریٹ منافع اور شیئر ہولڈرز کی قدر زیادہ سے زیادہ کرتا ہے۔
٭٭٭

متعلقہ مضامین

  • ایران کا قشم جزیرہ امریکی فوج کے نشانے پر کیوں ہے؟
  • گلگت میں نئے منصوبوں کی نگرانی خود کروں گا: نواز شریف
  • بانی سے ملاقات نہ ہوئی تو وفاقی بجٹ پاس نہیں ہونے دیں گے: سہیل آفریدی
  • ایران کے ساتھ امریکی امن مذاکرات ، اسرائیل شامل نہیں
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • ٹرمپ کے بدلتے پینترے
  • ایران کے ساتھ مذاکرات جاری ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا