TEHRAN:

ایران نے پڑوسی خلیجی ممالک کو خبردار کردیا ہے کہ امریکا کو حملے کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دینے پر حملوں کا نشانہ بن سکتےہیں۔

ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران اور اسرائیل کی جنگ کے حوالے سے حالیہ بیانات کی روشنی میں پڑوسی خلیجی ممالک کو اپنی سرزمین ان کے خلاف استعمال ہونے سے خبردار کیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایران نے قطر کے ذریعے خلیجی پڑوسی ممالک کو پیغام پہنچایا ہے اور تنبیہ کی ہے کہ اگر ایران کے خلاف امریکی حملے میں ان کی سرزمین استعمال ہوئی تو حملے کے لیے جواز بن سکتا ہے۔

امریکا کے عرب سرزمین متعدد ملٹری بیسز ہیں، جن میں بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن اور سعودی عرب سمیت خلیج فارس بھر میں کئی مراکز ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ بیانات میں ایران پر حملوں کے حوالے سے مبہم بات کی ہے اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کسی بھی موقع پر اسرائیل کی مدد کے لیے جنگ میں کود سکتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل الزام تراشی کر رہے ہیں ایران جوہری میزائل بنانے کی تیاری کر رہا ہے جبکہ امریکی میڈیا کی متعدد رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ان کے کئی مشیروں نے ایران اور اسرائیل کی جنگ میں براہ راست شامل ہونے سے منع کر رہے ہیں اور ٹرمپ کو ایران پر حملے کے حوالے سے مخالفت کا سامنا ہے۔

دوسری جانب ایران پہلے امریکا کو واضح کرچکا ہے کہ براہ راست حملے کی صورت میں سنگین نتائج رونما ہوں گے۔

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے قوم کو اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ایرانی قوم کسی بھی مسلط کردہ جنگ کے خلاف چٹان کی طرح کھڑی رہے گی۔

خامنہ ای نے کہا کہ جو دانائی کے ساتھ ایران، اس کے عوام اور طویل تاریخ کو اچھی طرح جانتے ہیں وہ کبھی بھی اس قوم سے دھمکی آمیز لہجے میں بات نہیں کرتے، ایران ہار نہیں مانے گا۔

ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ امریکا کو سمجھ لینا چاہیے کہ کسی بھی عسکری مہم جوئی کی صورت میں ناقابل تلافی نتائج کا سامنا کرنا ہوگا۔

یاد رہے کہ ایران ماضی میں عراق میں قائم امریکی بیس عین الاسد کو نشانہ بنا چکا ہے، یہ سرجیکل حملہ جنوری 2020 میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کے بعد کیا گیا تھا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کو ممالک کو

پڑھیں:

امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں

امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ امریکی محکمہ خزانہ نے ایران سے متعلق نئی پابندیاں عائد کر دی ہیں، چار ایرانی شہریوں اور چار کرپٹو ایکسچینجز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ان کمپنیوں سے لین دین کرنے والے غیر ملکی مالیاتی ادارے اور افراد بھی پابندیوں کی زد میں آسکتے ہیں۔ دوسری طرف ایرانی خبر ایجنسی نے کہا ہے کہ ایران نے امریکا کے مجوزہ حتمی منصوبے پر اب تک کوئی جواب نہیں بھیجا ہے۔

مہر نیوز کی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی مجوزہ منصوبے پر ایران میں بات چیت جاری ہے، امریکی تجویز کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ ایرانی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ماضی کے تجربات کی بنیاد پر، ایران ٹھوس اور حقیقی فوائد حاصل کرنے کا خواہاں ہے۔

متعلقہ مضامین

  • اب وقت آگیا، دونوں ممالک کسی نہ کسی شکل میں ایک معاہدے تک پہنچ جائیں، ٹرمپ کا ایران کو پیغام
  • امریکا کا ایران پر نیا وار، 4 ایرانی شہریوں اور کرپٹو کمپنیوں پر سخت پابندیاں عائد
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • آبنائے ہرمز میں کشیدگی میں اضافہ: قشم جزیرے پر امریکی حملے، ایران کے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف پر وار
  • ایرانی جزیرے پر امریکی حملے کے بعد ایران کا جوابی وار، بحرین، عراق اور قطر میں سائرن بج گئے
  • امریکی محکمہ خزانہ نے ایران پر نئی پابندیاں عائد کر دیں
  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • اسرائیل کی عدم آمادگی امریکا ایران معاہدے کو خطرے میں ڈال سکتی ہے، تجزیہ کار
  • ایران کے جوہری پروگرام پر انتہائی ٹیکنیکل مذاکرات میں مہینے لگ سکتے ہیں، امریکی وزیرخارجہ
  • ایران سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں، معاہدے کا حتمی نہیں کہہ سکتے، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو